لاہور کی ”ہیرا منڈی“ کو بالی ووڈ ڈائریکٹر نے کیسے زندہ کیا؟

کچھ عرصہ پہلے میڈیا میں اس خبر نے دھوم مچا دی تھی کہ سنجے لیلا بھنسالی لاہور میں واقع تاریخی ہیرا منڈی پر فلم بنانا چاہتے ہیں، عالیہ بھٹ نے سب سے پہلے اس میں کام کرنے کا سپنا دیکھابلکہ وہ اس میں مفت کام کرنے کے لئے بھی تیار تھیں، کیونکہ ”گنگو بائی کاٹھیا واڑی“ میں سنجے نے ان کی ہر ادا میں جان ڈال دی تھی۔ سنجے بھنسالی دراصل بھارت میں ” کاسٹیوم بیسڈ“ تاریخی کہانیوں پر مبنی فلمیں بنانے میں شہرت رکھتے ہیں اور اس حوالے سے متنازعہ بھی رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جیسے ہی سنجے نے یہ ہیرا منڈی بنانے کا ارادہ ظاہر کیا، پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی طرف سے سخت ری ایکشن سامنے آیا، اداکارہ منشا پاشا نے ٹویٹ کیا کہ ہمیں تو اس قسم کے موضوعات پر فرضی کہانیوں پر مبنی فلمیں بنانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔اعتراض بجا بھی تھا کہ وہ اس قسم کے حساس موضوعات پر بات بھی نہیں کر سکتے جبکہ پڑوسی ملک کے فلم میکرز جب چاہیں ہمارے کسی بھی ایشو یا ایریا کو ہائی لائٹ کر دیں۔
البتہ سنجے نے جلد ہی یہ ابہام دور کر دیا اور بتایا کہ ہیرا منڈی فلم نہیں، ایک سیریز ہے جو بھارتی نیٹ فلیکس پر ریلیز ہو گی اور اس میں موجودہ لاہور کی نہیں تقسیم سے پہلے والے لاہور کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ویسے بالی ووڈ میں طوائفوں کی زندگی پر پہلے بھی کئی فلمیں بن چکی ہیں جیسے ریکھا کی ”امراؤ جان ادا“ اور شبانہ اعظمی کی ”منڈی“ کا شمار کلاسک فلموں میں ہوتا ہے۔بہرحال اس وقت ہیرا منڈی کے پہلے ٹریلر نے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ انتہائی خوبصورت لباس پہنے، روایتی زیورات میں لدی پھندی سوناکشی سنیا، منیشا کوئرالہ، ادیتی راؤ، رچا چدھا، شرمین سہگل اور سنجیدہ شیخ،گہرے سنہری رنگوں میں جیسے ابھی نہا کر نکلی ہوں۔ اس سے پہلے فلم کے اہم کرداروں کے لئے عالیہ بھٹ، دیپیکا پڈوکون، ایشوریا رائے، ودیا بالن اور مادھوری ڈکشٹ کے نام بھی لئے جا رہے تھے۔
ہیرا منڈی کا سیٹ تقسیم ہند سے پہلے کے نقشے پر ٹھیک اسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں گنگو بائی کو شوٹ کیا گیا تھا۔ سنجے 8 قسطوں پر مبنی اپنی اس سیریز کو ”ایپک“ قرار دیتے ہیں جو لاہور کی طوائفوں کی زندگی کی حقیقی تصویر کشی کرے گی اور سنجے کا ٹریڈ مارک بھی یہی ہے کہ تاریخ کو اوراق سے محبت، نفرت، دھوکے اور سازشوں کو چن چن کر پردہء سکرین پر منتقل کرنا۔تاہم اس بار وہ اپنی یہ کاوش نیٹ فلیکس کے ذریعے پوری دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔
وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں طوائفیں ملکاؤں کی طرح راج کرتی تھیں۔ ہیرا منڈی کے لئے لاہور کے ”ریڈ لائٹ ایریا“ کا انتخاب انھوں نے اس لئے کیا کہ ستارہویں صدی میں اس وقت کے حکمران ہیرا سنگھ نے لاہور کے شاہی محلے میں اجناس کی ایک مارکیٹ قائم کی جو بعد میں ”ہیرا سنگھ دی منڈی“ کہلانے لگی۔ اس شاہی محلے کے پاس ہی مغل شہزادے شہزادیوں کے محل تھے، وہ اکثر وہاں آتے اور وہاں کی لڑکیاں ناچ گا کر ان کا دل بہلاتیں۔انگریزوں کے دور میں بعد میں وہیں قحبہ خانے قائم ہوئے اور وہ جگہ انار کلی بازار کہلانے لگی۔
سنجے نے دکھایا ہے کہ ان طوائفوں کی زندگی کبھی آسان نہیں رہی، بارہا ان کے جسموں کو روندا گیا، روحوں کو چھلنی کیا گیا، کبھی کریک ڈاؤن اور کبھی چھاپوں کے نام پر بارہا ان کے گھر بار کو اجاڑا گیا مگر انھوں نے ہمیشہ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ فلم کی کہانی معین بیگ نے لکھی ہے اور اس میں ایک سرپرائز بھی ہے کہ کیا بولی ووڈ کوئین ریکھا بھی سیریز میں انٹری دینے والی ہیں جو طوائفوں کے کردار نبھانے کے لئے فلم میکرز کی پہلی چوائس ہوتی تھیں؟
