یونیورسٹی میں فوجی افسر کی فائرنگ، اصل معاملہ کیا تھا؟

اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی میں پولیس کی موجودگی میں ایک باوردی فوجی اہلکار کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کی اہلیہ سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز کے عہدے پر تعینات ہیں۔ انہوں نے اپنی یونیورسٹی کے ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف جنسی ہراسانی اوردھمکیوں کی شکایت درج کرا رکھی تھی۔ اس شکایت کے بعد ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو یونیورسٹی انتظامیہ نے معطل کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق 24 اگست کو پیش آنے والے واقعے کی بنیادی وجہ بھی یہی تنازع بنا۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ واقعے کے روز ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز جب اپنے دفتر کی جانب جا رہی تھیں تو معطل ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے بعض حامی طلبہ نے ان پر آوازیں کسنا شروع کر دیں، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
تحقیقات کے مطابق معاملہ بگڑتا دیکھ کر ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز نے اپنے شوہر لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کو یونیورسٹی بلا لیا۔ فوجی افسر اس وقت فوجی یونیفارم میں اور مسلح تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی افسر اپنی اہلیہ کو مشتعل طلبہ کے ہجوم سے نکال کر لے جا رہے ہیں، تاہم راستے میں بعض طلبہ کی جانب سے دوبارہ آوازیں کسنے کے بعد وہ غصے میں واپس پلٹے، جس کے بعد ان کا طلبہ کے ساتھ جھگڑا اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔

بعد ازاں جب چند طلبہ نے فوجی اہلکار پر تشدد شروع کیا تو انہوں نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کر دی۔ یوں یونیورسٹی کے مشتعل طلبہ کی بڑی تعداد کیمپس سے باہر نکل کر جی ٹی روڈ پر آگئی، اور احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک بلاک کردی۔ پولیس نے سرحد یونیورسٹی میں لیفٹیننٹ کرنل رینک کے فوجی افسر اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی، تشدد، ہوائی فائرنگ اور بعد ازاں سڑک بلاک کیے جانے کے واقعے کو روزنامچے میں درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق روزنامچہ ایک اہم قانونی دستاویز ہے اور کسی واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کیے جانے کے بعد ضرورت پڑنے پر اسے باقاعدہ ایف آئی آر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق واقعے کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فوجی افسر کے خلاف کسی بھی ممکنہ محکمانہ کارروائی کے لیے قانونی دستاویز موجود ہونا ضروری ہے۔ وفاقی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ روزنامچے میں اندراج کے بعد رپورٹ کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس واقعے کی ویڈیوز کا بھی فرانزک اور قانونی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ویڈیوز کے تجزیے کے بعد ملوث افراد کے کردار کا تعین کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں یہ تنازع قبل تب شروع ہوا جب یونیورسٹی کے ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور فوجی افسر کی اہلیہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ پولیس کے مطابق ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز نے مقامی تھانے میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف ہراساں کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت درخواست جمع کروائی تھی۔

درخواست کے مطابق 21 اگست کو جب خاتون اپنے دفتر میں موجود تھیں تو پروفیسر ان کے کمرے میں آئے، انہیں گالیاں دیں اور اس کے بعد سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس واقعے کے بعد مذکورہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو چند روز کے لیے معطل بھی کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق خاتون کی درخواست پر قانونی کارروائی شروع ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی، اس کوشش کے نتیجے میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے اپنے رویے پر تحریری معذرت کی۔ بعد ازاں شکایت کنندہ خاتون نے تھانے میں تحریری درخواست جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف انکی شکایت پر مزید قانونی کارروائی نہ کی جائے اور معاملہ ختم سمجھا جائے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اب ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو جائزہ لے گی کہ فریقین کے درمیان مصالحت اور معاملہ ختم ہونے کے بعد یہ تنازع دوبارہ کیسے شدت اختیار کر گیا۔ کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ معطل ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے بعض حامی طلبہ اس معاملے میں کس طرح شامل ہوئے اور آیا طلبہ کو احتجاج یا ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز کے خلاف نعرے بازی کے لیے اکسایا گیا تھا یا نہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے ایک اہم سوال یہ بھی ہوگا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی کے باوجود صورت حال اس حد تک کیوں بگڑی کہ ایک فوجی افسر کو یونیورسٹی پہنچنا پڑا اور بعد ازاں مبینہ طور پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

سرحد یونیورسٹی کا واقعہ اس حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ فائرنگ اور طلبہ پر مبینہ تشدد کے وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکار موقع پر موجود تھے۔ اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل حمزہ ہمایوں نے واقعے کے بعد بتایا تھا کہ پولیس کے حکام پہلے ہی احتجاج کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے موقع پر موجود تھے۔ ان کے لیے یہ بات باعث حیرت تھی کہ پولیس کی موجودگی میں کسی شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کیسے کی۔
واقعے کی وائرل ویڈیوز میں بھی پولیس کے باوردی اہلکاروں کو یونیورسٹی کے قریب موجود دیکھا جا سکتا ہے۔

واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل حمزہ ہمایوں نے بتایا تھا کہ فائرنگ کرنے والے آرمی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق زیرِ تحویل افسر لیفٹیننٹ کرنل رینک کے فوجی افسر ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فوجی حکام کی جانب سے اپنے افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کا قعی امکان ہے، جبکہ سمری کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہونے کے بھی امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ تو ہم اس حوالے سے ابھی تک فوجی ترجمان کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا۔

سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں اب بنیادی طور پر تین پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پہلا یہ کہ یونیورسٹی میں ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع کس نوعیت کا تھا اور اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ نے کیا اقدامات کیے۔ دوسرا یہ کہ معطل ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے حامی طلبہ اس تنازع میں کیسے شامل ہوئے اور انکی جانب سے احتجاج کی نوبت کیوں آئی۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک مسلح باوردی فوجی افسر پولیس کی موجودگی میں طلبہ کے ساتھ تصادم پر کیوں اترا اور معاملہ ہوائی فائرنگ تک کیسے پہنچا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام ویڈیوز، عینی شاہدین کے بیانات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی بھی واقعے کے پس منظر اور اس کے محرکات کا جائزہ لے رہی ہے۔

Back to top button