نئے صوبے۔ ایک متبادل تجویز

تحریر: سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
نئے صوبوں کی بحث پاکستان میں نئی نہیں۔ پختون قوم پرست روزِاول سے پختونخوا اور بلوچستان کے پختون علاقوں کو ایک صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ۔ تاج محمد لنگاہ مرحوم جنوبی پنجاب یا سرائیکستان کا مطالبہ کرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی 2011میں بہاولپور صوبے کی بحالی کے ساتھ نئے صوبوں کے قیام کیلئے نعرہ زن ہیں۔ انہیں کسی حد تک کامیابی بھی اس وقت ملی جب9مئی 2012کو پنجاب اسمبلی نے بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی تحریک اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔ مرحوم بابا حیدر زمان ہزارہ صوبے کے قیام کیلئے آواز اٹھاتے اٹھاتے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ عرصہ ہوا کہ ایک میڈیا گروپ کے سربراہ اور لاہور کے سابق ناظم میاں عامر محمود بھی چھوٹے صوبوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔ ایم کیو ایم بھی کئی سال سے سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے لیکن اس موضوع پر قومی سطح پر بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کے حق میں لب کشائی کی ۔ چونکہ انہیں حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اس لئے یہ خیال عام ہونے لگا کہ طاقتور حلقے نئے صوبوں کا قیام چاہتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ کام اس وقت نہ صرف مشکل ہے بلکہ شاید اس مناسب کام کیلئے انتہائی نامناسب وقت ہے اور اس وقت اس انداز میں اس بحث کو چھیڑنا کوئی کار خیر نہیں ۔
چھوٹے انتظامی یونٹوں یا مزید صوبوں کے قیام کی اہمیت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا ۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان اور آبادی کے لحاظ سے پنجاب بعض ممالک سے بھی بڑے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے مشرق اور مغرب میں واقع ممالک میں کئی مزید صوبے بن چکے ہیں۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ اگر پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے تو شہریوں کو بے تحاشہ فائدہ ہوگا اور ملک چلانا نہایت سہل ہوجائیگا لیکن بدقسمتی سے یہ موضوع اس قدر سیاست زدہ ہوچکا ہے کہ اب اسے چھیڑنے سے بھی خوف آتا ہے ۔ مثلاً تقسیم سندھ کی بات سن کر پیپلز پارٹی والے اس قدر آگ بگولا ہوجاتے ہیں کہ جیسے کسی نے انہیں ماں باپ کی گالی دےدی ہو۔
سوال یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے کا کلیہ کیا ہوگا؟ انہیں لسانی بنیادوں پر بنایا جائے گا، تاریخی بنیادوں پر یا انتظامی بنیادوں پر۔؟سرائیکی اور ہزارہ صوبے کا مطالبہ لسانی بنیادوں پر کیا جارہا ہے ۔ کراچی کو صوبہ بنانے کا مطالبہ انتظامی بنیادوں پر کیا جارہا ہے جبکہ بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ تاریخی بنیادوں پر (بہاولپور پہلے الگ ریاست تھی لیکن یحییٰ خان نے اسے پنجاب کا حصہ بنا دیا) کیا جارہا ہے ۔اب اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جاتا ہےتو لسانی اور تاریخی طور پر صوبے بنانے کے متمنی لوگوں کی خواہش کے برعکس عمل ہوگا اور وہ مزاحمت کریں گے ۔
ہمارے آئین کی رو سے یہ ضروری ہے کہ صوبوں کے قیام کے عمل کا آغاز صوبے سے ہوگا ۔ پہلے متعلقہ صوبے کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ قرارداد پاس کرنی ہوگی ۔ مثلاً پہلے سندھ اسمبلی کوصوبے کی تقسیم کیلئے قرارداد پاس کرنی ہوگی اور اگر سندھ اسمبلی ایسا نہیں کرتی قومی اسمبلی کی ہزار قراردادوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ سندھ اسمبلی کو کون اس پر آمادہ کرے گا کہ وہ سندھ میں مزید صوبوں کے قیام کیلئے قرارداد پاس کرے ۔ بلوچستان کو کون آمادہ کرے گا اور خیبر پختونخوا کو کس طرح قائل کیا جائیگا کہ وہ اپنی تقسیم کی قراردادیں پاس کریں۔پنجاب اسمبلی نے2012 میں قرارداد پاس کردی لیکن وہ پیپلز پارٹی کی اپنی چال تھی اور مسلم لیگ (ن) کی اپنی ۔ اس لئے بات قرارداد کے مرحلے سے آگے نہ بڑھی اور مرکز میں صوبوں کے قیام کیلئے کمیشن قائم نہیں کیا گیا۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی انتظام کو قائم رکھنے کیلئے نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے کوئی بھی بات منوائی جاسکتی ہے لیکن میرے نزدیک یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔ یقیناََ ان سے کچھ بھی منوایا جاسکتا ہے لیکن یہ موضوع ایسا ہے کہ شاید اس پر وہ بھی ڈٹ کر سسٹم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہوجائیں۔ پیپلز پارٹی کی دلچسپیوں کا مرکز سندھ ہے ۔ یوں تو وہ ووٹ اندرون سندھ سے حاصل کرتی ہے لیکن نوٹ کراچی سے آتے ہیں۔ اس لئے پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم روکنےکیلئے وفاقی سسٹم کی بھی قربانی دے سکتی ہے ۔جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے تو وہ بھی دل سے تقسیمِ پنجاب کے حق میں نہیں ۔ رہی تحریک انصاف تو وہ تو کسی کی حمایت نہیں کرے گی جبکہ ڈویژنز کو صوبے بنانے کی تجویز کی قوم پرست جماعتیں بھی مخالفت کریں گی ۔
مکرر عرض ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹوں کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ وقت اس کام کے لئے مناسب ہے ؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے ۔ ایسے عالم میں جبکہ حکمران جماعتیں حق میں نہیں اور ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت (پی ٹی آئی) کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بھی نہیں، اس نیک کام کیلئے یہ وقت نہایت نامناسب نظر آتا ہے۔دوسری طرف بلوچستان اور پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر میں الگ قسم کا بحران جنم لے چکا ہے یوں ایک نئے متنازعہ موضوع کو چھیڑنا کسی صورت عقل مندی نہیں ۔یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ انتظامی یونٹوں کو چھوٹا بنانے کا صرف یہ طریقہ نہیں کہ چھوٹے صوبے بنائے جائیں۔ آسان طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ حقیقی معنوں میں مقامی حکومتوں ( نہ کہ ضلع کونسلوں) کا نظام لایا جائے ۔ انہیں آئینی تحفظ دیا جائے اور آئین ہی میں لکھا جائے کہ نیشنل فنانس کمیشن کی طرح پروونشل فنانس کمیشن تشکیل دیا جائیگا اور کسی حکومت کے پاس ان اداروں کو بے اختیار کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔انہیں وہی تحفظ اور خومختاری دی جائے جو صوبوں کو حاصل ہے۔
