پاکستانی فنکار 60 برس کی عمر میں بھی جوان کیسے ہیں؟

’’ابھی تو میں جوان ہُوں‘‘، پاکستانی فنکاروں کی اکثریت زندگی کی 60 بہاریں دیکھنے کے بعد بھی جواں عمری کی طرح تندرستی اور پوری صحت کے ساتھ امور زندگی انجام دینے میں مصروف ہے، انہیں دیکھ کر لوگ اپنی جوانی اور لڑکپن کو یاد کرتے ہیں۔بشریٰ انصاری67،بہروز سبزواری 67،زیبا شہناز71، روبینہ اشرف63، صبا حمید66،انور مقصود84 برس کی عمر میں بھی متحرک ، سہیل احمد 60،افتخار ٹھاکر65،ایاز خان68 ،شہزاد رضا 67 اور عرفان کھوسٹ 71 برس کے باوجود کم عمر دکھائی دیتے ہیں ۔ فنکاروں کی یہ خُوبی ہوتی ہے کہ وہ خود کو اس طرح فِٹ رکھتے ہیں کہ بڑھاپا ان کے قریب بھی نہیں بھٹکتا۔ان کے فینز انہیں دیکھ دیکھ کر بوڑھے ہو جاتے ہیں، مگر یہ 70اور80برس کے ہونے کے باوجود بھی جوان اور کم عمر دکھائی دیتے ہیں۔آج ہم سب سے پہلے سدا بہار فنکارہ بشریٰ انصاری کی بات کریں گے، جن کی عمر اس وقت 67برس ہے، لیکن وہ اپنی عمر کے برعکس جوان نظر آتی ہیں، صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکارہ بشریٰ انصاری کو شوبزانڈسٹری میں کام کرتے ہوئے 50برس ہوگئے ہیں، لیکن اُن کے فن میں کوئی کمی نظر نہیں آتی، وہ آج بھی تھیٹر،ٹیلی ویژن اور فلموں میں جاندار اداکاری کرتی ہوئی دِکھائی دیتی ہیں۔ بشریٰ انصاری کومزاحیہ ٹیلی ویژن پروگرام ’’ففٹی ففٹی‘‘سے غیرمعمولی شہرت ملی۔ اُس کے بعد انہوں نے معین اختر اور انور مقصود کے ساتھ مل کر درجنوں کامیاب پروجیکٹس کیے اور دُنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ڈراما سیریل ’’تاکے کی آئے گی بارات‘‘ میں انہیں ’’صائمہ چوہدری‘‘ کے کردار میں بے حد پسند کیا گیا ، علاوہ ازیں ڈراما سیریل’’اُڈاری‘‘ اور ’’تیرے بِن ‘‘ میں بھی اُن کی لاجواب پرفارمنس نے ناظرین کے دل جیت لیے تھے۔67برس کے بہروز سبزواری نے ٹیلی ویژن ڈرامے ، تنہائیاں کے کردار ، قباچہ ، سے ایسی شہرت ملی کہ قباچہ ان کا نام پڑ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بے شمار ڈراموں کے علاوہ چند فلموں میں بھی کام کیا۔صدارتی ایوارڈ یافتہ71برس کی مزاحیہ اداکارہ زیبا شہناز نے ’’ففٹی ففٹی‘‘سے اپنی پہچان بنائی، اُس وقت وہ اپنے فن کی بلندیوں پر تھیں، ڈراما سیریل ’’سچ مچ‘‘ بشر مومن‘اُمراؤ جان ادا‘سلور جوبلی شو اور اسٹیج ڈرامے ’’پردے میں رہنے دو‘بکرا قسطوں پہ، میں اُن کی دلچسپ پرفارمنس کو سراہا گیا۔ ہدایتکارہ شمیم آراء کی سپرہٹ فلم ’’مُنڈا بِگڑا جائے‘‘ میں عمدہ کردار نگاری پر زیبا شہناز کو نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔63برس کی روبینہ اشرف نے درجنوں ٹیلی ویژن ڈراموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہیں ڈراما سیریل ’’پسِ آئینہ‘کسک‘سیڑھیاں‘خدا اور محبت‘ایک ستم اور‘ ہاسٹل‘ تُم بِن کیسے جیا جائے، میں پسند کیا گیا۔ 66برس کی صبا حمید آج بھی کل کی طرح جوان نظر آتی ہیں اور اپنے ڈراموں کے کرداروں کو ڈوب کر ادا کرتی ہیں۔ صبا حمید نے ڈراموں کے ساتھ چند فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دِکھائے۔84برس کے انور مقصود نے اپنی زندگی میں اَن گنت کامیابیاں اپنے نام کیں، وہ گزشتہ 60برسوں سے ڈرامے اور شوز کر رہے ہیں، اُن کی کاٹ دار تحریر اپنا رنگ جمالیتی ہے۔صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار نے اپنی زندگی فن کے نام کررکھی ہے، اُنہیں فلم ’’سپر پنجابی‘ ٹیکسالی گیٹ‘اور ٹی وی پروگرام ’’چوہدری اینڈ سنز‘‘میں سراہا گیا۔68برس کے ایاز خان کواُداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا فن خُوب آتا ہے،67برس کے شہزاد رضا نے 50برس سے زیادہ سٹیج کو دیئے۔61 برس کے عرفان کھوسٹ کو کون نہیں جانتا۔ ٹیلی ویژن ڈراما سیریز’’اندھیرا اُجالا‘‘کا کردار ’’ڈائریکٹ حوالدار کرم داد‘‘نے اُنھیں شہرت کے ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ بعدازاں اُنہیں فلموں میں بھی پسند کیا گیا۔ شعیب منصور کی فلم ’’بول‘‘سید نور کی ’’تیرے باجرے کی راکھی‘‘یاسر نواز کی ’’رانگ نمبر ٹو‘‘میں عرفان کھوسٹ نے عمدہ پرفارمنس دی ان کے صاحبزادے سرمد کھوسٹ نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فنِ اداکاری اور ڈائریکشن میں خوب نام کمایا۔

Back to top button