سندھ طاس معاہدہ : پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن کےلیے خطرناک ہے ، مصدق ملک

 

 

 

 

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ مرالہ ہیڈ ورکس پر کبھی بھارت کی جانب سے انتہائی کم پانی چھوڑا جاتا ہے اور کبھی اچانک سیلابی ریلہ آجاتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول ہے۔پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کےلیے خطرناک رجحان ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتےہوئے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھاکہ دریائے نیل ہو، دریائے فرات یا دریائے سندھ، دنیا کے مختلف خطوں میں پانی سے متعلق چیلنجز ایک جیسے ہیں،اس لیے یہ مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ مرالہ ہیڈ ورکس پر کبھی بھارت کی جانب سے انتہائی کم پانی چھوڑا جاتا ہے اور کبھی اچانک سیلابی ریلہ آجاتا ہے،جس سے واضح ہوتا ہےکہ اصل مسئلہ موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول ہے۔ انہون نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کےلیے خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کررہا ہے بلکہ وہ دنیا میں آلودگی پھیلانےوالے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔بھارتی اقدامات کے باعث پاکستان میں چھ ہزار افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے، جب کہ اتنی بڑی انسانی قیمت کئی جنگوں میں بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔اگر اتنا مضبوط معاہدہ بھی برقرار نہ رہ سکا تو پھر دنیا کا کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہےگا اور کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھاکہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کےلیے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرچکا ہے،جہاں عدالت متعدد واضح فیصلے دے چکی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی ملک سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، نہ ہی پاکستان کے حصے کے دریاؤں کے بہاؤ کا رخ موڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان دریاؤں پر ایسے آبی ذخائر تعمیر کرسکتا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہوں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن اور آبی تعاون کی بنیاد ہے : عطا اللہ تارڑ

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ اگر سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گےبلکہ دنیا کےہر اس ملک کو خطرہ لاحق ہوجائے گا جو بالائی اور زیریں دریائی نظام پر انحصار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی آبی تحفظ،بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کا معاملہ ہے۔

 

Back to top button