وفات کی معاشیات

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستانی تارکینِ وطن جو امریکا میں وفات پا جاتے ہیں وہ عموماً وہیں دفن ہو جاتے ہیں۔ اگلے وقتوں میں بہت سے لوگ وصیت کر جاتے تھے کہ ہماری میت کو پاکستان میں ہمارے شہر، ہمارے گاؤں میں دفنایا جائے۔ کئی دفعہ لواحقین اپنے تئیں بھی یہی فیصلہ کیا کرتے تھے کہ جس قبرستان میں ہمارے خاندان کے سب بزرگ دفن ہیں مرحوم کو بھی وہیں دفنائیں گے اور میت کو آبائی علاقوں میں بھجوانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ مگر اب یہ ’تکلف‘خال خال ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ تارکین کی پہلی پہلی نسلیں دو ملکوں کے درمیان شدت سے بٹی ہوئی تھیں، لواحقین بھی ’برزخ‘ کے شہری ہوتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایک دن انہوں نے بھی اپنے آبائی وطن واپس چلے جانا ہے۔ اگلی نسلوں میں آبائی وطن کا احساس کم زور ہوتا چلا گیا اور انہوں نے امریکا کو نفسیاتی طور پر اپنا مستقل وطن تسلیم کر لیا۔ میت کو امریکا سے پاکستان بھجوانا ایک معاشی معرکہ بھی بن چکا ہے۔ پی آئی اے کی امریکا سے براہِ راست پروازوں کی بندش کے بعد تابوتوں کی پاکستان ترسیل اور بھی مہنگا کھیل بن چکا ہے۔کراچی ریڈیو کے ایک پروگرام ڈائریکٹر ہوا کرتے تھےمرزا عقیل اشرف، ریٹائرمنٹ کے بعد ہیوسٹن جا بسے تھے۔ شاعر اور انتہائی مرنجاں مرنج شخصیت، مرزا صاحب مرحوم ہیوسٹن میں اردو تہذیب کے علم دار اور ہمارے میزبان عیش بھائی کے برادرِ بزرگ تھے۔ عقیل صاحب کی برسی آئی تو عیش بھائی قبرستان جا رہے تھے سو ہم بھی ہم راہ ہو گئے۔ راستے میں عیش بھائی ہمیں امریکا میں تدفین کی اکنامکس سمجھاتے ہوئے فرمانے لگے کہ شہرِ خموشاں میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ بتانے لگے کہ علیحدہ مسلم قبرستان موجود ہیں، مگر شہروں میں اب یہاں عیسائی قبرستانوں میں ہی مسلم حصہ بنا لیا جاتا ہے۔ شہری قبرستانوں میں تو تدفین بہت مہنگی ہے، دس پندرہ ہزار ڈالرز خرچ آ جاتا ہے، جب کہ شہر سے باہر پانچ ہزار ڈالر میں بھی کام ہو جاتا ہے۔ ہم نے پوچھا اگر اتنے پیسے نہ ہوں تو کیسے مرا جائے۔ فرمانے لگے کہ حال ہی میں انہوں نے کری میشن کی بھی مثالیں دیکھی ہیں، مردہ جلانے کا کام پانچ سو ڈالر میں ہو جاتا ہے، اور ایک مرتبان میں ’ماں جی‘ کی راکھ لواحقین کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ اور اگر پانچ سو ڈالر بھی نہ ہوں تو؟ ہم نے پوچھا۔ مسکراتے ہوئے گویا ہوئے کہ مردے کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست مفت کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے کہ میت کو سائنس ریسرچ کے لیے عطیہ کر دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر میت کا کوئی والی وارث نہ ہو تو مسلم تنظیمیں تدفین کی ذمہ داری اٹھا لیتی ہیں۔ پھر کچھ توقف کے بعد خوشی خوشی بتانے لگے کہ انہیں بہت اچھی ڈیل مل گئی تھی، انہوں نے اسی قبرستان میں اپنی قبر ایک ہزار ڈالر میں خرید لی ہے۔ بلکہ دس قبروں کی جگہ اکٹھی لے لی ہے۔ شہر سے باہر ہم قبرستان پہنچے، عقیل صاحب کی قبر پر فاتحہ پڑھی، قریب ہی احمد مشتاق صاحب کی بیگم کی قبر پر بھی فاتحہ پڑھی گئی، پھر ہم ایک گھنٹہ قبروں کے پاس بیٹھ کر عیش بھائی سے ان کے مرحوم بھائی کے قصے سنتے رہے۔ہر شعبے کے مرحومین کو یاد کرنے کا اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے، شاعروں کی برسی پر مشاعرے اور گویوں کی برسی پر میوزک کانفرنسیں ہوتی ہیں، مرزا صاحب مرحوم کو گھڑ دوڑ پر شرطیں بدنے کا شوق تھا۔ لہذا ہم قبرستان سے اٹھے اور سیدھے ریس کلب پہنچ گئے، جہاں اپنے برادرِ بزرگ کی یاد میں عیش بھائی نے قریباً دو سو ڈالر ’’عطیہ‘‘ دیا۔ہمیں امریکا میں ایک اور قبرستان دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا، شکاگو میں ایک تقریب میں جانا تھا مگر ابھی کچھ وقت باقی تھا، ہمارے میزبان خاور حسین نے بتایا کہ اس وقت ہم شکاگو شہر کے مرکزی قبرستان روزہل کے سامنے سے گزر رہے ہیں، اور اس میں ایک مسلم احاطہ بھی ہے جہاں ’ہمارے‘ بھی کچھ لوگ دفن ہیں، عباس تابش صاحب اور ہم نے فوراً قبروں پر جانے کی فرمائش کی۔ یہاں قبریں زمین کے ساتھ ہم وار ہوتی ہیں، بس مدفون کے نام کا کتبہ لگا ہوتا ہے۔ کچھ تلاش کے بعد ایک قبر ڈھونڈ لی گئی، نام کی تختی کو خودرو گھاس نے ڈھانپ رکھا تھا، جھاڑ جھنکار صاف کیا گیا۔ افتخار نسیم کی قبر تھی، کتبے پر افتی کا شعر لکھا ہوا تھا ’’کٹی ہے عمر کسی آبدوز کشتی میں…سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ 1996ءمیں ہماری افتی سے ایک ملاقات شکاگو میں ہوئی تھی، افتی نے ڈاکٹر مصدق ملک (حالیہ سینیٹر) اور ہمیں اپنے گھر پُر تکلف عشائیہ دیا۔ پھر وہ 22جولائی 2011ءکو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔’’بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ۔۔اڑا دیے ہیں پرندے شجر میں بیٹھے ہوئے۔‘‘ ہم دوسری قبر پر پہنچے، اُس کے کتبے پر یہ شعر لکھا تھا۔ یہ عدیم ہاشمی کی قبر تھی۔ 2001ءمیں ہارٹ ٹرانسپلانٹ آپریشن کے لیے عدیم شکاگو گئے تھے، آپریشن کے دوران عدیم چل بسے، ان کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری افتی نے ادا کی تھی۔ اب دونوں کی قبریں چند قدم کے فاصلے پر ہیں۔ آج کل تو لوگوں کے پاس زندہ احباب سے ملنے کا وقت نہیں ہے، ان قبروں پر کون آتا ہو گا؟ ہم قبرستان سے نکلے تو بے خیالی میں ہونٹوں پر ظہیر کاشمیری کا شعر جاری ہو گیا:
لوحِ مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا
