آفریدی حکومت کا خاتمہ: افغان مہاجرین مشکل میں کیوں؟

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور ان کے خلاف ریاستی کارروائیوں میں تیزی آنے لگی ہے۔ رہائش اور کاروبار کے مسائل سنگین ہونے کے ساتھ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو کرائے پر مکانات اور دکانیں فراہم کرنے والے پاکستانی شہری بھی ممکنہ کارروائیوں کے خدشات سے دوچار ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے تمام بڑے کاروباری اداروں اور رہائشی علاقوں میں چھاپوں کا سلسلہ تیز کیا جا رہا ہے، جبکہ غیر رجسٹرڈ افغانوں کی گرفتاریوں اور ملک بدری میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آفریدی حکومت کے دور میں افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں زیادہ تر وفاقی اداروں تک محدود تھیں، تاہم صوبے میں انتظامی تبدیلی کے بعد مقامی سطح پر بھی ریاستی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ بعض افغان خاندانوں کو پاکستانی تاجروں کے ساتھ خاندانی تعلقات اور کاروباری شراکت داری کے باعث رہائش اور روزگار کے معاملات میں سہارا حاصل تھا، لیکن اب ان میں سے بعض پاکستانی شہریوں نے بھی گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں کے خدشات کے پیش نظر مزید تعاون سے گریز شروع کر دیا ہے۔
ایسے میں افغان شہریوں کے لیے خیبر پختون خوا میں قیام کرنا اور اپنا کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ موسم سرما کے آغاز نے بھی ان افغان مہاجرین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جو افغانستان واپس جانے کے لیے تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق افغانستان کے بعض علاقوں میں شدید سردی اور وہاں درپیش مشکلات کے باعث یہ افراد واپسی سے گریزاں ہیں، لیکن دوسری جانب پاکستانی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلت، گرفتاریوں اور رہائش کے محدود ہوتے مواقع نے انہیں غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے ایک طرف پاکستان میں قیام جاری رکھنا دشوار ہو رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان واپسی کے حوالے سے بھی تحفظات موجود ہیں۔
پشاور کے اندرون شہر اور مختلف رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں پشاور سٹی، یونیورسٹی روڈ اور حیات آباد کے علاقوں میں ہزاروں گھروں اور فلیٹس کے مالکان کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی تفصیلات فراہم کرنے اور ان سے مکانات خالی کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے مالکان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کے باعث مکان مالکان اور کرایہ داروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے سات ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب اشرف روڈ، آنا مارکیٹ، خیبر بازار اور نمک منڈی سمیت مختلف تجارتی علاقوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے والے افغانوں کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رہائشی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، جبکہ پاکستانی شہریوں کو بھی ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو مکان یا دکان کرائے پر دینے سے گریز کریں، بصورت دیگر انہیں بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کارروائیوں سے پشاور میں رکشہ اور ٹیکسی چلانے والے افغان شہری بھی متاثر ہونے کے خدشات سے دوچار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے متعدد افراد طویل عرصے سے شہر میں مقیم اور مقامی ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، جس کے باعث بعض اوقات ان کی شناخت اور قانونی حیثیت کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کارخانو مارکیٹ سے مسافروں کو حاجی کیمپ اڈے تک لے جانے والے بعض افغان ٹیکسی ڈرائیوروں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے معمول کی سواریوں کے بجائے نجی بکنگ شروع کر دی ہے تاکہ کارروائیوں سے بچ سکیں، تاہم ذرائع کے مطابق اس شعبے سے وابستہ افغان شہری بھی حکومتی اقدامات کی زد میں آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی تاجروں کے ساتھ کاروباری شراکت داری رکھنے والے بعض افغان شہریوں کو بھی اب اپنے کاروبار، دکانوں اور رہائش کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے، جبکہ انہیں سہولت فراہم کرنے والے پاکستانی شہری بھی ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے محتاط ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں انتظامی تبدیلی کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی اور ان کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گرفتاریوں، ملک بدری، رہائشی املاک کے مالکان کو نوٹسز اور کاروباری مراکز میں چھاپوں کے باعث صوبے میں مقیم غیر رجسٹرڈ افغان خاندانوں کے لیے حالات مزید مشکل ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی مکان مالکان، دکانداروں اور کاروباری شراکت داروں کو بھی اس صورت حال میں اپنے قانونی اور مالی مفادات کے تحفظ کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔
