کامسٹس یونیورسٹی کاقابل اعتراض سوال پوچھنے والا لیکچرار برطرف

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (سی یو آئی) نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو آگاہ کیا ہے کہ انگریزی کے پرچے میں طلبہ سے ’انتہائی قابل اعتراض‘ سوال پوچھنے والے لیکچرار کو عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

یونیورسٹی  کی جانب سے 2 فروری کو لکھے گئے خط کے مطابق  انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ’پہلے سیمسٹر میں بیچلر آف الیکٹرک انجینئرنگ کے طلبہ سے انگریزی مضمون کے پرچے میں پوچھے گئے سوال کے خلاف انکوائری سے متعلق مذکورہ موضوع پر 19 جنوری 2023 کو مجھے وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے خط سے رجوع کرنے اور یہ بتانے کی ہدایت کی گئی کہ اس معاملے پر پہلے ہی کارروائی کی جاچکی ہے اور لیکچرار (وزٹنگ فیکلٹی) کی سروس 5 جنوری سے ختم کر دی گئی ہے‘۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ فیکلٹی رکن کو بلیک لسٹڈ بھی کرلیا گیا ہے، یہاں اس متعلقہ بات کی نشاندہی کرنا لازم ہے کہ سی یو آئی یونیورسٹی میں بیچلر آف الیکٹرک انجینئرنگ (بی ای ای) کے طلبہ اپنے انگریزی کے امتحان میں انتہائی قابل اعتراض سوال پڑھ کر پریشان ہوگئے اور ان سے کہا گیا کہ اس موضوع پر 3 سو الفاظ پر مشتمل مضمون لکھیں۔

رابطہ کرنے پر یونیورسٹی کے ایڈیشنل رجسٹرار نوید احمد خان نے تصدیق کی کے بیچلر آف الیکٹرک انجینئرنگ کے طلبہ سے انگریزی کمپوزیشن پیپر میں ’انتہائی قابل اعتراض‘ سوال پوچھا گیا، یونیورسٹی انچارج نے اگلے دن اجلاس طلب کرکے فیکلٹی رکن سے وضاحت طلب کی کہ طلبہ سے ایسا ’بیہودہ سوال‘ پوچھنے کا کیا مقصد تھا، لیکچرار نے اپنی غلطی تسلیم کی جس کے بعد انہیں سروس سے برطرف کردیا، لہٰذا اس سے زیاد ہم کیا کر سکتے ہیں، فیکلٹی رکن کی سروس ختم کرکے امتحان دوبارہ لیا گیا ہے، اور کہا کہ فیکلٹی ممبر نے سوال گوگل سے نقل کیا تھا۔

جب ان سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے معاملے پر کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سی یو آئی پہلے ہی وزارت کے پاس جواب جمع کروا چکی ہے۔ایک فیکلٹی رکن نے کہا کہ ’پیش آنے والا واقعہ انتہائی شرمناک ہے جس نے یونیورسٹی کے امتحانی نظام کو بےنقاب کردیا ہے، محکمہ امتحانات اور متعلقہ محکمہ اس سوال سے کیوں غافل رہے اور طلبہ سے اس طرح کا سوال کیوں پوچھا گیا، جب طلبہ نے یہ مسئلہ اٹھایا تو یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آگئی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف واقعے کا نوٹس لینے کے بعد متعلقہ فیکلٹی رکن کو عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

تاہم ایڈیشنل رجسٹرار نے کہا کہ فیکلٹی ممبر کو 5 جنوری کو برطرف کیا گیا تھا جبکہ متعلقہ وزارت نے 19 جنوری کو نوٹس لیا تھا، سی یو آئی کا جواب 2 فروری کو وزارت کو جمع کرایا گیا تھا۔

قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی بل 2023 منظور کرلیا

Back to top button