اک اور ’’غلام محمد‘‘ کی تلاش

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ
میں اکثر سوچتا ہوں آخر اس ملک کے قومی مفاد میں ہے کیا۔ جس ملک میں آئین توڑنا نظریہ ضرورت قرار پائے وہاں سب کچھ ممکن ہے، بس ایک غلام محمد کی تلاش جاری رہتی ہے، اس کیلئے تو یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ اسکے پاس قومی شناختی کارڈ ہے بھی یا نہیں۔ میں وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کی اس بات پر سو فیصد متفق ہوں کہ ’’ہم نے آج فیصلہ نہیں کیا تو 10 سال بعد بھی ایسے ہی کسی فورم پر ہم بحث کررہے ہونگے۔‘‘ حضور، ہم فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں، اسی لیے تو قیام پاکستان سے آج تک یہی بحث کررہے ہیں کہ آخر ملک کا قومی مفاد ہے کیا۔ کل تک ون یونٹ کا قیام قومی مفاد میں تھا اور آج زیادہ یونٹس یا زیادہ صوبے قومی مفاد میں قرار دیے جارہے ہیں۔ ہمارے ایک مرحوم صحافی دوست بابر ایاز کی اہلیہ نے انکی ایک کتاب حال ہی میں شائع کی ہے۔ ’’جمہوریت جیسی پاکستان میں رائج ہے۔‘‘ اس میں ون یونٹ کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ درج ہے، اسکے علاوہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے پس پردہ کردار اور کئی اہم واقعات درج ہیں مگر یہاں کیونکہ آج کل نئے صوبوں اور زیادہ یونٹس کے حوالے سے سب جگہ بحث ہورہی ہے ماسوائے اس فورم کے جہاں ہونی چاہیے یعنی پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں وہ جیسی بھی ہیں، واقعہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے جس کے اہم کرداروں میں گورنر جنرل غلام محمد، وزیراعظم محمدعلی، وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ایوب کھوڑو نمایاں نظر آتے ہیں، اس کا اہم ترین پہلو وہ ون یونٹ اسکیم ہے جو ایک ایکٹ کے ذریعے 1955ء میں نافذ کی گئی، وہ بھی دوسری آئین ساز اسمبلی کے ذریعے، جسکے تحت نو یونٹس کو ضم کرکے ایک صوبہ ’’مغربی پاکستان‘‘ بنایا گیا۔ بابر لکھتے ہیں۔’’اس میں سب سے بڑی رکاوٹ سندھ تھا۔ لہٰذا غلام محمد نے سندھ کی حمایت حاصل کرنے کیلئے پیر زادہ عبدالستار کو ہٹاکر ایوب کھوڑو کو بحال کردیا، جنہیں پہلے نااہل قرار دیا جاچکا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ سندھ ون یونٹ کی حمایت کرے۔‘‘ یہاں سب ممکن ہےاگر اسے ’’قومی مفاد‘‘ میں کہہ دیا جائے، لہٰذا اس معاملے میں بھی ایک دلچسپ کھیل کھیلا گیا اور سندھ اسمبلی کا اجلاس اسمبلی بلڈنگ کے بجائے حیدرآباد کے ’’دربار ہال‘‘ میں منعقد کیا گیا اور درباریوں نے قرارداد منظور کرلی۔ اس کیخلاف ایک تاریخی تحریک چلائی گئی اور سائیں جی ایم سید جیسے لوگوں نے بھی ،جنہوں نے سندھ اسمبلی میں سب سے پہلے پاکستان کی قرارداد پیش کی، نہ صرف مسلم لیگ چھوڑ دی بلکہ پاکستان مخالف ہوگئے اور کہا کہ ان کیساتھ دھوکہ ہوا ہے، ویسے تو پاکستان میں جمہوریت کا قتل پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت سے شروع ہوگیا تھا اور ابتدائی 20 سال کی کہانی اسکی منہ بولتی تصویر ہے، مشرقی پاکستان کو اقتدار نہیں دینا تھا سو نہیں دیا، بنگلہ دیش 1971ء میں نہیں 1954ء میں ہی بن گیا تھا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے پہلے دن سے اپنی سمت کا تعین نہیں کیا اور آج بھی غیر ضروری بحث کو اہم ترین قومی مسئلے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔تو آخر اس تمام بحث کا حاصل کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ بادی النظر میں سب متفق ہیں کہ حل ایک ہی ہے اور وہ ہے ’’جمہوری نظام کا تسلسل‘‘ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بااختیار بلدیاتی نظام، ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف الیکشن اور سب سے اہم بات خدا کیلئے یہ حکومتیں بنانے اور گرانے، سیاسی جماعتیں بنانے اور توڑنے کے سلسلے کو اب بند کردیں، جس ملک میں بااختیار حکومت نہ ہو، وزیراعظم نہ ہو، وہاں ہم بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ صوبوں اور انتظامی یونٹس کی باتیں کررہے ہیں۔! کون سے تجربے ہیں جو نہیں کئے گئے، بنیادی جمہوریت، غیر جماعتی جمہوریت، صدارتی جمہوریت، پارلیمانی جمہوریت، مارشل لا جمہوریت اور اب ہائبرڈ جمہوریت، اب کہا جارہا ہے تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبوں کے افراد اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کریں، ریفرنڈم کی باتیں بھی ہورہی ہیں، اسکی تاریخ بھی بہت سبق آموز ہے۔ سیاسی جماعتیں ناکام ہوئیں، مان لیا۔ دو خاندانوں کی حکومتیں رہیں، مان لیا۔ خراب گورننس رہی ہے، یہ بھی درست۔ نظام ناکام ،مان لیا۔ مگر حل کون دے گا۔ بات بہت سادہ سی ہے 1977ء کو مارشل لا لگا، الیکشن 90 روز میں ہونے تھےنہیں ہوئے کیونکہ خطرہ تھا پی پی پی جیت جائیگی۔ 1979ء کو پھر الیکشن ملتوی ہوئے خطرہ تھا پی پی پی جیت جائیگی۔ بھٹو کو پھانسی دیدی، آمروں کو یقین تھا، پی پی پی ختم ہوجائیگی، ۔پھر 1985ء میں غیر جماعتی جمہوریت نافذ کی گئی، مگر اسکے وزیراعظم نے کہا ’’مارشل لا اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘‘ تو اسے فارغ کردیا گیا۔ 1988ء میں الیکشن کا اعلان ہوا تو غیر سیاسی قوتوں نے کبھی اسلامی جمہوری اتحاد بنایا اور کہا ’’ہاں میں نے بنایا‘‘ مسلم لیگ ن کو لایا اور جتوایا گیا اورپھر ہروایا بھی گیا، پھر عمران خان کو لایا بھی گیا جتوایا بھی گیا اور ہروایا بھی گیا۔ بھٹو پھانسی چڑھا، بے نظیر شہید کردی گئی، نوازشریف جلا وطن، آصف زرداری جیل میں اور پھر انہی کو دوبارہ اقتدار میں لایا گیا اور آج عمران خان تین سال سے جیل میں ہے۔ عدلیہ کا حال یہ ہے کہ کل سزا قومی مفاد میں اور پھر رہائی قومی مفاد میں باقی تو خیر عدالتی زبان ہے۔
تو طے کرلیں کون سا نظام چلانا ہے، رہ گئی بات ہمارے کچھ تجزیہ کاروں کی جو کہتے ہیں، ان تجربہ کار سیاستدانوں کے بارے میں کہ یہ کیا دودھ پیتے بچے ہیں کہ ہر بات قبول کرلیتے ہیں، جی بعض بچے جوان بھی ہوجائیں تو ذہنی طور پر بچے ہی رہتے ہیں۔ یہ مسئلہ ’’جمہوری نظام‘‘ کا نہیں کہ وہ تو کبھی لانے ہی نہیں دیا گیا۔ جماعت ہو یا کوئی لیڈر ایک عمل سے ہی جاتے ہیں اور آتے ہیں، جیسے پی پی پی 2008ء کےبعدسے پنجاب میں تقریباً ختم ہوگئی اور اگرسچ پوچھیں تو 2024 کے بعد سے مسلم لیگ ن کا حال مختلف نہیں، یقین کیلئے ایک بار صاف شفاف الیکشن ضروری ہے، نظام کو بااختیار بنائیں، عوام خود فیصلہ کرلیں گے۔
