ن لیگ کو بچانے کیلئے نواز شریف کی وطن واپسی ناگزیر کیوں ہے؟

مریم نواز کی پارٹی کی چیف آرگنائزر کے طور پر واپسی کے بعد سے مسلسل چومکھی لڑائی کا سامنا ہے کیونکہ  ان کی پاکستان واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک جانب وفاق میں اتحادی جماعتوں کی حکومت، خاص طور پر مسلم لیگ ن، کو معاشی بحران کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئے انتخابات کا منظر نامہ پیدا ہو رہا ہے۔ مریم نواز کو عوامی رابطہ مہم کے دوران پارٹی کی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے ملک میں بڑھتی مہنگائی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف کی فراہمی میں ناکامی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور عوام کے سامنے حکومتی کارکردگی کا دفاع ان کیلئےایک چیلنج بن چکا ہے۔دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں صرف نواز شریف کی وطن واپسی ہی ن لیگ کی گرتی ساکھ کو بچاسکتی ہے۔ پارٹی کو بچانا ہے تو نواز شریف کو فوری وطن واپس آنا ہو گا۔

گزشتہ تین ہفتوں میں مریم نواز نے پارٹی میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ لاہور کی صدارت سیف الملوک کھوکھر کو دینے کے ساتھ ساتھ خواتین کی تنظیم اور سوشل میڈیا کی ٹیموں کو آرگنائز کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے کئی کنونشنز کی بھی صدارت کی اور پارٹی ورکرز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قیادت کے تحفظات دور کرنے کی بھی سعی کی۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مریم نواز کے پاس حکومتی کارکردگی کے نام پر عوام کو بتانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو وہ میدان میں کیا بیانیہ لے کر اتر رہی ہیں؟ن لیگی رہنما پرویز رشید اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ ان کی حکومت میں پھیلائی گئی معاشی تباہی سے ہے، مریم ان کے جھوٹے بیانیہ کو لوگوں کو حقائق بتا کر دفن کررہی ہیں۔‘مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے کہا کہ ’عمران خان کو جس طرح ملک پر مسلط کیا گیا اور ان کی نااہلی سے معاشی بدحالی پیدا ہوئی ناقص حکمت عملی کے اثرات نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی۔

ن لیگ دیگر اتحادیوں سے مل کر عمران دور میں پھیلائی بدحالی ختم کر کے ملک کو خوشحالی کی طرف لانے کے چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔ پرویز رشید کے خیال میں ’عمران خان کو لوگ کافی حد تک جان چکے ہیں کہ وہ کتنے نااہل ہیں اور مزید اب مریم نوازشہر شہر جاکر عوام کو آگاہ کررہی ہیں۔ پرویز رشید کے مطابق پنجاب ن لیگ کا گڑھ ہے مشکل وقت گزر جائے گا اور دوبارہ خوشحالی و ترقی کا سفر وہیں سے شروع کریں گے جہاں سازشوں سے روکا گیا تھا۔

دوسری طرف سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بتایا کہ ’اگر تو آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مسلم لیگ ن کے مسائل مریم نواز حل کر سکتی ہیں؟ تو میرا جواب ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت صرف اور صرف نواز شریف ہی اپنی پارٹی کو سیاسی بھنور سے نکال سکتے ہیں۔ میرے خیال میں انہوں نے پہلے ہی بہت تاخیر کر دی ہے۔ ان کو اس وقت ملک میں ہونا چاہیے تھا۔‘’مریم نواز تو میرے خیال میں ان کے آنے سے پہلے ذرا میدان ہموار کر رہی ہیں۔ پارٹی پر ان کی گرفت ویسی نہیں ہو سکتی جیسی نواز شریف کی ہے۔‘

چند روز قبل راولپنڈی کنونشن میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی ملاقات نے انہوں نے اس سوال کا جواب، کہ ان کے پارٹی کی چیف آرگنائزر بننے کے بعد بڑا فائدہ کیا سامنے آیا ہے، یوں دیا کہ ’میں ابھی تک صرف پارٹی کو ری آرگنائز کر رہی ہوں اور ایک ایک ورکر تک خود پہنچ رہی ہوں، ابھی میدان کی سیاست شروع ہی نہیں کی ہے۔ ہماری لیڈر شپ اس وقت حکومت میں ہے اور وزرا ہیں تو وہ اس وقت ملک کو معاشی مسئلے سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب سیاسی میدان سجے گا توصورت حال مختلف ہوگی۔

مسلم لیگ ن کی پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری کہتی ہیں کہ ’مریم نواز نے جس طریقےسے پارٹی کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ ان کی ساری توجہ نوجوانوں پر ہے اور وہ پارٹی کی سوشل میڈیا پر موجودگی پر بھی بڑا کام کر رہی ہیں۔ ان کے ذمہ جو کام لگائے گئے ہیں وہ بخوبی نبھا رہی ہیں۔

مریم نواز کامیاب ہو رہی ہیں یا ناکام اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’یہ سوال ابھی قبل از وقت ہے یہ بات درست ہے کہ اس وقت ان کا کام آرگنائزیشنل موڈ میں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ جب الیکشن کی سیاست شروع ہو گی تو جلسے ہوں گے تو اس وقت وہ کتنا کراؤڈ اکھٹا کرتی ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کا سیاسی تجربہ بھی ابھی بہت کم ہے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ یہ سب کو نظر آ رہا تھا کہ اگر پارٹی کی ساکھ بچانی ہے تو نواز شریف کو اب واپس آنا ہو گا۔ شاہد خاقان ہوں خواجہ آصف ہوں یا دیگر لیڈر سب اس بات کا اظہار کر چکے ہیں۔

اداکارہ کرن اشفاق طلاق کے بعد خوش کیوں ہیں؟

Back to top button