مریم نواز کا مسلم لیگ نون کا صدر بننے کا امکان

پاکستان میں سیاسی ماحول گرم ہو جانے کے بعد اب یہ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ نون کی چیف آرگنائزر مریم نواز اپنی جماعت کو منظم کرنے کے لئے 27 جنوری کو وطن واپس لوٹ رہی ہیں جس کے بعد مارچ کے آخر میں ان کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنے خلاف زیر التوا کیسز کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس آ جائیں گے۔ یاد رہے کہ نواز شریف نے حال ہی میں مریم نواز کو مسلم لیگ نون کا چیف آرگنائزر مقرر کرنے کے بعد پارٹی کا سینئر نائب صدر بھی بنا دیا ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان نون لیگ کو دو ماہ کے اندر پارٹی انتخابات کروانے کی ہدایت بھی جاری کرچکا ہے، چنانچہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مریم نواز نون لیگ کی اگلی صدر بھی منتخب ہو سکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز پاکستان واپس لوٹنے کے بعد نواز شریف کی واپسی کی تیاریاں شروع کردیں گی۔ مارچ کے آخر میں سابق وزیر اعظم بھی واپس پہنچ سکتے ہیں تاکہ اپنے خلاف زیر التوا کیسز میں کلیئر ہونے کے بعد اگلے الیکشن کی تیاری کر سکیں۔
نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز وطن واپس آکر ان تمام سازشی کرداروں کے خلاف جارحانہ بیانیہ اپنانے کا ارادہ رکھتی ہیں جنہوں نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے اور پھر 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران کو برسر اقتدار لانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ 19 جنوری کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب نواز شریف سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار ’جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کو سمجھتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’جی ہاں، آپ سب جانتے ہیں، سب واقف ہیں۔ اب نہ کسی کی شکل چھپی ہوئی ہے اور نہ ہی نام چھپا ہوا ہے۔ چند سازشیں کرداروں نے پورے پاکستان کو اپنی ذات کے گرد گھمایا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے پاکستان کے ساتھ گھنائونا مذاق کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ’اس کے چار سالوں کا میرے چار سالوں سے ذرا مقابلہ تو کریں۔ لوگ خود دیکھیں گے ہمارے دور میں کیا حالات تھے، لوگ کتنے خوشحال تھے۔ اور آج اس کے چار سالوں میں لوگ کتنے بدحال ہوئے ہیں۔ ہم نے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومت سنبھالی ہے۔‘ انہوں نے پاکستان کے جو حالات پیدا کر دیے تھے، ہم تباہی کے کنارے پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ عمران دور میں میری بہت ساری باتیں سن چکے ہیں۔ آپ میرا گوجرانوالہ کا جلسہ بھی یاد کریں جس کے دوران میں نے چند کرداروں کے نام لے کر کہا تھا کہ یہ لوگ تمام خرابیوں کے اصل ذمہ دار ہیں، میں نے تب ہی ہر بات کھول کر رکھ دی تھی۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو ستم ظریفیاں ہوئی ہیں، اور جو ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے اس کو بتانا اور عوام تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2020 کے دوران گوجرانوالہ میں ایک تقریر کے دوران نواز شریف نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو ’رخصت‘ کرانے اور عمران خان کی حکومت کے لیے ’جوڑ توڑ‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انھوں نے تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، جواب بھی آپ کو دینا ہوگا۔‘ اب نون لیگ کے اندرونی ذرائع یہ خبر دے رہے ہیں کہ مریم نواز شریف پاکستان واپس پہنچنے کے بعد عدلیہ اور فوج میں موجود عمران کے ان سابقہ سہولت کاروں کو بےنقاب کرنے کے لیے مہم چلائیں گی جنہوں نے اپنے آئینی کردار سے تجاوز کرتے ہوئے سازشیں کیں۔ پنجاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ہاتھوں کئی بار شکست کھانے اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صوبے میں تین ماہ کے اندر عام انتخابات کے انعقاد کے پیشِ نظر مسلم لیگ (ن) کی قیادت اب پی ٹی آئی کے مقابلے کے لیے ایک نئے ’بیانیے‘ کی تلاش کر رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے اندرونی ذرائع کے مطابق ووٹ کو عزت دو کا پرانا بیانیہ اب اسلئے نہیں چلے گا کہ 2018 کے برعکس 2023 میں عمران خان کی جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور نواز لیگ پرو اسٹیبلشمنٹ ہو چکی ہے۔ چنانچہ اب ووٹ کو عزت دلوانے کا مسئلہ نواز شریف کو نہیں بلکہ عمران خان کو درپیش ہے۔ ایسے میں نون لیگ کو عوام کو کوئی نیا چورن دینا ہوگا، لہذا سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے اس مقصد کے لیے پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں کو عمران خان اور فوج اور عدلیہ میں ان کے سابقہ سہولت کاروں کے خلاف ایک چارج شیٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انہیں بے نقاب کیا جا سکے۔
عمران خان کے جن سابقہ سہولت کاروں کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں ان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش تیار کی۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران ان تین کرداروں کو مکروہ قرار دے کر انہیں مانجا لگایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی میں پختہ احساس موجود ہے کہ عمران خان کا ’غیر ملکی آقاؤں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے‘ کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے مقبول بیانیے ’ووٹ کو عزت دو‘ کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو نئے سرے سے بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ توشہ خانہ یا آڈیو لیکس کے ذریعے عمران خان کو بےنقاب کرنے کی کوششوں کا بظاہر کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا، اسکے علاوہ پنجاب میں انتخابات پر نظریں جمائے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ارکان بھی عمران کی مقبولیت سے پریشان ہیں حالانکہ کراچی اور حیدر آباد میں الیکشن کے نتائج نے عمران خان کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
