قتل یا خودکشی، میر رضا کی موت اب تک ایک معمہ کیوں؟

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی موت کا معمہ مزید گہرا ہوگیا ہے۔ قبر کشائی کے بعد تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کی حتمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت دل پھٹنے کے باعث ہوئی، تاہم دل پھٹنے کی وجہ سینے پر لگنے والی گولی کی سوراخ کرنے والی چوٹ بنی۔ معاملے کو مزید پراسرار بنانے والی بات یہ ہے کہ متوفی کے خون کے نمونے میں بے ہوش کرنے والی دوا کے آثار اور اس کی شرٹ پر تیزاب کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے، جبکہ کپڑوں پر فائرنگ سے پیدا ہونے والے ذرات کے شواہد بھی ملے ہیں۔ میڈیکل بورڈ کی یہ رپورٹ اب میر رضا کی موت کے طریقۂ کار پر کئی نئے سوالات اٹھا رہی ہے۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی قبر کشائی کرنے والے میڈیکل بورڈ نے اپنی حتمی رپورٹ جاری کردی ہے۔ پولیس سرجن کراچی کی سربراہی میں قائم کیے گئے قبر کشائی بورڈ کے مطابق میر رضا کی موت دل پھٹنے کے باعث ہوئی۔رپورٹ کے مطابق دل پھٹنے کی بنیادی وجہ سینے پر اسلحے سے لگنے والی سوراخ کرنے والی چوٹ تھی۔ میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ میر رضا کے سینے پر گولی کا زخم موجود تھا، جو پشت کی جانب سے داخل ہوئی اور سامنے کی جانب سے خارج ہوئی۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ دستیاب شواہد موت کو خودکشی قرار دینے سے مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ میں موت کے طریقۂ کار کو خودکشی سے غیر مطابقت قرار دیا گیا ہے۔ اس مشاہدے کے بعد میر رضا کی موت کے حوالے سے پہلے سے موجود سوالات مزید اہمیت اختیار کرگئے ہیں اور معاملے کی تفتیش میں میڈیکل شواہد ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے خون کے نمونے میں بے ہوش کرنے والی دوا بیوپیواکین کے آثار پائے گئے۔تاہم لیبارٹری تجزیے میں نشہ آور، سکون آور یا زہریلے مادوں کے شواہد نہیں ملے۔ اس کے باوجود خون کے نمونے میں بے ہوش کرنے والی دوا کے آثار سامنے آنا کیس کے دیگر شواہد کے ساتھ ایک اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں ایک اور اہم انکشاف میر رضا کی شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ یعنی تیزاب کی موجودگی ہے۔رپورٹ کے مطابق کپڑوں کے نمونوں کے تجزیے سے تیزاب کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ اس شواہد کی موجودگی بھی کیس کی تحقیقات میں ایک اہم سوال بن سکتی ہے کہ یہ مادہ میر رضا کے کپڑوں تک کیسے پہنچا۔
لیبارٹری رپورٹ میں میر رضا کی شرٹ کے نمونوں میں گولی چلنے سے پیدا ہونے والے ذرات کے آثار بھی ملے ہیں۔رپورٹ کے مطابق شرٹ کے اگلے اور پچھلے دونوں حصوں سے سیسہ اور بیریم کے آثار پائے گئے۔ میڈیکل بورڈ نے قرار دیا کہ سیسہ اور بیریم اسلحے سے فائرنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذرات سے مطابقت رکھتے ہیں۔مزید اہم بات یہ ہے کہ متوفی کی پشت پر موجود زخم کے اطراف گولی چلنے کے ذرات کی نسبت زیادہ مقدار میں پائے گئے۔
میڈیکل بورڈ کی حتمی رپورٹ نے میر رضا کیس کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ایک طرف رپورٹ موت کی وجہ دل پھٹنے اور اس کی بنیادی وجہ گولی لگنے کو قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب شواہد موت کے طریقۂ کار کو خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔خون کے نمونے میں بے ہوش کرنے والی دوا کے آثار، شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کی موجودگی اور کپڑوں پر فائرنگ کے ذرات سمیت مختلف شواہد اب تفتیشی اداروں کے لیے اہم بن گئے ہیں۔تاہم کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے ان تمام شواہد کو دیگر تفتیشی مواد، جائے وقوعہ کے شواہد، گواہوں کے بیانات اور فرانزک تحقیقات کے ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہوگا۔
ماہرین کے مطابق میر رضا کی موت کے معاملے میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ نے خودکشی کے مؤقف پر ایک بڑا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے، تاہم یہ شواہد اپنے آپ میں کسی مخصوص شخص یا واقعے کے ذمہ دار ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ہیں۔ اصل حقیقت کا تعین مکمل تفتیش اور دیگر شواہد کی روشنی میں ہی ممکن ہوگا۔
