پنکی پیرنی تحریک انصاف کی زہریلی سیاست کی ماسٹر مائنڈ قرار

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی ڈائری سامنے آئی ہے جس پر تحقیقاتی اداروں، مقامی و عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، ذرائع کے مطابق اس ڈائری سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی زہریلی اور جارحانہ سیاست کی ماسٹر مائنڈ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ہیں۔ ڈائری کے مندرجات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی ایک نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اب اس نیٹ ورک کا پتہ چلایا جائے گا کہ ملک میں انارکی پھیلانے کی سوچ کے فروغ میں مزید کون کون ملوث ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ابھی ڈائری کے مزید ہیجان انگیز حصے بھی سامنے آ سکتے ہیں جو بشریٰ بی بی اور اس پورے نیٹ ورک کو قانون کی گرفت میں لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق بشری بی بی کی ڈائری کے جو اقتباسات سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی اپنے شوہر کی ماسٹر مائنڈ کے طور پر نمایاں ہیں جو نہ صرف خوراک کنٹرول کرتی ہیں بلکہ سیاست بھی کنٹرول کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس ڈائری کے سامنے آنے والے مندرجات پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سابق تفتیش کار نے بتایا کہ یہ مندرجات ایک خاتون کے اپنے شوہر پر حاوی ہونے کی واضح علامات ہیں اور اس کے مختلف پہلو ہیں جن میں خوراک کا چارٹ بھی شامل ہے اور سیاست میں سابق خاتون اول کا پلڑا بھاری ہے۔ اس ڈائری میں کسی ایک سطر میں بھی عمران خان کو نماز پنجگانہ کی تلقین یا نصیحت شامل نہیں۔ اس کے برعکس عام آدمی کو اُکسانے، اشتعال دلانے کی ترغیبات اور مشورے موجود ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے ایک دیرینہ ساتھی نے بشریٰ بی بی کی جانب سے تجویز کردہ خوراک کا چارٹ سامنے آنے پر بتایا کہ یہ چارٹ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ عمران خان بہت خوش خوراک ہیں۔ انہیں مچھلی، مٹن اور دیسی مرغ مرغوب ہیں۔ لیکن موجودہ اہلیہ سے پہلے کچھ عرصہ ان کی رفیق حیات رہنے والی خاتون کے دور رفاقت میں ایسا کوئی چارٹ بنی گالا میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ بنی گالا میں عمران سے قربت رکھنے والے ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے ابتدائی دنوں میں ہی عمران خان کی خوراک کے امور کنٹرول کر لیے تھے۔ اس کے بعد سیاسی معاملات کو روحانیت کے سانچے میں ڈھالنے پر کام شروع کیا۔ جس کا مقصد پارٹی کارکنوں کو سیاسی کارکنوں کے بجائے مذہبی جنونی اور جذباتی بنانے کا ایجنڈا تھا۔ پی ٹی آئی کی ایک سابق خاتون ایم پی اے نے بتایا کہ ہم سیاسی ماحول میں تفریحی ماحول کو جدت سمجھتے تھے اور انجوائے کیا کرتے تھے ۔ مگر اس سے جدت پسندی ختم اور شدت پسندی بتدریج بڑھنا شروع ہوگئی جو لوگوں میں جنونیت سے بھی آگے تک چلی گئی تھی۔ اس سے عمران خان سیاسی لیڈر بننے کے بجائے آمر بنتے چلے گئے اور کلی طور پر من مانی کرنے لگے جس سے پارٹی اور خاص طور پر بنیادی کا رکن بُری طرح متاثر ہوا اور ہماری طرح پیچھے ہٹ گیا ۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی بنیادی اور بانی قیادت کو ختم کر کے نیا رنگ دینے کے ایجنڈے پر دو ہزار انیس میں کام شروع ہو گیا تھا جو ڈائری سامنے آئی ہے۔ وہ قریب قریب ہماری تمام باتوں اور خدشات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ عمران کو بھی بزدار انداز میں کنٹرول کیا جاتا رہا ہے اور ملک میں انار کی پھیلانے کی مسلسل کوشش کی جاتی رہی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائری کے مختلف مندرجات ابھی سامنے آنا باقی ہیں اور ایک سے زائد ڈائریاں بھی ہو سکتی ہیں جو ممکنہ طور پر بشریٰ بی بی کی روحانیت پر دسترس کی نشاندہی میں بھی معاون ثابت ہوں کہ کیا وہ واقعی کچھ روحانی علوم رکھتی ہیں یا دیگر علوم کی بنا پرکسی خاص نکتہ نظر سے اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک ڈائری کے دو حصے اور مندرجات سامنے آئے ہیں جو عدلیہ اور انتظامیہ سے متعلق ہیں اور گورنر راج کے بارے میں ہیں۔9 مئی کے واقعات اس کے بعد رونما ہوئے ہیں۔ ڈائری کے مفصل جائزے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ ان واقعات کی ترغیب اور مشاورت میں سابق خاتون اول کا کیا کردار رہا ہے اور اس کی روشنی میں کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت تک سابق وزیراعظم کی اہلیہ تحقیقاتی اداروں سے مکمل تعاون کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ساتھ کسی مرحلے پر سختی نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف مواقع پر انہیں ہرممکن ریلیف دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی عرف پنکی پیرنی کی ڈائری کے مندرجات کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مندرجات مکمل سیاق و سباق کے ساتھ سامنے نہ ہوں کوئی حتمی قانونی رائے نہیں دی جاسکتی ہے۔ البتہ اب تک جو چیزیں سامنے آئی ہیں ان میں بظاہر یہی لگتا ہے کہ عمران خان کی سب سے بڑی اور اصل مشیر ان کی اہلیہ بشری بی بی ہی ہیں ریاست کیخلاف توڑ پھوڑ اور نقص امن کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں۔ اس کے لیے دی جانے والی کالوں اور کارکنوں کو اشتعال دلانے میں بشری بی بی مکمل شریک سازش ہیں۔ اس لئے پنکی پیرنی کیخلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
