نواز شریف لاہور نہیں، اسلام آباد ائیرپورٹ پر اترینگے؟

شہباز شریف کے اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ستمبر میں وطن واپسی کے اعلان کے بعد لیگی قیادت نے نواز شریف کے پاکستان آمد بارے حتمی شیڈول کی تیاری شروع کر دی ہے۔ نواز شریف کس ائیرپورٹ پر اتریں گے؟ کون سے رہنما وطن واپسی پر نواز شریف کے ساتھ ہونگے؟ نواز شریف کا استقبال کس طرح کیا جائے گا؟ وطن واپسی پر نواز شریف کو قید و بند کی صعوبتوں سے بچانے کیلئے کون سے اقدامات اٹھائے جائیں؟ تمام حوالوں سے مشاورت کی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

لیگی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب تک کی مشاورت کے مطابق نوازشریف اسلام آباد میں اتریں گے اور وہ بذریعہ موٹروے لاہورجائیں گے،وطن واپسی پر وہ متحدہ عرب امارات میں مختصر قیام بھی کریں گے۔لیگی سیاست کو لاہور سے مکمل طور پر ہینڈل کیا جائے گا۔مسلم لیگ نون لاہور میں اپنا مرکزی انتخابی دفتر بنائے گی،شہبازشریف اور مسلم لیگ نون کے متعدد رہنما عازم لندن ہو رہے ہیں،جہاں پر تمام معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی. دوسری جانب اس امرکا اشارہ دیا گیاہے کہ نوازشریف وطن واپسی کے سفرمیں متحدہ عرب امارات میں مختصر قیام کرسکتے ہیں انہیں تجویز دی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پراتریں گے اوریہاں سے وہ جی ٹی روڈ کے راستے لاہور کا سفر اختیار کریں گے۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے عازم لندن ہوں گے جہاں وہ اپنی جماعت کے قائد نوازشریف سے پیش آمدہ سیاسی صورتحال کےبارے میں تفصیلی مشاورت کریں گے اوران سے ہدایات حا صل کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے بعض سرکردہ رہنما بھی لند ن سے اس سفر میں ان کے ہمرکاب ہوں گے۔ شہباز شریف کے اس دورے میں نوازشریف کی وطن واپسی کا نظام الاوقات بھی طے کیاجائے گا .شہبازشریف کی عدم موجودگی میں جماعت کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر محترمہ مریم نواز شریف انتخابی مہم کی شروعات کریں گی فی الوقت ان کی تمام توجہ نواز شریف کی وطن واپسی پران کے شایان شان خیرمقدم کرنے پرمرتکز ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس امرکاکوئی امکان نہیں کہ نوازشریف کی وطن واپسی میں کوئی تاخیر رونما ہوسکے۔

خیال رہے کہ شہبازشریف جو پاکستان مسلم لیگ نون کے صدرہیں اوائل ہفتہ اعلان کرچکے ہیں کہ نوازشریف آئندہ ماہ وطن واپس آجائیں گے ہفتے کی صبح سینئر صحافیوں کے اعزاز میں ناشتے کے دورا ن بھی انہوں نے اس کا اعادہ کیا ہے کہ نواز شریف ستمبر میں پاکستان واپس آ جائیں گے۔

دوسری جانب نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف کا بھی کہنا ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی بہت جلد ہوگی اور ان کے ساتھ ماضی کی گئی تمام زیادتیوں کا ازالہ ہوگا۔ ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپراپنے بیان میں کہا نواز شریف کی نااہلی 5سال کی مدت گزرنے کے بعد ختم ہوچکی ہے، سابق وزیرعظم سیاست میں بھرپور کلیدی کردار ادا کریں گے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 11 اگست کو ریویو آف آرڈر اینڈ ججمنٹس ایکٹ کے کالعدم قرار دے کر مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی پارلیمانی سیاست میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں کیونکہ نواز شریف کو جس مقدمے میں سزا سنائی گئی وہ بھی آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت لیے گئے ازخود نوٹس کے نتیجے میں ہی شروع ہوا تھا، اس لیے قانون برقرار رہنے کی صورت میں انھیں بھی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ملا تھا تاہم ان کی جانب سے اپیل دائر ہونے سے قبل ہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی نااہلی کی مدت پر دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے جمعے کو ازخود نوٹس کے فیصلوں پر نظرِثانی کا قانون کالعدم قرار دینے سے نواز شریف کی نااہلی سے متعلق معاملات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ طور پر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نواز شریف کی نااہلی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

تاہم اس موقف کے برعکس بعض قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی جس ادارے، یعنی سپریم کورٹ، سے ہوئی اسی ادارے نے اپنے ایک فیصلے میں اس کی مدت کا تعین بھی کیا ہے یعنی اسے تاحیات قرار دیا ہے اور جب تک سپریم کورٹ اپنے اس فیصلے پر نظرِثانی نہیں کرتی صرف الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نواز شریف کی نااہلی کی مدت کا دوبارہ تعین نہیں کیا جا سکتا۔ماہر قانون شعیب شاہین نے بتایا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کو اپنی نااہلی کے خلاف ملنے والا اپیل کا حق اب ختم ہوگیا ہے تاہم اگر کسی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اسے بھی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا تو پھر نواز شریف اور جہانگیر ترین کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

Back to top button