اداکار نوازالدین صدیقی نے اہلیہ کو جھوٹاقرار دے دیا

بالی ووڈ سٹار نوازالدین صدیقی نے اہلیہ عالیہ صدیقی سے تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان بہت عرصہ پہلے طلاق ہو چکی ہے، اب میرا عالیہ صدیقی سے کوئی تعلق نہیں ہے، مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
نواز الدین صدیقی اور عالیہ صدیقی نے 2010 میں شادی کی تھی اور انہیں دو بیٹے شورا اور یانی ہیں، جس میں شورا کی پیدائش 2014 اور 2015 کے درمیان ہوئی جب کہ بعد ازاں ان کے ہاں یانی کی پیدائش ہوئی۔
اداکار اور ان کی اہلیہ کے درمیان 2018 میں بھی اختلافات ہوگئے تھے اور عالیہ صدیقی نے خلع کے لیے عدالت سے رجوع تک کرلیا تھا مگر بعد ازاں بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں کے درمیان صلح ہوگئی، جس کے بعد انہیں بعض مرتبہ ایک ساتھ بھی دیکھا گیا لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اداکار کی سابق اہلیہ نے سوشل میڈٰیا پوسٹس کے ذریعے نواز الدین صدیقی پر سنگین الزامات لگائے ہیں، یہاں تک کہ ان پر ریپ جیسے الزامات بھی لگائے۔
حالیہ چند ہفتتوں میں عالیہ صدیقی نے انسٹاگرام پر متعدد ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے ان میں دعویٰ کیا کہ اداکار انہیں گھر میں باتھ روم تک استعمال نہیں کرنے دیتے تھے جبکہ وہ ان کے بڑے بیٹے شوریٰ کو اپنا بیٹا تک نہیں مانتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ناجائز ہے۔
اسی طرح گزشتہ ماہ فروری میں عالیہ صدیقی نے اداکار پر ریپ کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا، لیکن ان تمام الزامات کے باوجود نواز الدین صدیقی نے اس وقت کوئی جواب نہیں دیا تھا بالی ووڈ سٹار نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں واضح کیا کہ عالیہ صدیقی اور ان کے درمیان کئی سال قبل ہی طلاق ہوگئی تھی اور اب وہ نہ تو ایک ساتھ رہتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی تعلق ہے لیکن وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اداکار نے بتایا کہ چند سال قبل تک ان کی سابق اہلیہ بھارت میں مقیم تھیں، جہاں انہیں بچوں کے ہر طرح کے اخراجات کی مد میں ماہانہ 7 لاکھ روپے ادا کیے جا رہے تھے لیکن بعد ازاں وہ دبئی منتقل ہوگئیں، جہاں اب انہیں ماہانہ 10 لاکھ روپے تک دیے جا رہے ہیں۔
نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق اہلیہ پیسوں کی خاطر انہیں کئی سال سے بلیک میل کرتی آ رہی ہیں اور وہ ہر بار خاموشی اختیار کر جاتے ہیں جب کہ لوگ ان پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات سے محظوظ ہوتے دکھائی دیتےہیں۔
نوازالدین صدیقی کے مطابق ان کی سابق اہلیہ صرف اور صرف پیسے چاہتی ہیں اور مرضی کے پیسے نہ ملنے پر ان پر الزامات لگاتی رہتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بچوں کو جو مہنگی ترین گاڑی دی تھی، اسے بھی ان کی سابق اہلیہ نے فروخت کرکے اپنی ضروریات پوری کیں۔
اداکار کے مطابق ان کی سابق اہلیہ اب ان کے بچوں کے ہمراہ دبئی میں رہتی ہیں، جہاں سے وہ چھٹیوں پر بھارت آئیں اور 45 دن گزرجانے کے باوجود ان کے بچے اسکول نہیں گئے تو سکول انتظامیہ ان سے بار بار بچوں کی غیر حاضری سے متعلق پوچھ رہی ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق نواز الدین صدیقی کا اپنی پوسٹ میں کہنا تھا کہ حال ہی میں جب ان کے بچے دبئی سے بھارت آئے تو وہ دادی سے ملنے ان کے گھر گئے اور اس وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے لیکن ان کی سابق اہلیہ نے وہاں جھوٹی ویڈیو بنائی کہ انہیں اور ان کے بچوں کو گھر سے نکال دیا گیا۔
اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ ان کی سابق اہلیہ بات بات پر جھوٹی ویڈیوز بناکر ان کی بدنامی کر رہی ہیں اور لوگ ان پر ہونے والی الزام تراشیوں سے محظوظ ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بلیک میلنگ کا شکار ہیں اور عالیہ صدیقی پیسوں کی خاطر انہیں بلیک میل کر رہی ہیں۔
