نواز شریف ائیرپورٹ سے باہر آئینگے یا سیدھے جیل جائینگے؟

سابق وزیراعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی متوقع وطن واپسی کا چرچا زبان زدعام ہے لیکن کیا نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد فوری گرفتاری ان کا مقدر ہو گی اور وہ ائیر پورٹ سے سیدھے جیل جائیں گے یا آمدہ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمپین چلانے کیلئے آزاد ہونگے؟ اس سوال پر قانونی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔بعض قانونی ماہرین کے مطابق نواز شریف بیرون ملک روانگی سے قبل جیل میں سزا کاٹ رہے تھے اور عدالتی ریلیف پر ملک سے باہر گئے تھے اس لئے وطن واپس آکر انھیں سیدھا جیل جانا پڑے گا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم کے مطابق ان کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ موجود ہے اور نواز شریف کو دوبارہ جیل جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خیال رہے کہ قائد ن لیگ میاں نواز شریف کو وطن واپسی پر 3 مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا جن کے لیے انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑے گا لیکن اس سے قبل انہیں گرفتاری سے بچنے کے لیے 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت درکار ہو گی۔نواز شریف کو جن 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت درکار ہو گی ان میں العزیزیہ کرپشن ریفرنس اور جبکہ ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس شامل ہیں جن میں انہیں بالترتیب 7 اور 10 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ان دونوں مقدمات میں عدم پیشی پر میاں نواز شریف کو دسمبر 2020 میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ نومبر 2019 میں لاہور ہائی کورٹ کو لندن میں 4 ہفتے علاج کروانے کے بعد واپسی کی یقین دہانی پر ملک سے باہر گئے تھے۔ تیسرا مقدمہ توشہ خانہ تحائف سے متعلق ہے لیکن وہ ابھی ٹرائل کے مرحلے میں ہے۔

واضح رہے کہ 2019 میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے 2 ججوں کے بینچ نے نواز شریف کو ابتدائی طور پر 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، طبی بنیادوں پر اس مدت میں مشروط توسیع کی گنجائش موجود تھی۔

نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنے قائد کو گرفتاری سے بچانے کے لیے قانونی پیش بندی کر لی ہے، نواز شریف کے کیس لڑنے والے امجد پرویز ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو گرفتاری سے بچانے کے لیے جو قانونی پیش بندی کی گئی ہے اسے فی الحال پبلک نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قانونی مشاورت جاری ہے اور میاں نواز شریف مختلف لوگوں سے قانونی آرا لے رہے ہیں اور جونہی قانونی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی جائے گی اس کی تفصیلات میڈیا سے شیئر کردی جائیں گی۔رکن قانونی ٹیم نے کہا کہ میاں نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ کرپشن ریفرنسز میں اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں اور ان کے خلاف توشہ خانہ کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں زیر التوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقدمات میں حفاظتی ضمانتوں کے لیے درخواستیں الگ الگ بھی دی جاسکتی ہیں اور ایک ساتھ بھی دی لیکن فی الحال اس قانونی حکمت عملی کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔

نواز شریف کی قانونی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ وطن واپسی سے چند روز قبل نواز شریف کی جانب سے حفاظتی ضمانت یا راہداری ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ درخواست جس میں 2 ججز پر مشتمل بینچ نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی وہ تاحال عدالت میں زیر التوا ہے اور ممکنہ طور پر متفرق درخواست کے ذریعے اسی بینچ سے رجوع کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد جا کر ہائی کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں عبوری حفاظتی ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے، امید ہے کہ ہائی کورٹ نواز شریف کی پیشی کے بعد ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دے گی اور بعد ازاں طبی بنیادوں پر انہیں ضمانت مل جائے گی۔

لیکن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری آفتاب احمد باجوہ کے مطابق نواز شریف کو وطن واپسی پر دوبارہ جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ جیل سے بیرون ملک گئے تھے۔آفتاب احمد باجوہ کے مطابق نواز شریف نہ صرف اشتہاری مجرم ہیں بلکہ ایک سزا یافتہ مجرم بھی ہیں، اور قانون میں کسی سزا یافتہ مجرم کو حفاظتی ضمانت دینے کی کوئی گنجائش یا نظیر نہیں ملتی، تاہم پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور صورتحال بدل بھی سکتی ہے۔

نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہونے کے لیے میاں نواز شریف پاکستان واپسی سے پہلے کسی بھی عدالت سے بھی حفاظتی ضمانت لے سکتے ہیں لیکن اگر وہ حفاظتی ضمانت نہیں لیتے تو انہیں جہاز سے اترتے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔عمران شفیق نے کہا کہ کچھ سینیئر وکلا کی رائے یہ ہے کہ وطن واپسی پر میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑے گا لیکن میری رائے میں اگر وہ اپنے وکلا کے ذریعے عدالت کو قائل کر پائے کہ ان کی عدالت سے غیر حاضری ارادی نہیں بلکہ اس میں کچھ حقیقی مجبوریاں حائل تھیں تو عدالت سے انہیں ریلیف مل سکتا ہے اور ویسے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس میں جن بنیادوں پر مریم نواز کو بری کر چکی ہے ان کا اطلاق میاں نواز شریف پر بھی ہوتا ہے اور العزیزیہ کرپشن مقدمہ تو جج ارشد ملک کی ویڈیو اور اسی سے جڑی ہوئی آڈیوز کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھر بھی اگر میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑا تو شاید وہ چند دنوں کی قید ہو۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما ڈاکٹر آصف سعید کرمانی کے مطابق میاں نواز شریف وطن واپسی پر خود کو آئین و قانون کے مطابق عدالت کے سامنے سرینڈر کریں گے۔ڈاکٹر آصف سعید کرمانی نے بتایا کہ 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر میاں نواز شریف پہلے مینار پاکستان جائیں گے جہاں وہ ایک جلسے سے خطاب کریں گے اور اس سے اگلے دن وہ عدالت کے

پاکستان کا ہالینڈ کو فتح کیلئے 287 رنز کا ہدف

سامنے پیش ہوجائیں گے۔

Back to top button