فاطمہ بھٹو اور بھٹو جونیئر کی سیلاب متاثرین کیلئے فنڈ ریزنگ

پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے امداد جمع کرنے والوں میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور انکی بہن فاطمہ بھٹو نے بھی حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں موجود ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ سیلاب متاثرین کی مدد کرتے اور ان کے لیے چندہ اکٹھا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب انکی بڑی بہن فاطمہ بھٹو نے امریکہ میں اپنی دوست منال منشی کے ساتھ مل کر ’’انڈس ریلیف 2022‘‘ کے نام سے فنڈ ریزنگ مہم شروع کی ہے اور ’’آن لائن‘‘ عطیات جمع کرانے کیلئے اکاؤنٹ بھی کھول لیا، اُن کی جانب سے ’’گو فنڈ‘‘ پر بنائے گئے اکاؤنٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب سے ہر 6 میں سے ایک پاکستانی متاثر ہوا ہے اور راتوں رات سینکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔

آن لائن فنڈ کے پیج پر فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سیلاب سے صوبہ سندھ بُری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ متاثرین کی بحالی کیلئے فنڈز جمع کر رہے ہیں، جسے بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن اور لیگل ایڈ سوسائٹی سمیت دیگر فلاحی تنظیموں کو دیا جائے گا جبکہ فنڈز کا کچھ ح

صہ ہسپتالوں کو بھی دیا جائے گا تاکہ متاثرین کا علاج ہو سکے۔

فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی جانب سے بنائے گئے فنڈ پیج پر دنیا بھر کے لوگوں کو عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ فنڈز جمع کرانے والے افراد اپنے عطیات سے متعلق اپڈیٹ حاصل کرنے کیلئے ’’انڈس ریلیف‘‘ پیج کے انسٹا گرام کو وزٹ کرتے رہیں۔

ابتدائی فنڈز کیلئے 35 ہزار پاؤنڈز کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے جبکہ ’’انڈس ریلیف‘‘ کے تحت مختلف فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات کے ساتھ آن لائن پروگرام بھی کیے جائیں گے جن سے حاصل ہونے والی کمائی بھی فنڈز کیلئے مختص کی جائے گی۔

’’انڈس ریلیف‘‘ کے تحت پاکستانی نژاد برطانوی ناول نگار محسن حامد کے ہمراہ ایک آن لائن پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے، جس کیلئے پروگرام کو سننے والے تمام افراد کو فنڈز فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس کے منتظمین کی جانب سے بیرون ملک رہنے والے افراد کو پروگرام سننے کے لیے 45 پاؤنڈ جبکہ پاکستان میں رہنے والے افراد کو 3500 روپے تک جمع کروانے کی اپیل کی گئی ہے، ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس سے زیادہ رقم جمع کروائیں، تاکہ متاثرین کی جلد بحالی کے اقدامات شروع کر دیئے جائیں۔

خیال رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور فاطمہ بھٹو کے علاوہ بھی کئی شخصیات فنڈز جمع کرنے میں مصروف ہیں جبکہ بھٹو جونیئر کو سندھ کے سیلاب متاثرین کے ساتھ بھی ان کا ہاتھ بٹاتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی ویڈیوز وائرل ہونے پر ان کی تعریفیں کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے محرم کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو وائرل ہوئی تھیں جن میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو کراچی میں 70 کلفٹن پر لنگر تقسیم کرتے اور پھر برتن دھوتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ہیں جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے تھے۔

مرتضیٰ نے اپنے والد کی پھانسی کے بعد کابل میں جلا وطنی کاٹی۔ اسی دوران 1981 میں مرتضیٰ بھٹو نے دری نسل سے تعلق رکھنے والے افغان وزارت خارجہ کے ایک افسر کی صاحبزادی فوزیہ فصیح الدین سے شادی کی جن سے اُن کی بڑی صاحبزادی فاطمہ بھٹو 29 مئی 1982 کو پیدا ہوئیں۔

سیلاب زدگان کیلئے ملنے والی امداد شفافیت سے خرچ ہوگی

فاطمہ بھٹو تین برس کی تھیں کہ مرتضیٰ بھٹو اور فوزیہ بھٹو میں علیحدگی ہوگئی اور مرتضی ٰفاطمہ بھٹو کے ہمراہ شام منتقل ہو گئے۔ شام میں میر مرتضیٰ بھٹو کی ملاقات غنویٰ بھٹو سے ہوئی اور 1989 میں دونوں نے شادی کرلی۔ غنویٰ بھٹو مرتضیٰ بھٹو کے فرزند ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی والدہ ہیں جو کہ بھٹو خاندان سے نفرت کرتی ہیں اور یہ نفرت انھوں نے اپنے بچوں میں بھی منتقل کر دی ہے۔

Related Articles

Back to top button