فوجی افسران کے بجلی بلوں میں رعایت 1990 سے ملنے کا انکشاف

پاکستانی سوشل میڈیا پر پاک فوج کے کمیشنڈ افسران کے بجلی کے بلوں میں پچاس فیصد چھوٹ کا مطالبہ تنقید کی زد میں ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر عام آدمی کو یہ رعایت نہیں مل سکتی تو فوجی افسران کو کیوں اور کس قانون کے تحت دی جائے۔ تاہم اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ فوجی افسران کو بجلی کے بلوں میں پچاس فیصد رعایت 1990 سے مل رہی ہے لیکن اب وزارت دفاع کا مطالبہ ہے کہ نئے ٹیکس اور لیویز لگنے سے یہ رعایت اب کم ہو کر 35 فیصد پر آ گئی ہے لہذا اس کو بڑھا کر دوبارہ 50 فیصد پر لیجایا جائے۔
فوجی افسران کے بجلی کے بلوں میں چھوٹ کا مطالبہ کرنے والی وزارت دفاع کا موقف ہے کہ فوج کے افسران اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کے ملک کے دفاع میں مصروف ہیں اس لیے انہیں یہ رعایت دی جانی چاہیے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رعایت کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں اور اگر فوجی جوان ملک کا دفاع کرتے ہیں تو پولیس والے بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں جانوں سے ہاتھ دھوتے ہیں لہذا یہ رعایت ان کو بھی ملنی چاہیے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ فوج کے حوالے سے جب بھی کوئی خبر آتی ہے تو اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ سیاستدان، وزراء، مشیر اور افسر شاہی کے افراد کو ملنے والی مراعات اور سہولیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
فوجی جوانوں کے لیے وزارت دفاع کی جانب سے اس رعایت کے مطالبے کی گونج پارلیمینٹ میں بھی پہنچ چکی یے۔ سینیٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان آرمی کے سیاسی کردار پر تنیقد کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، انہوں نے بھی بجلی کے بلوں میں فوجی افسران کے لیے رعایت کے مطالبے پر متعلقہ وزیر سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ جی ایچ کیو نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیشنڈ فوجی افسران کے لیے بجلی کے بلوں میں 50 فیصد چھوٹ دی جائے۔ لیکن مشتاق خان کے سوال کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ تاہم روزنامہ بزنس ریکارڈر نے 31 جنوری کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ فوجی افسران کو پچاس فیصد چھوٹ بارے وزارت دفاع نے جو سمری نیپرا کو بھیجی ہے وہ نئی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آرمی افسران کو حکومتی احکامات کی روشنی میں 1990 کی دہائی سے ہی پچاس فیصد چھوٹ دی جارہی تھی، جو اب کم کر کے 35 فیصد ہو گئی ہے۔ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ چھوٹ پورے بجلی کے بل پر نہیں تھی بلکہ 90 کی دہائی میں یہ صرف بجلی استعمال کرنے کی قیمت پر تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے سر چارجز اور ٹیکسز لگ گئے جس سے یہ شرح اب تقریبا 35 فیصد ہو کے رہ گئی ہے۔
اخبار نے لکھا کہ سال 2000 سے آرمی افسران کو 35 فیصد چھوٹ مل رہی ہے جبکہ حکومت نے 90 کی دہائی میں وعدہ کیا تھا کہ یہ چھوٹ پچاس فیصد ہوگی۔ بزنس ریکارڈر نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا 2018 میں وزارت دفاع سے کہا گیا تھا کہ وہ 1990 کے رولز اینڈ ریگولیشن کی روشنی میں پالیسی فریم کرے اور یہ کہ وزارت دفاع نے نیپرا سے رائے اب طلب کی ہے۔
ججز، بیوروکریٹس کیلئے پلاٹس کی سکیم غیر قانونی قرار
تاہم اس وضاحت سے پہلے ملک کے کئی حلقوں میں اس مسئلے پر بحث چھڑ گئی اور کچھ یوٹیوب چینلز نے اس حوالے سے پروگرام بھی کر ڈالے۔ اس رعایت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوج پاکستان کے لیے بے پناہ قربانیاں دیتی رہی تو اس کی مراعات پر اس طرح تنقید کرنا مناسب نہیں جبکہ پارلیمنٹیرینز کو ہوائی جہاز کے ٹکٹ ان کی فیملی کے لیے بہت ساری مراعات ملتی ہیں۔ ان کی تنخواہیں اور ان کی سہولیات فوجی افسران سے کئی زیادہ ہیں۔
اسی طرح افسر شاہی کو بھی بہت ساری مراعات ملتی ہیں۔ افسر شاہی کی سہولیات کا تذکرہ کرتے ہوئے سابق سیکریٹری پلاننگ فضل اللہ قریشی نے بتایا کہ فیڈرل سیکرٹری کو اسلام آباد میں ایک پلاٹ مل جاتا ہے اس کے علاوہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سی بھی پلاٹ مل سکتا ہے۔ شہباز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹریٹ کے ملازمین کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا۔
ان کی تنخواہ بھی زیادہ تھی اور انہیں بہت ساری سہولیات بھی دی گئیں جس کے بعد میں یہ روایت سندھ میں بھی قائم ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی روایتوں سے بیوروکریسی میں لالچ خود غرضی اور جھوٹ بڑھا ہے۔ آپ پولیس فاؤنڈیشن کا کیس دیکھ لیں جہاں اعلیٰ افسران نے کئی کئی پلاٹ لیے اور حکومت سے جھوٹ بولا۔ اس طرح کی مراعات نے افسران کی کارکردگی کو متاثر کیا اور معاشرے میں کرپشن بھی بڑھی۔
تاہم دوسری جانب فوجی افسران کے بجلی بلوں میں رعایت پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں ریٹائرمنٹ پر نہ صرف اچھی خاصی پنشن ملتی ہے بلکہ رہائشی اور زرعی زمینیں بھی دی جاتی ہے لہذا اگر بیوروکریسی کو مراعات ملتی ہیں تو انہیں بھی مراعات مل رہی ہیں۔
