کیا واقعی الیکشن کے بعد وزیر اعظم نواز شریف ہونگے؟

الیکشن سے پہلے ہی سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے نون لیگ کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اداروں کے اندازے کے مطابق آئندہ انتخابات کے بعد ملک میں حکومت نون لیگ بنائے گی اور مسلم لیگ (ن) 100 سے 110 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھاکہ الیکشن کے حوالے سے دوباتیں بڑی اہم ہیں ایک بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی معتبر سروے سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ہم الیکشن رزلٹ بارے کوئی تبصرہ کر سکیں اور دوسرا ایسی بہت ساری چیزیں بھی ہوئی ہیں جو الیکشن میں نہیں ہوتیں، اس دفعہ زیادہ ہوئی ہیں یہ دو عوامل ہیں جس کی وجہ سے الیکشن کے نتیجے کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ پاکستانی اداروں کے کچھ اندازے ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن الیکشن کے بعد لیڈ کرے گی، مسلم لیگ (ن) 100 سے 110 نشستیں حاصل کرسکتی ہے، یہ سب اگر مگر پر ہے، اگر پی ٹی آئی کا 60 فیصد والا ووٹ نکل آیا تو یہ اندازہ غلط ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ادارے کا اندازہ ہے 50 سے 60 سیٹیں پیپلزپارٹی لے گی کیونکہ اندرون سندھ میں ان کے مدمقابل کوئی بھی طاقت اس وقت موجود نہیں، کراچی میں ان کی پہلے 5 سیٹیں تھیں اور اس دفعہ کوشش کر رہے ہیں 8 سے 10 نشستیں لیں۔ان کا کہنا تھاکہ ماضی کے کسی بھی الیکشن سے زیادہ اس انتخابات میں آزاد امیدوار مدمقابل ہیں جن کی تعداد 1985 کے انتخابات سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے الیکشن کے بعد حکومت سازی میں آزاد امیدواروں کااہم کردار ہوگا۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھاکہ اگر ان اندازوں کو مانا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وفاق میں ن لیگ اور پی پی میں اتحاد نہیں ہوگا، بلوچستان اور پنجاب میں ن لیگ، سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی کیونکہ وہاں حربے کامیاب نہیں ہوئے تو وہاں تحریک انصاف کی حکومت ہوگی۔
دوسری جانب اردو نیوز کی طرف سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 8 فروری کے انتخابات میں رائے دہندگان کی اکثریت پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینا چاہتی ہے، تاہم ان کی رائے میں ملک کے آئندہ وزیرِاعظم نواز شریف ہوں گے۔سروے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بجائے جماعت اسلامی تیسری پسندیدہ جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
رائے دہندگان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ نئی آنے والی حکومت کے لیے معیشت کی بحالی سب سے بڑا مسئلہ ہو گا جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور امن وامان کی صُورتِ حال دیگر بڑے چیلنجز بن کر سامنے آئیں گے۔
رائے دہندگان میں 33.7 فیصد نے تحریک انصاف کو، 23 فیصد نے مسلم لیگ (ن) کو، 21.6 نے جماعت اسلامی کو جبکہ 5.6 نے پیپلز پارٹی کے حق میں فیصلہ دیا۔
سروے میں تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والوں کی اکثریت نے اس جماعت کے حق میں رائے دینے کی وجہ قیادت پراعتماد بتائی جبکہ نواز شریف کو وزیرِاعظم کے طور پر منتخب کرنے والوں کا خیال ہے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ مناسب ہوں گے۔
اردو نیوز کے سروے میں 7159 افراد نے حصہ لیا۔سروے میں 34.8 فیصد کی رائے میں ملک کے آئندہ وزیرِاعظم نواز شریف ہوں گے جبکہ 29.8 فیصد نے عمران خان کو بطور وزیراعظم منتخب کیا۔آٹھ فیصد کے خیال میں وزیرِاعظم بلاول بھٹو زرداری جبکہ 3.2 فیصد کے مطابق مولانا فضل الرحمان وزیراعظم ہوں گے۔ صرف دو فیصد رائے دہندگان نے شہباز شریف کے حق میں رائے دی جبکہ ایک فیصد سے بھی کم رائے دہندگان نے کہا کہ آئندہ وزیرِاعظم مریم نواز ہوں گی۔
نئی آنے والی حکومت کے لیے سب سے بڑے مسئلے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں 42.6 فیصد افراد نے معیشت کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔(32.2 فیصد) افراد نے مہنگائی، (15.1 فیصد) افراد نے بے روزگاری جبکہ (10.1 فیصد) افراد نے امن و امان کی صورتِ حال کو بڑا مسئلہ بتایا۔
اردو نیوز کے سروے میں عام اندازوں کے برعکس پیپلز پارٹی کے بجائے جماعت اسلامی تیسری مقبول ترین جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ جماعت اسلامی کے حق میں ان افراد نے زیادہ رائے دی ہے جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف اب حکومت نہیں بنا سکتی اور وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی
سے بھی مایوس ہیں۔
