نگراں وزیر اعظم کے انتخاب کی اصل کہانی کیا ہے؟

باپ کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی بطور نگران وزیراعظم تقرری کا سرپرائز، سیاستدانوں نے دیا یا سیاستدانوں کو دیا گیا‘‘،یہ حقیقت شاید بعد میں منکشف ہوگی کہ نگران وزیراعظم کیلئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوارالحق کا انتخاب اصل میں کس کا تھا، کب ہوا، اور عوامل کیا تھے اور کس نے کیا تھا۔ تاہم مبصرین اس بات ہر متفق دکھائی دیتے ہیں کک انتقال اقتدار سے قبل ایک اہم مرحلے پر کاکڑ کے اچانک انتخاب کا مطلب یہ ہےکہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت کوئی بھی ‘چانس ‘ لینے کے موڈ میں نہیں۔

ڈی ڈبلیو ہی ایک رہورٹ کے مطابق سینیٹر انوارالحق کاکڑ کی پاکستان کے آٹھویں نگران وزیر اعظم کے طور پر نامزدگی کو ایک سر پرائز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اس باون سالہ پختون سینٹر کی ملکی مقتدر قوتوں سے شناسائی نئی نہیں۔ اس کے باجود سیاسی پنڈت اس بات کی کھوج لگانے میں مصروف ہیں کہ کاکڑ کے اچانک انتخاب کے پیچھے کیا وجوہات کار فرما ہو سکتی ہیں؟

نگران وزیر اعظم کے لیے ہفتوں سے مقامی میڈیا میں گردش کرنے والے درجن بھر ناموں میں سے کوئی بھی نام وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی فیصلہ ساز میٹنگ میں قبولیت نہ پا سکا اور راجہ ریاض کے ذریعے پیش کیے جانے والے ایک غیر متوقع نام کے سامنے شہباز شریف نے بغیر کسی اعتراض کے سر کیوں تسلیم خم کر لیا۔

سیاسی پنڈت اس کشمکش کا شکار ہیں کہ نگران وزیر اعظم کا نام راجہ ریاض اور شہباز شریف نے اپنی طرف سے قوم کو دیا ہے یا پھر کسی اور نے انہیں یہ نام پہنچایا ہے۔ بعض حلقے غیر متنازعہ شخصیت کے حامل ، پڑھے لکھے اور محنتی انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم کے لئے مقتدر حلقوں کا بہتر انتخاب بھی قرار دے رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم کے بقول انوارالحق کاکڑ پرانے غیر متنازعہ سیاسی کارکن ہیں۔ انوارالحق کاکڑ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں وسیع رابطے رکھنے والے شخص ہیں۔اور وہ ”پاور کوریڈورز‘‘ سے بھی واقف ہیں۔

ڈان کوئٹہ سے وابستہ ایک سینئر صحافی سلیم شہزاد کا ہہنا ہے کہ انوار الحق کاکڑ کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے ۔ وہ ایک پڑھا لکھا شخص ہے جسے ”مین آف لٹریچر‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ انہیں کتابوں سے شغف ہے وہ بہت اچھے اسپیکر ہیں۔ انہیں لیکچرز کے لیے فوج کے سٹاف کالج اور نیپا جیسے سول افسران کے اداروں میں بلایا جاتا رہا ہے۔” اگر انوارالحق کاکڑ کو’رائیٹ پرسن فار رائیٹ جاب‘ قرار دیا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ‘‘

خیال رہے کہ سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 2008 ء میں (ق) لیگ کےٹکٹ پرکوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ انوار الحق کاکڑ پاکستان مسلم لیگ نون کے اس وقت کے رہنما ثنا اللہ زہری کی زیرقیادت بننے والی بلوچستان حکومت کےترجمان بھی رہے۔ دو ہزار اٹھارہ میں وہ آزاد حیثیت میں سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)کی تشکیل میں سرگرم کردار ادا کیا ۔ وہ اس پارٹی کے بھی ترجمان رہے۔ جب بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلی جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد باپ میں اختلافات پیدا ہوگئے تو انہوں نے صادق سنجرانی اور عبدالقدوس بزنجو کی بجائے جام کمال کا ساتھ دیا تھا۔

 

کہا جاتا ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ پاکستان مسلم لیگ نون کے قریب آگئے تھے۔ ان کی سابق وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال کے ساتھ مسلم لیگ ن میں شمولیت کی خبریں بھی آ رہی تھیں ۔ رواں سال جون میں ان دونوں رہنماوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف سے ملاقات بھی کی تھی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ انوارالحق کاکڑ ایک ایسے وقت میں ملک کے نگران وزیر اعظم بنے ہیں، جب ملک کو شدید معاشی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے۔

تجزیہ کار حبیب اکرم کے بقول کاکڑ غیر روایتی سوچ کے حامل ہیں اور معاملات کو زمینی حقائق کی روشنی میں درست تناظر میں ہی دیکھنے کے عادی ہیں اور ان کے پاس دو انتہاوں کے درمیان مشترکہ نکات تلاش کرلینے کی بھی صلاحیت ہے اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کریں گے اور ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف سفر شروع کرسکیں گے۔

Back to top button