مشرف نے بطورآرمی چیف خود کو کیسے نوازا؟

خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واضح عدالتی احکامات کے باوجود نیب نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو قیمتی پلاٹوں سے نوازنے اور غیر قانونی ذرائع سے اپنی جائیداد بنانے کے الزامات پر کارروائی شروع نہیں کی۔ کرنل انعام کی جانب سے 16 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر کاروائی اسی مہینے متوقع ہے۔

یاد رہے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کے لیے نیب کو پہلا خط اپریل 2013 میں لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ موصوف نے دفاعی مقاصد کیلئے مختص ہزاروں بیش قیمت پلاٹ اپنے پیاروں کو الاٹ کر دیے جس وجہ سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان ہوا یے۔ کرنل انعام نے غیر قانونی طور پر فوجی جرنیلوں کو الاٹ کئے گئے ان پلاٹوں کی تفصیل بھی نیب کو فراہم کی تھی۔

کرنل انعام نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا تھا کہ نیب مشرف کی جانب سے الاٹ کردہ اور تحفہ کی گئی زمین کا مکمل سرکاری ریکارڈ حاصل کرے اور زمین کی واپسی کیلئے ڈائریکٹر جنرل ویلفئیراینڈ ری ہیبلیٹیشن کو ہدایات دے کیونکہ تمام زمینیں اس ملک کی ہیں جو عوام کی ملکیت ہے۔

نیب کو دی گئی درخواست میں کرنل انعام نے جنرل مشرف پر غیر قانونی ذرائع سے جائیدادیں بنانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ انکی جانب سے نیب کو مہیا کیے جانے والے دستاویزی ثبوتوں کے مطابق مشرف اور انکے خاندان کے نام پر ملک کے مختلف حصوں میں واقع 10 سے زائد جائدادیں ہیں جن میں ‏سےصرف دو جائیدادوں کی مالیت ہی ایک ارب بنتی ہے۔ کرنل انعام کے مطابق مشرف اور انکےخاندان کےنام پر موجود پلاٹوں میں پلاٹ نمبر 172 اور پلاٹ نمبر 301 خیابان فیصل DH

کراچی میں واقع ہیں۔ DHA کراچی کی آرمی آفیسرز ہائوسنگ سوسائٹی زمزمہ میں انکے ملکیتی دو گھر ہیں، DHA اسلام آباد میں کارنر پلاٹ نمبر 1A بھی انکا ہے، DHA اسلام آباد سیکٹر D میں واقع پلاٹ نمبر 15A اور پلاٹ نمبر 15B بھی مشرف کے ہیں۔
اپنی درخواست میں کرنل انعام نے نیب کو بتایا تھا کہ مشرف نےایک انوکھی ‏پالیسی متعارف کرائی تھی کہ بطور آرمی چیف نوکری کے خاتمے پرجب وہ ⁧آخری دستخط کریں گے تو اسکے ساتھ خاص پلاٹ کا الاٹمنٹ لیٹر بھی ہونا چاہیے‏جو کہ لاسٹ سگنیچر پلاٹ کہلاتا ھے۔ مشرف نے ایک اور خفیہ پالیسی یہ بھی متعارف کرائی کہ ریٹائرمنٹ پر آرمی چیف کو تمام تر سہولیات سے آراستہ ایک تیار شدہ 2 کنال کا گھر تحفہ میں دیا جائے گا۔ کرنل انعام کا موقف تھا کہ جنرل مشرف کے یہ فیصلے غیر قانونی تھے جن سے بعد میں آنے والے فوجی سربراہوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔

تاہم قومی احتساب بیورو جنرل مشرف کے خلاف کرنل انعام کی درخواست پر کوئی کارروائی کرنے سے انکاری تھا لہذا انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ کرنل انعام کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیب میں پہلی درخواست 2 اپریل 2013 کو بمع ثبوتوں کے دائر کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا ریکوڈک پر تاریخی معاہدے کا اعلان

انہوں نے دوسری درخواست 10 اپریل 2013 کو دائر کی جس میں FBR کی رپورٹ لگائ گئی اور بتایا گیا کہ موصوف نے کبھی انکم ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ 25 اپریل 2013 کو نیب نے تحریری طور پر کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے سے انکار کردیا اور لکھا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا کیونکہ اس وقت مشرف آرمی چیف تھا۔

یہ خط تب کے نیب چیئرمین فصیح بخاری کے ایما پر لکھا گیا تھا۔ بخاری کے بعد قمرلزمان آ گئے تو کرنل انعام نے انہیں تیسرا خط 20 نومبر 2013 کو لکھا اور بتایا کہ فصیح بخاری خود بھی غیر قانونی پلاٹ لینے والوں میں شامل تھے اس لیے انھوں نے مشرف کے خلاف کاروائی نہیں کی تھی۔ جب قمر زمان نے بھی کوئی کارروائی نہ کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ نیب ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا تو کرنل انعام نے چئیرمین نیب کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں 7 جنوری 2014 کو رٹ دائر کر دی۔

اس کیس کی سماعت چار برس بعد جسٹس اطہر من اللہ اور میاں گل اورنگزیب نے کی اور 8 فروری 2018 کو یہ تاریخی فیصلہ دیا کہ ریٹائر جرنیلوں کے خلاف نیب ہی نے کاروائی کرنی ھے۔ عدالت نے نیب کے اس خط کو جس میں اس نے کاروائی سے انکار کیا تھا، غیر قانونی قرار دے دیا گیا اور واضح حکم دیا کہ نیب مشرف کے خلاف انکوائری کرے اور باقاعدہ مقدمہ چلائے کیونکہ اب وہ سابق صدر اور ریٹائر افسر ھے اسلئے نیب کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ لیکن واضح عدالتی حکامات کے باوجود اگلے چار برس بھی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کرنے سے انکاری رہے۔

چنانچہ 16 جنوری 2022 کو کرنل انعام نے چیرمین نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی جسکی سماعت جنوری کے آخری ہفتے میں دو رکنی بینچ کے سامنے ہونے جا رہی ہے۔

Back to top button