فائر سیفٹی سسٹم، لاہور کے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں کیوں؟

عوام کو اپنی ریڈ لائن قرار دینے والی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے تحت لاہور کے 19 بڑے ہسپتالوں میں نامکمل فائر سیفٹی نظام نے حکومتی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ذرائر کے مطابق لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت سے متعلق ایک اہم سوال پھر سامنے آگیا ہے۔ شہر کے 19 بڑے ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار فائر سیفٹی نظام تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ 65 فائر ہائیڈرنٹس کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 29 نصب کیے گئے ہیں، جبکہ 36 ہائیڈرنٹس کی تنصیب ابھی باقی ہے۔ ایسے میں کسی بڑے آتشزدگی کے واقعے کی صورت میں فوری کارروائی اور مریضوں کے محفوظ انخلا کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

دستاویزات کے مطابق لاہور کے 19 بڑے ہسپتالوں میں فائر فائٹنگ نظام کو مکمل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 65 ہائیڈرنٹس درکار ہیں، تاہم اب تک 29 نصب کیے جا سکے ہیں۔ لاہور جنرل ہسپتال میں سب سے زیادہ 6 ہائیڈرنٹس کی تنصیب زیر التوا ہے، جبکہ سر گنگا رام ہسپتال میں 3 ہائیڈرنٹس ابھی نصب نہیں کیے گئے۔ جناح ہسپتال، سروسز ہسپتال، غازی آباد، سمن آباد اور قلعہ گجر سنگھ کے ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی نظام کی تکمیل کا عمل جاری ہے۔

گورنمنٹ میٹرنٹی ہسپتال اور شہباز شریف ہسپتال میں فی ہسپتال صرف ایک ایک فائر ہائیڈرنٹ نصب کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق مزید ہائیڈرنٹس کی تنصیب ابھی باقی ہے۔ اس صورتحال کے باعث شہر کے متعدد بڑے طبی مراکز میں آگ لگنے کی صورت میں مؤثر فائر فائٹنگ کے لیے مطلوبہ سہولیات مکمل نہ ہونے کا معاملہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق فائر سیفٹی بہتر بنانے کا منصوبہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پورے پنجاب کے سرکاری صحت مراکز میں ہنگامی حفاظتی نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے کے 103 سرکاری صحت مراکز میں مجموعی طور پر 350 فائر ہائیڈرنٹس نصب کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق لاہور کے علاوہ فیصل آباد، راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان سمیت پنجاب کے تمام 41 اضلاع میں ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ صوبے بھر میں اب تک 63 ہائیڈرنٹس نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ 108 پر کام جاری ہے۔

محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام کی تکمیل کا بنیادی مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کو ممکن بنانا اور مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے متعلقہ حکام کو ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ ہسپتال جیسے حساس مقامات پر فائر سیفٹی کی بنیادی سہولیات مکمل ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟ کیونکہ آتشزدگی جیسے حادثات میں چند منٹ کی تاخیر بھی قیمتی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

Back to top button