پاکستان نے افغان تاجروں کے کنٹینرز کی نیلامی کیوں روکی؟

کراچی بندرگاہ پر پھنسے افغان تاجروں کے سینکڑوں کنٹینرز میں موجود سامان کی نیلامی شروع ہونے کے بعد پاکستان کسٹمز نے یہ عمل روک دیا ہے۔ کسٹمز نے یہ کارروائی پاک افغان چیمبر آف کامرس کی درخواست پر کی یے، دوسری جانب افغان تاجروں کا مؤقف ہے کہ پاک افغان سرحدی بندش، بھاری ٹیکسوں اور مہنگے گوداموں کے ناقابل برداشت اخراجات نے انہیں درآمدی سامان کی بربادی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

یاد ریے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور ٹرانزٹ راستے بند ہونے کے باعث کراچی بندرگاہ پر پھنسے افغان تاجروں کے سامان کی نیلامی چند روز قبل شروع کی گئی تھی۔ بی بی سی پشتو کے مطابق نیلامی کرنے والی کمپنی کی جانب سے جاری تصاویر میں کنٹینرز کے دروازے کھول کر ان کے اندر موجود سامان خریداروں کو دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سامان پاک افغان سرحدی راستے بند ہونے کے بعد ایک طویل عرصے سے بندرگاہ پر موجود تھا۔ اس سامان پر ٹیکسوں، گوداموں اور دیگر اخراجات کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا تھا، لیکن افغان تاجر اپنے کنٹینرز چھڑانے میں ناکام رہے۔

پاکستان کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ عرفان جاوید نے تصدیق کی یے کہ افغان تاجروں کے کنٹینرز کی نیلامی غیر قانونی قرار دے کر روک دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پاک افغان چیمبر آف کامرس کی درخواست پر صرف کراچی بندرگاہ ہی نہیں بلکہ طورخم اور چمن کی سرحدوں پر روکے گئے کنٹینرز کی نیلامی بھی روک دی گئی یے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کراچی بندرگاہ پر افغان تاجروں کے کتنے کنٹینرز اب بھی پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے کتنے کنٹینرز کے سامان کی نیلامی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

افغان تاجر مطیع اللہ نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیلامی کا عمل چند روز قبل شروع ہوا تھا۔ ان کے مطابق افغان تاجروں کے سامان کو مالکان کو اطلاع دینے اور قانونی نوٹس جاری کرنے کے بعد نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ تاجروں کے پاس اب بھی عدالت سے رجوع کرنے اور اپنے سامان کی نیلامی رکوانے کا راستہ موجود ہے۔ دوسری جانب افغانستان چیمبر آف کامرس کے حکام نے اس کارروائی کو علاقائی اور بین الاقوامی تجارتی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔

افغانستان کے شعبۂ تجارت سے وابستہ سابق عہدیدار یونس مومند کا کہنا ہے کہ نیلامی کے لیے پیش کیا گیا سامان ان کھیپوں کا حصہ ہے جنہیں افغان تاجر بھاری ٹیکسوں اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات کے باعث کراچی بندرگاہ سے نہیں نکال سکے۔ ان کے مطابق سرحدی بندش اور اضافی مالی بوجھ نے تاجروں کے لیے اپنے مال کو چھڑانا مشکل بنا دیا ہے۔ اس صورت حال نے ان تاجروں کو بھی متاثر کیا ہے جنہوں نے تیسرے ممالک سے سامان درآمد کیا تھا اور اسے پاکستان کے راستے افغانستان منتقل کرنا تھا۔

یاد ریے کہ پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں افغان ٹرانزٹ تجارت کے تحت پھنسے ہوئے سامان کو ملک سے منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس انتظام کے تحت افغان تاجر کراچی اور دیگر پاکستانی بندرگاہوں پر موجود اپنے کنٹینرز واپس ان ممالک میں بھیج سکتے تھے جہاں سے سامان درآمد کیا گیا تھا، یا انہیں کسی دوسرے ملک منتقل کر سکتے تھے۔ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے مطابق اس وقت پاکستان کی بندرگاہوں پر افغان تاجروں کے تقریباً 15 ہزار کنٹینرز پھنسے ہوئے تھے۔ پاک افغان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے حکام نے فروری میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان میں سے 60 فیصد سے زیادہ سامان واپس بھیجا جا چکا تھا، جبکہ کچھ کھیپیں ایران کی چابہار اور بندر عباس بندرگاہوں کی طرف منتقل کی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت متعدد بار پاکستان پر الزام عائد کر چکی ہے کہ وہ تجارتی اور ٹرانزٹ راستوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحدی راستے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کیے گئے ہیں۔ راستوں کی بندش سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سامان کی نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔ طالبان حکومت کی وزارت صنعت و تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2024 میں 2.5 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں کم ہو کر 1.5 ارب ڈالر رہ گیا۔ افغان حکام کے مطابق رواں سال تجارتی اور ٹرانزٹ راستوں کی بندش نے اس شعبے کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

کراچی بندرگاہ پر سامان کی نیلامی کا معاملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تجارتی تعلقات میں ایک نیا تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف پاکستانی حکام نے پاک افغان چیمبر آف کامرس کی درخواست پر نیلامی روکنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دوسری جانب افغان تاجروں کو اپنے سامان کی واپسی، اضافی اخراجات اور ممکنہ مالی نقصان کے مسائل کا سامنا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ نیلامی کی معطلی کے بعد پھنسے ہوئے کنٹینرز کی منتقلی اور تاجروں کے سامان کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں اور آیا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے کھلنے سے اس بحران کا کوئی مستقل حل نکل سکتا ہے۔

 

Back to top button