نون لیگ نواز شریف کی باعزت وطن واپسی ممکن بنا پائے گی؟

سولہ ماہ کی حکومت کے بعد شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے حوالے سے ایک روڈ میپ کی بنیاد رکھ دی ہے۔اب مسلم لیگ ن کو انتہائی دانشمندی سے نوازشریف کی باعزت وطن واپسی یقینی بنانی ہے۔کیونکہ ووٹر صرف نواز شریف کے نام پر باہر نکلتا ہے اور اگر نوازشریف نے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو لیڈ کرلیا تو مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئے گی. ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حذیفه رحمان نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف پوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ کا ہماء شہباز شریف کے سر پر آبیٹھا۔ شہباز شریف نے اپنے مزاج کے خلاف 13جماعتی اتحاد کے ساتھ مل کر حکومت چلائی۔آج شہباز شریف کی منتخب حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرکے گھر جاچکی ہے۔ شہباز حکومت کی 16ماہ کی کارکردگی کیسی رہی؟ اس پر ملا جلا ردعمل سننے کو ملتا ہے۔ذاتی طور پر شہباز شریف نے انتہائی محنت اور لگن سے دن رات کام کیا۔لیکن ان کے دفتر کی ٹیم سے ان کی جماعت کے اراکین اسمبلی اور وزراء کو شدید شکایات رہیں .
حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ وقت کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔لیکن ہمارے کچھ دوست بھی بڑے عجیب ہیں کہ وہ کبھی وقت سے نہیں سیکھتے۔حالانکہ طاقت اور پیسہ انسان کو اوقات یاد کروانے کے لئے آتا ہے۔مسلم لیگ ن کے وزراء میں ایاز صادق،اعظم نذیر تارڑ،رانا ثنااللہ،خرم دستگیر،احسن اقبال اور رانا تنویر نے اپنی جماعت کے لوگوں سے بہت پیار کیا اور بھرپور کوشش کی کہ ان کی وزارت کے دروازے ساتھیوں کے لئے کھلے رہیں اور تمام جائز کام ہوتے رہیں۔رانا ثنااللہ کے 16ماہ کی خوبصورتی رہی کہ انہوں نے وزارت داخلہ میں ایک عام آدمی کو بھی رسائی دی ،حالانکہ ماضی میں وزارت داخلہ میں جانا اتنا مشکل کام تھا کہ لگتا تھا کہ شاید یہاں جانے کے لئے علیحدہ سے ویزہ لینا پڑے گا۔ لیکن ان کے دور میں تمام اراکین اسمبلی کی تجاویز پر مناسب تحقیقات کے بعد ہزاروں اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ۔سردار ایاز صادق نے سیاسی محاذ پر میاں شہباز شریف کا بھرپور ساتھ دیا اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی دی. اتحادیوں میں پیپلزپارٹی کے وزیروں کا رویہ حیرت انگیز طور پر شاندار رہا۔قمر الزمان کائرہ ،شیری رحمن اور نوید قمر نے کابینہ کی عزت بڑھائی۔بلاول بھٹو زرداری بذات خود ایک کامیاب وزیرخارجہ کے طور پر سامنے آئے۔
شہباز شریف نے انتہائی نا مساعد حالات میں بھرپور کوشش کی کہ پاکستان کو حالیہ معاشی بحران سے نکالا جائے۔شہباز شریف نے ملک بچانے کیلئے اپنی سیاست داؤ پر لگائی۔شاید پاکستان کا کوئی بھی سیاستدان اتنی بھاری قیمت ادا کرنے پر رضامند نہ ہوتا مگر شہباز شریف نے ملکی معیشت بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی۔ شہباز شریف کا مزاج نہیں ہے کہ وہ تمام اتحادیوں کے جائز ناجائز مطالبات پورے کریں اور برداشت سے حکومت چلائیں۔لیکن انہوں نے گزشتہ سولہ ماہ میں یہ کام بھی احسن طریقے سے انجام دیا۔
حذیفہ رحمان کے مطابق آج شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے حوالے سے ایک روڈ میپ کی بنیاد رکھ دی ہے۔چند سال پہلے اسٹیبلشمنٹ کی بائیں جانب سمجھے جانے والی جماعت آج انکی پسندیدہ جماعت ہے۔اب مسلم لیگ ن کو انتہائی دانشمندی سے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔نوازشریف کی باعزت وطن واپسی یقینی بنانی ہے۔کیونکہ ووٹر صرف نواز شریف کے نام پر باہر نکلتا ہے اور اگر نوازشریف نے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو لیڈ کرلیا تو مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئے گی۔اب مسلم لیگ ن کی پاکستان میں موجود قیادت کی سب سے اولین ترجیح نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے انتظامات کی تیاریاں ہونی چاہئیں تاکہ نوازشریف وطن واپس پہنچ کر اپنی پوری توجہ پارٹی کی تنظیم نو اور آئندہ انتخابات پر مرکوز کرسکیں۔کیونکہ نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن انتخابی سیاست میں کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔اس لئے نوازشریف او ر مسلم لیگ ن ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔
