میزبان فیصل قریشی کو حساس موضوع چھیڑنا مہنگا کیوں پڑ گیا؟

معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی کو رمضان ٹرانسمیشن کے دوران توہین مذہب کے حساس موضوع کو چھیڑنا مہنگا پڑ گیا، فیصل قریشی نہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی زد میں ہیں بلکہ ان پر کئی افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا بھی ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل بول ٹی وی کی رمضان نشریات میں جب چودھویں رمضان کو بول ٹی وی کے پروگرام ’عالم کے بول‘ کی نشریات کے دوران پروگرام کے اینکر فیصل قریشی نے توہین مذہب کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت لہجے اپناتے ہوئے انھیں عوامی سطح پر دکھانے اور ان کی شناخت ظاہر کرنے کی بات کی۔ اور اس پروگرام کے چند کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جس کے بعد فیصل قریشی پر نفرت انگیز تقریر کرنے اور لوگوں کو بھڑکانے کا الزام عائد کیا گیا اور پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان پر اور بول ٹی وی پر پابندی لگائے۔
بول ٹی کے اس پروگرام کا موضوع یونیورسٹی کلچر اور دین اسلام تھا، جس میں بحث سے قبل فیصل قریشی نے اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی میں بیچلر آف انجنیئرنگ کے انگریزی مضمون کے کلاس کوئز میں بہن بھائی کے درمیان جنسی تعلق سے متعلق سوال نامے کا بھی ذکر کیا تھا۔سوشل میڈیا پر فیصل قریشی پر نہ صرف لوگوں کو مذہبی بنیاد پر اشتعال دلانے بلکہ ایسے افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالنے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر فیصل قریشی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پروگرام یونیورسٹی کے کلچر کے موضوع پر تھا۔ توہین مذہب کی بات اتفاقیہ ہو گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام میں شریک مفتی نوید عباسی چونکہ ناموس رسالت کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے آرہے تھے، ایسے میں جب میں نے مفتی نوید عباسی سے اس بارے میں بات کی تو وہ تھوڑا جذباتی ہو گئے اور کچھ بات کے بعد ہم پروگرام میں بریک پر چلے گئے۔فیصل قریشی کہتے ہیں کہ بریک کے دوران میں نے مفتی نوید عباسی سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے اور اس موضوع پر کیوں بحث کر رہے ہیں۔
فیصل قریشی کہتے ہیں کہ ’بریک کے دوران مجھے ایک مخصوص گروہ کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز دکھائی گئیں جس میں مبینہ طور پر توہین مذہب کی گئی تھی اور یہ تصاویر میرے لیے ناقابل برداشت تھیں، اگرچہ میں اتنا اچھا مسلمان نہیں ہوں لیکن یہ میرے لیے بھی ناقابل برداشت تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے جب پروگرام میں یہ کہا کہ لوگوں کو بتائیں یہ کیا کر رہے ہیں تو ہم ایک محضوص گروہ کی بات کر رہے تھے اس کا مطلب ہرگز سب سے نہیں تھا۔فیصل قریشی نے واضح کیا کہ ’جب ان کے منھ سے سخت الفاظ نکلے پروگرام میں شریک مفتی صاحب نے کہا نہیں ہم ہرگز ایسا نہیں چاہتے، کچھ لوگ پکڑے بھی گئے ہیں ان کو میڈیا کے سامنے نہیں لے کر آ رہے۔
فیصل قریشی نے ایک بار پھر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا پورا پروگرام بنیادی طور پر اسی پر تھا اب کسی نے اس پروگرام کو کاٹ کر ایک بات نکال لی اور کچھ باتیں ہٹا دیں تو یہ بہت زیادتی ہوئی، انھوں نے کہا کہ عامر لیاقت کے ساتھ ان کی تصاویر لگانا غلط ہے وہ بالکل الگ مسئلہ تھا، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔
توہین مذہب جیسے موضوع کی حساسیت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب مردان میں یونیورسٹی کے نوجوان مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا گیا تو میں نے اس کے لیے پروگرام کیا تھا، میں اس وقت اے آر وائی چینل پر تھا۔
پاکستان کے فلم ساز و ہدایتکار جامی آزاد نے سوشل میڈیا پر پیمرا اور بول سے مطالبہ کیا کہ فیصل قریشی پر پابندی عائد کی جائے۔ فیصل قریشی نے جامی آزاد کے اس مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اللہ انھیں عقل دے میں نے تو نیکی کرنے کی خواہش کی ہے اس بات کو منفی انداز میں گھومایا جا رہا ہے۔
بول ٹی وی کے صدر فیصل عزیز نے بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ فیصل قریشی نے پروگرام میں دانستہ طور پر کسی کی دل آزاری کی ہے، اس پروگرام میں اگلے روز فیصل قریشی نے وضاحت پیش کر دی تھی۔
واضح رہے کہ بول ٹی وی اپنے آغاز سے لے کر تنازعات کا شکار رہا ہے اس کے مالک شعیب شیخ دو بار گرفتار ہو چکے ہیں، فیصل عزیز کہتے ہیں کہ بول کیوں تنازعات کھڑے کرنا چاہے گا وہ تو خود متاثر فریق ہے، وہ درست رخ پیش کرتے ہیں جو میڈیا ہاؤسز کا کام ہے۔
