خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض اسلام آباد کے ہسپتال میں کیوں؟

پاکستان میں صحت کے نظام پر بحث ہمیشہ بجٹ، ہسپتالوں اور سہولیات کے اعداد و شمار کے گرد گھومتی ہے، لیکن اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا معاملہ ایک ایسا سوال اٹھا رہا ہے جس کا جواب خیبرپختونخوا سمیت متعلقہ حکام کو دینا چاہیے۔ محتاط اندازے کے مطابق پمز میں آنے والے کل مریضوں میں تقریباً 70 فیصد مقامی نہیں، جبکہ غیر مقامی مریضوں میں قریب 80 فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ 18ویں ترمیم کے بعد صحت بنیادی طور پر صوبائی ذمہ داری بن چکی ہے اور ہر صوبے کے پاس صحت کے لیے اپنا الگ بجٹ موجود ہے، تو پھر خیبرپختونخوا کے اتنی بڑی تعداد میں مریض اسلام آباد کا رخ کیوں کرتے ہیں؟

خیبرپختونخوا کے صحت کے شعبے کے لیے مختص بجٹ 334 ارب روپے بتایا جاتا ہے۔ اتنی بڑی رقم کے باوجود اگر صوبے کے مریض بڑی تعداد میں اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں، خصوصاً پمز، کا رخ کر رہے ہیں تو یہ محض مریضوں کی نقل و حرکت کا معاملہ نہیں بلکہ صوبائی صحت کے نظام کی کارکردگی پر بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ آخر وہ کون سی بنیادی یا تخصصی طبی سہولت ہے جو مریضوں کو اپنے صوبے میں دستیاب نہیں ہو رہی اور انہیں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے اسلام آباد آنا پڑتا ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ خیبرپختونخوا میں صحت کے نظام کو ایک طویل عرصے سے اصلاحات، بہتر انتظام اور عالمی معیار کی سہولیات کے دعووں کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اگر صوبے کے ہسپتال واقعی اس معیار تک پہنچ چکے ہیں جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو پھر پمز میں خیبرپختونخوا سے آنے والے مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ کیا ہے؟ کیا صوبے کے سرکاری ہسپتال ہر نوعیت کے مریض کو بروقت اور معیاری علاج فراہم نہیں کر پا رہے؟ کیا ماہر ڈاکٹرز، تشخیصی سہولیات، آپریشنز، ادویات اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات میں اب بھی ایسی کمی ہے جو مریضوں کو اسلام آباد جانے پر مجبور کرتی ہے؟

یہاں اسلام آباد کا اپنا مسئلہ بھی کم اہم نہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی آبادی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، لیکن سرکاری سطح پر بڑے ہسپتالوں کی تعداد میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ اسلام آباد میں پمز اور پولی کلینک جیسے بڑے سرکاری ہسپتال پورے شہر کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مقامی شہریوں کے لیے بھی علاج کی سہولت حاصل کرنا مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اسلام آباد کے شہری اپنے ہی شہر میں علاج کے لیے کہاں جائیں؟ اگر دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں مریض دوسرے صوبوں سے آ رہے ہوں اور مقامی آبادی کے لیے گنجائش محدود ہو تو کیا وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے لیے کوئی الگ انتظام نہیں ہونا چاہیے؟

اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ یہ نہ مکمل صوبائی حیثیت رکھتا ہے اور نہ ہی یہاں ایسا بااختیار مقامی حکومتی نظام موجود ہے جو شہریوں کی بنیادی ضروریات کے لیے مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکے۔ شہر کی آبادی بڑھتی رہی، مسائل بڑھتے رہے، لیکن مقامی سطح پر ایسا مضبوط سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل نہیں پا سکا جو وفاقی حکومت سے شہریوں کے لیے مزید ہسپتال، بہتر صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات کا مؤثر مطالبہ کر سکے۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دوسرے صوبوں کے مریض اسلام آباد کیوں آتے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں کے وسائل کا بوجھ کس تناسب سے تقسیم ہونا چاہیے۔ اگر پمز میں علاج حاصل کرنے والے مریضوں کی بڑی تعداد دوسرے صوبوں سے آتی ہے تو کم از کم سالانہ بنیاد پر یہ اعداد و شمار سامنے آنے چاہییں کہ پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے کتنے مریض ان ہسپتالوں میں علاج کے لیے آئے۔

اس کے بعد ایک قابلِ عمل مالیاتی نظام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی صوبے کے مریض بڑی تعداد میں وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں سے علاج حاصل کر رہے ہیں تو اس صوبے کے صحت کے بجٹ سے ایک متناسب رقم ان ہسپتالوں کو منتقل کی جا سکتی ہے۔ اس سے ایک طرف پمز اور پولی کلینک جیسے اداروں پر مالی دباؤ کم ہوگا اور دوسری جانب صوبوں کو بھی اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی ترغیب ملے گی۔

یقیناً کچھ ایسے پیچیدہ اور سنگین امراض بھی ہوتے ہیں جن کے علاج کی سہولت ہر صوبے میں دستیاب نہیں ہوتی۔ ایسے مریضوں کا بڑے طبی مراکز کی طرف آنا ایک فطری اور قابلِ فہم عمل ہے۔ اگر کسی مریض کو کسی مخصوص بیماری کے علاج کے لیے پمز آنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے صوبے میں وہ سہولت موجود نہیں تو اسے روکنے کے بجائے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ لیکن اگر عام نوعیت کے مریض بھی بڑی تعداد میں صرف اس لیے اسلام آباد کا رخ کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے صوبے میں مناسب علاج، ڈاکٹر یا بنیادی طبی سہولت دستیاب نہیں، تو پھر یہ صوبائی صحت کے نظام کی کارکردگی کا سنجیدہ مسئلہ ہے۔

یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ خیبرپختونخوا سے آنے والے مریضوں کی اکثریت کن بیماریوں کے علاج کے لیے پمز پہنچتی ہے۔ کیا وہ معمولی بیماریوں کے لیے آ رہے ہیں یا پیچیدہ علاج کے لیے؟ کیا انہیں اپنے صوبے کے ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں سے مناسب علاج نہیں مل رہا؟ کیا بنیادی صحت کے مراکز اور تحصیل سطح کے ہسپتال فعال نہیں؟ یا پھر مریضوں کا اپنے صوبے کے ہسپتالوں پر اعتماد کم ہو چکا ہے؟

اگر اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے شہری بڑی تعداد میں اسلام آباد آ کر علاج کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں تو اس رجحان کو سیاسی طنز کے بجائے سنجیدہ پالیسی سوال کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صحت کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا سب سے بنیادی پیمانہ ہے، کیونکہ عام شہری کے لیے حکومت کی کارکردگی کا مطلب اکثر یہی ہوتا ہے کہ بیماری کی صورت میں اسے بروقت ڈاکٹر، دوا، تشخیص اور علاج ملتا ہے یا نہیں۔

اس معاملے میں خیبرپختونخوا حکومت سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ 334 ارب روپے کے صحت بجٹ کے باوجود اس کے شہری اسلام آباد کے ہسپتالوں کا رخ کیوں کر رہے ہیں۔ اگر صوبے کے ہسپتال واقعی بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں تو پھر مریضوں کی اتنی بڑی تعداد پمز کیوں پہنچ رہی ہے؟ اور اگر مریضوں کا پمز آنا کسی حقیقی طبی ضرورت کا نتیجہ ہے تو پھر اس ضرورت کو خیبرپختونخوا کے اندر پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

دوسری طرف وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو بھی یہ سوال نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے صرف دو بڑے سرکاری ہسپتال کب تک کافی رہیں گے۔ اسلام آباد کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے شہر میں ان کی آبادی اور ضروریات کے مطابق صحت کا مضبوط نظام موجود ہو۔

آخرکار مسئلہ کسی ایک صوبے کے مریضوں کا نہیں بلکہ پورے ملک کے صحت کے نظام کا ہے۔ اگر ایک صوبے کے شہری دوسرے صوبے کے دارالحکومت میں علاج کے لیے جانے پر مجبور ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں صحت کی سہولیات، انتظامی ترجیحات یا وسائل کی تقسیم میں بنیادی مسئلہ موجود ہے۔

سیاست اپنی جگہ، حکومتیں اپنی جگہ اور دعوے اپنی جگہ، لیکن ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچنے والا مریض صرف ایک چیز دیکھتا ہے: کیا اسے علاج مل رہا ہے یا نہیں؟ اگر خیبرپختونخوا کے مریض بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچ رہے ہیں تو اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار، شفاف تحقیقات اور بہتر طبی سہولیات سے دینا ہوگا۔

اور شاید اصل سوال یہی ہے: اگر 334 ارب روپے کے صحت بجٹ کے باوجود خیبرپختونخوا کے مریض علاج کے لیے پمز آنے پر مجبور ہیں تو پھر مسئلہ بجٹ کی کمی ہے، نظام کی کمزوری ہے یا ترجیحات کی؟

Back to top button