کیا کپتان اوراسٹیبلشمنٹ میں حتمی ٹکراؤ ہونے جارہا ہے؟

سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے نام نہاد امریکی سازش کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب براہ راست فوجی ترجمان کو ہی چیلنج کر دیا ہے اور فرمایا ہے کہ فوج سیاسی معاملات پر بیان بازی سے گریز کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ کیا ڈی جی آئی ایس پی آر یہ فیصلہ کریں گے کہ سازش ہوئی تھی یا نہیں۔ یہ ان کی رائے ہوسکتی ہے، لیکن وہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی ترجمان کو سیاسی بیان بازی سے پرہیز کا مشورہ دینے والے عمران پچھلے کئی ماہ سے فوج کو نیوٹرل ہو جانے پر جانور قرار دیتے ہوئے اسے اپنی غیر جانبداری ختم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب پاکستانی فوج بھی امریکی سازش کا سازشی بیانیہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
باپ اور بیٹے کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنانے کی اصل وجہ کیا؟
عمران اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آنے کے بعد سے مصر ہیں کہ اُن کی حکومت کو ایک ’بیرونی سازش‘ کے ذریعے ہٹایا گیا۔ لیکن ’سازش‘ اور ’مداخلت‘ کے گرد گھومنے والی اس بحث میں نئی جان تب پڑی جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے سابق وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کے ایک بیان کی تردید کی۔ شیخ رشید نے 10 جون کو دنیا نیوز کے پروگرام میں کہا تھا کہ آرمی چیف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ نہیں کہا کہ سازش نہیں ہوئی۔ شیخ رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے دوران تینوں سروسز چیفس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیز کی طرف سے آگاہ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں۔ ایسا کچھ نہیں، میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔‘
واضح رہے کہ فوجی ترجمان نے اس تردیدی بیان کے لیے اسی پروگرام کا انتخاب کیا تھا جس میں اُن سے کچھ دن قبل شیخ رشید نے اپنا بیان دیا تھا۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ ‘حقائق کو مسخ کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، پچھلے کچھ عرصے سے افواج اور قیادت کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنی رائے کا سب کو حق ہے لیکن جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔‘ پھر 15 جون کو پی ٹی آئی رہنماؤں اسد عمر اور شیریں مزاری نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں اسد عمر نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت کے کچھ نمائندوں کو بیرونی سازش کے شواہد نظر نہیں آئے تھے تاہم سویلین قیادت میں اکثریت کی رائے یہ تھی کہ سازش نظر آ رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’سیاستدانوں کو آپس میں سیاسی معاملات طے کرنے دینا چاہیے۔ اگر بار بار ان سیاسی معاملات کی تشریح ڈی جی آئی ایس پی آر کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ فوج اور ملک کے لیے اچھا ہوگا۔‘
اس کے بعد جنرل بابر افتخار نے ہم نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قومی سلامتی کے معاملے پر جب اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جاتا ہے تو اس میں ایجنڈا پہلے سے طے ہوتا ہے۔ اس میں شرکا خاص طور پر سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی انٹیلی جنس معلومات لے کر جاتے ہیں، یہ رائے نہیں ہوتی۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی رائے ہے، یہ ہماری رائے ہے۔‘ اُنھوں نے اسد عمر کی جانب سے لفظ ’رائے‘ کے استعمال پر کہا کہ ’یہ رائے نہیں تھی، یہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر فراہم کردہ معلومات تھیں جن کے مطابق وہاں یہی بتایا گیا۔ انکاکہنا تھا کہ کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں بھی سازش کا لفظ شامل نہیں تھا۔ اسے رائے نہیں کہا جاسکتا۔ یہ صرف ایک بریف تھا۔
اسکے بعد پھر عمران خان خود میدان میں اتر آئے اور کہا کہ پاک فوج کے ترجمان یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ سازش ہوئی یا نہیں۔ اس مبینہ سازش یا مداخلت کے بارے میں سیاسی اور عسکری قیادت کے سلسلہ وار اور جوابی بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر سینئر صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ شہباز گل، شیریں مزاری اور اسد عمر نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے اس مؤقف کو جھٹلایا ہے کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔ اُنھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پی ٹی آئی عدالتی کمیشن کا مطالبہ کر کے یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ جیسے فوجی ہائی کمان یا جھوٹ بول رہی ہے، سچ چھپا رہی ہے، یا اس سے بھی کچھ برا ہے۔
ایسے میں اب سنجیدہ حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اس خفیہ مراسلے کو ڈی کوڈ کریں اور اسے کھلی بحث اور 22 کروڑ عوام کی معلومات کے لیے شائع کرائیں تاکہ یہ تجسس اور تذبذب ختم ہو کہ امریکہ سستی توانائی کے لیے عمران کے دورہ روس پر پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی سازش میں شامل تھا یا نہیں۔ اس معاملے پر ایک اور صحافی وسیم عباسی نے کہا کہ امریکہ نے سازش مراسلے میں کہا تھا کہ عمران خان کو ہٹا دو پاکستان کو معاف کر دیں گے۔ مگر عمران خان ہٹ گئے، پھر امریکہ پاکستانیوں کو مزے کیوں نہیں کروا رہا۔ ایک اور صحافی سلمان مسعود نے لکھا کہ کیا ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بار بار اپنی حکومت کے خاتمے پر سازش کے دعوئوں کے بعد پی ٹی آئی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان حتمی ٹکراؤ ناگزیر ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔
