عمران وزیرآباد حملہ کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے انکاری

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر آباد حملہ کیس کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا۔سابق وزیراعظم عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے حوالے سے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہا کہ کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے ابھی تک سابق وزیر اعظم کا بیان بھی قلمبند نہیں کیا جس وجہ سے اب تک مقدمے کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع نہیں کروایا جا سکا۔
عمران خان کی مرضی سے پرویزالٰہی کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اس فیصلے پر نہیں پہنچی کہ آیا عمران خان کا بیان ریکارڈ کرنا ہے یا نہیں، ویسے بھی خان صاحب نے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے رابطہ نہیں کیا۔
حملے کے مقدمے کی تفتیش اب تک اِسی بحث سے آگے نہیں نکل پائی کہ آیا سابق وزیر اعظم کو چار گولیاں لگی تھیں یا محض گولیوں کے ٹکڑے، حملہ آور ایک تھا یا ایک سے زیادہ اور حملہ ایک طرف سے ہوا یا مختلف اطراف سے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بظاہر متعلقہ حکام اور سیاسی جماعتیں اس مقدمے کی تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کم اور اس معاملے پر سیاست اور ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔
جائے وقوعہ سے گرفتار ہونے والے ملزم نوید احمد کا پولیس کی حراست میں دیا گیا اعتراف جرم پر مبنی ویڈیو بیان ہو، عمران خان کا فوری طبی امداد کے لیے کسی قریبی ہسپتال کے بجائے لاہور کے شوکت خانم ہسپتال پہنچنا ہو، یا اس واقعے میں معظم گوندل نامی شہری کی ہلاکت، یہ سب ایسے واقعات ہیں جنھیں اب بظاہر فقط سیاسی مقاصد اور پوائنٹ سکورنگ کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اُن کی جماعت کے دیگر رہنما اسی ایک نکتے پر بضد ہیں کہ یہ حملہ ’سوچا سمجھا منصوبہ‘ تھا جس کے لیے حکمران جماعت نے باقاعدہ اور منظم منصوبہ بندی کی۔
