مولانا ’مائنس عمران‘ مفاہمتی فارمولا سامنے لے آئے؟

ملک میں ایک بار پھر مفاہمتی فارمولے کے چرچے ہیں جہاں ایک طرف عمران خان کی ہدایات پر صدر عارف علوی اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ پیار کی پینگیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف مولانا فضل الرحمٰن بھی ملکی تقسیم کی سیاست کے درمیان مفاہمتی راستہ تلاش کرنے کیلئے سر گرم ہیں تاہم دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر ایک ایسا ‘ مفاہمتی فارمولہ’ پیش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ‘سیاسی موت’ ہو جائے گی۔

 مزمل سہروردیکے مطابق مولانا فضل الرحمان ایک بڑا سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔ پنجاب میں تو پی ٹی آئی تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ چند لوگ استحکام پاکستان پارٹی میں چلے گئے ہیں تو چند نے سیاست ہی چھوڑ دی ہے۔ عمران خان پنجاب میں اپنی قیادت کھو چکے ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کا کوئی رہنما منظر عام پر نظر نہیں آتا لیکن خیبرپختونخوا میں ایسی صورتحال نہیں ہے کیونکہ وہاں اب بھی کچھ لوگ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔  پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں اپنا ووٹ بینک اب بھی موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور اسد قیصر مل کر ایک فارمولا چلا رہے ہیں جو کہ ایک ‘ مفاہمتی فارمولہ’ ہے۔ جس کے مطابق عمران خان مائنس ہو جائیں گے تاہم یہ فارمولا صرف کے پی کی حد تک ہے۔ یہ تو طے ہے۔ 9 مئی کے کسی ملزم بشمول عمران خان کسی کو بھی معافی نہیں ملے گی یعنی عمران خان مائنس ہی ہیں اور اس مفاہمتی فارمولے میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس فارمولے کے تحت جو لوگ 9 مئی میں ملوث نہیں ہیں اور وہ پی ٹی آئی سے سیاست کرنا چاہتے ہیں اور فوج کے خلاف بیانیہ نہیں بنائیں گے تو ان کو سیاسی گنجائش دی جائے گی۔ اسد قیصر، بیرسٹر سیف اور علی محمد خان سب اپنی سیاست کو بچانے کے لیے مفاہمتی فارمولے کی حمایت کر رہے ہیں۔

مزمل سہروردی کا مزید کہنا ہے کہ یہ لوگ بظاہر تو عمران خان کے ساتھ ہیں لیکن اب وہ خان صاحب کی بولی نہیں بلکہ مفاہمت کی بولی بول رہےہیں۔ اس میں مولانا فضل الرحمان ان کی مدد کررہے ہیں تاکہ یہ لوگ عمران خان کے مزاحمتی بیانیے سے دور ہوجائیں۔ اور جو پارٹی عمران خان کے پاس رہ گئی ہے وہ بھی ان سے چھین لی جائے اور جو لوگ بچے ہیں وہ خان صاحب کی مخالف سائیڈ پر کھڑے ہو جائیں۔ اس سے اسٹیبلشمنٹ کی بھی مدد ہو گی اور کے پی میں الیکشن بھی آسانی سے ہو سکیں گے۔ یہ جو مفاہمی گروپ بنے گا وہ آگے چل کر مولانا کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بھی بنا سکتا ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے لیکن پسِ پردہ عمران خان کے نیچے جو تھوڑی سیاسی زمین بچی ہے وہ کھینچنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

تجزیہ کار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مصالحتی گروپ کے مولانا کے ساتھ تعلقات خوشگوار رہیں گے اور یہ مستقبل میں کے پی میں اہم کردار ادا کریں گے تاہم یہ گروپ سابق رہنما پرویز خٹک کی سربراہی میں پی ٹی آئی- پارلیمینٹیرینز کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گا۔ کیونکہ پی ٹی آئی- پارلیمینٹیرینز اور استحکام پاکستان پارٹی سیاست کی کوڑے دان ہیں اور کچھ سیاست دانوں کو ناکارہ کر کے ان میں پھینک دیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور نگراں وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی سے ملاقاتوں کے بعد یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ آیا پی ٹی آئی اب مذاکرات کے لیے تیار ہے؟خیال رہے کہ ماضی میں صدر عارف علوی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات کرانے اور تعلقات بحال کرانے کی متعدد کوششیں کر چکے ہیں، جو تمام بے سود ثابت ہوئی تھیں۔

تحریک انصاف کے مقتدر قوتوں سے مذاکرات بارت رہنما تحریکِ انصاف شفقت محمود کہتے ہیں کہ بنیادی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہیے کیوں کہ اس کے بغیر جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ سیاسی جماعتوں کو آئندہ 10 سے 15 سال کے لیے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور دیگر مسائل کے حل پر سوچ بچار کرنی چاہیے۔سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی چارٹر ہونا چاہیے جن میں ‘چارٹر آف اکانومی’ بھی شامل ہے۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس راستہ ہی سیاسی مذاکرات کا ہے۔تاہم اگر اب پی ٹی آئی مذاکرات کی بات کرتی ہے تو وہ دباؤ میں ہیں۔اگر دباؤ میں مذاکرات ہونے ہیں تو اُس کا نتیجہ کچھ خاص نہیں ہو گا اِس لیے بہتر یہ ہے کہ بات چیت تو ہونی چاہیے کیوں کہ جنگوں کے دوران بھی بات چیت کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

پاکستان میں جمہوری اقدار پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری رہنے چاہئیں۔ بات چیت کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے بہت ضروری ہے خاص طور پر ایک ایسی سیاسی جماعت کے لیے مذاکرات کرنا ضروری ہے جو دباؤ میں ہے۔احمد بلال محبوب سمھتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے رہنما اپنے طور پر مذاکرات کریں گے یا اُنہیں عمران خان کی بھی حمایت حاصل ہو گی؟ کیونکہ تحریکِ انصاف میں فیصلہ سازی کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہی ہے۔ اُن کے بقول اگر پی ٹی آئی رہنما سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ عین موقع پر عمران خان اسے مسترد کر دیں۔احمد بلال محبوب کے بقول چونکہ عمران خان صاحب کا مزاج ایسا ہے کسی بھی سیاسی جماعت کا اُن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہونا بہت مشکل کام ہو گا۔احمد بلال محبوب کے بقول ماضی میں پی ٹی آئی ہوا کے گھڑے پر سوار تھی۔اُن کا خیال تھا کہ وہ اکیلے ہی کسی بھی کام کے لیے کافی ہیں۔ وہ جیت جائیں گے اور اُنہیں کسی سے بات

کیا ملکی سیاست میں نواز شریف خود کو منوا پائیں گے؟

کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Back to top button