ممکنہ توہین عدالت کیس اور میری موجاں ای موجاں

تحریر: نصرت جاوید ، بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت
مجھ گوشہ نشین کو روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن ساز“ کئی دنوں سے بتائے چلے جارہے ہیں کہ 27 اپریل 2023 ہماری تاریخ کا ایک ”فیصلہ کن“ دن ہو گا۔ اس روز اعلیٰ ترین عدالت کے کمرہ نمبرایک کا دروازہ کھلے گا۔ گھنٹی بجے گی اور بعدازاں وزیر اعظم شہباز شریف ”توہین عدالت“ کے مرتکب ٹھہراکر گھر بھیج دیے جائیں گے۔
ہونا تو یوں یہ چاہیے تھا کہ 27 اپریل کی صبح اٹھنے کے بعد میں ”تاریخ ساز“ دن کے انجام کی بابت ٹیوے لگاتے ہوئے کالم لکھنے کی دیہاڑی لگاتا۔ جی مگر اس جانب مائل ہی نہیں ہوا۔ کالم مکمل کرکے دفتر بھجوادینے کے بعد بھی دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ سے فارغ ہو کر ہی موبائل فون کے ذریعے جاننے کی کوشش کروں گا کہ شہباز شریف اور ان کے ہم نواﺅں کے ساتھ سپریم کورٹ میں کیا سلوک ہوا ہے۔
میری بے اعتنائی کا سبب وہ سستی نہیں جو عمر کے آخری برسوں میں انسان کو زندگی کی رونقوں سے بیگانہ بنانا شروع کر دیتی ہے۔ معاملہ اس کے قطعاً برعکس ہے۔عمر کی تقریباً تین دہائیاں ”خبر“ کی تلاش کے لئے خجل خواری کی نذر کی ہیں۔ اس دوران وطن عزیز کی تاریخ میں کئی ”فیصلہ ساز“ دنوں کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا۔ان میں سے ہر ایک کا بقول صوفی تبسم ”آغاز بھی رسوائی- انجام بھی رسوائی“ ہوا۔ ’’ہنگامے“ دیکھنے کو لہٰذا طبیعت اب مائل ہی نہیں ہوتی۔
ملکی سیاست کے مشاہدے نے یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ ”توہین عدالت“ چٹ منگنی پٹ نکاح کی صورت عائد نہیں ہوتی۔ عدالت اس کا ”انصاف کے تقاضوں“ کے مطابق جائزہ لینے کو مجبور ہوتی ہے۔وزیر اعظم شہبازشریف نے اگر سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس صاحب کی نگاہ میں الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا 14 مئی کے روز انعقاد یقینی بنانے کے لئے 21 ارب روپے ”دانستہ طور“ پر فراہم نہیں کئے تو موصوف پر ”فرد جرم“ لگانا ہو گی۔ اس کے اطلاق سے قبل بھی تاہم انہیں صفائی دینے کا موقعہ بھی ”انصاف کے تقاضوں“ کے مطابق فراہم کرنا ہو گا۔ فرض کیا وہ خود کو ”فرد جرم“ کے اطلاق سے بچانہ پائے تو اس کے اطلاق کے باوجود بھی ”ملزم“ کو اپنے دفاع کا موقعہ دینا ہو گا۔ مذکورہ اصولوں کی بنیاد پر 27 اپریل 2023ء کو میں شہباز شریف کا بطور وزیر اعظم پاکستان ”آخری دن“ شمار کرنے کی بصیرت سے قطعاً محروم ہوں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر چیف جسٹس صاحب کی نگاہ میں توہین عدالت کا واقعتا ارتکاب ہوا ہے تو اس دن سے ان کے خلاف کارروائی کے عمل کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مسئلہ ہمارے ”ذہن سازوں“ کا یہ ہے کہ وہ شہباز شریف کی ”توہین عدالت“ کی بدولت ممکنہ نااہلی کو اس تناظر میں رکھ کر دیکھ رہے ہیں جو یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کا مقدر ہوا تھا۔ یاد رہے کہ وہ دونوں وزیر اعظم ”انفرادی“ وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے غضب کا نشانہ بنے تھے۔ یوسف رضا گیلانی بطور وزیر اعظم اپنے ہی ملک کے منتخب صدر کی مبینہ کرپشن کے ”ثبوت“ حاصل کرنے کے لئے سوئٹزر لینڈ کی حکومت سے باقاعدہ انداز میں رجوع کرنے کو آمادہ نہ ہوئے۔اس کی بدولت ”توہین عدالت“ کے مرتکب ٹھہرائے گئے۔
نواز شریف ”توہین عدالت“ کے شکنجے میں نہیں آئے تھے۔ ان سے ”رسیدیں“ مانگی گئی تھیں۔ سر جھکائے سپریم کورٹ میں اس حوالے سے بطور وزیر اعظم بلکہ باقاعدگی سے پیش ہوتے رہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے منتخب وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی سپریم کورٹ کی بنائی جے آئی ٹی کی تفتیش بھی بھگتی۔ بالآخر ”جھوٹے اور خائن“ ٹھہرا کر انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے لئے تاحیات نااہل قرار دیے گئے۔
اب کی بار معاملات بہت پیچیدہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے 14 مئی کے دن پنجاب اسمبلی کے انتخابات یقینی بنانے کا جو حکم دیا ہے اس کی اصلیت کو چار‘تین‘ یا تین‘ دو والے سوال سے متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جو تنازعہ اٹھا اس کے لئے آواز چیف جسٹس صاحب کے چند عزت مآب برادر ججوں ہی نے تحریری طورپر اٹھائی تھی۔ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف جن دنوں عتاب کا نشانہ تھے تو سپریم کورٹ بحیثیت ادارہ تقسیم ہوا نظر نہیں آ رہا تھا۔
سپریم کورٹ میں عیاں ہوئی تفریق کے برعکس شہباز شریف سیاسی اعتبار سے ”تنہا“ نظر نہیں آ رہے۔ ان کی زیر قیادت موجود کابینہ بھان متی کا کنبہ دکھنے کے باوجود 14 مئی کے روز پنجاب اسمبلی کے انتخابات ٹالنے کے لئے ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے۔ان کی حمایت فقط وفاقی کابینہ تک ہی محدود نہیں۔ حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے بھی یکسو ہو کر اس ”مطالبہ زر“ کی منظوری سے انکار کر دیا جو الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جاری کیا تھا۔ مذکورہ ”انکار“ اگر ”توہین عدالت“ کا موجب ہے تو فقط شہباز شریف ہی نہیں ان کی کابینہ کے تمام وزراء ہی نہیں بلکہ ”مطالبہ زر“ کو نامنظور کرنے والے اراکین اسمبلی کو بھی نااہل ٹھہرانا انصاف کی ”مجبوری“ بن جائے گا۔ ”نااہلیاں“ لہٰذا تھوک کے حساب سے کرنا پڑیں گی۔ اس کا نشانہ فقط نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے نمائندے ہی نہیں ہوں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال قائد اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے والد سمیت اس کی زد میں آئیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کے فرزند کا مقدر بھی نااہلی ہو گی۔ قصہ مختصر تحریک انصاف کی تمام مخالف جماعتوں کے سرکردہ نمائندوں کی طویل فہرست ممکنہ توہین عدالت کے مجرموں میں کھڑی ہو گی۔
پاکستانیوں کی کماحقہ تعداد مبینہ طورپر سیاستدانوں کا روپ دھارے ”چور اور لٹیروں“ کے ایسے انجام سے یقینا خوش ہو گی۔ ان کی ذلت ورسوائی سپریم کورٹ کے سند یافتہ ”صادق وامین“ یعنی عمران خان کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی بھی تقریباً یقینی بنا سکتی ہے۔ سیاسی عمل اپنی سرشت میں لیکن عدالت کے لکھے فیصلوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو سپریم کورٹ ہی نے ”قاتل“ ٹھہراتے ہوئے ان کے لئے سنائی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی۔ ان کے ”گرویدہ“ مگر آج بھی انہیں ”شہید“ پکارتے ہیں۔
1970ء کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی نام کی ایک جماعت تھی۔ ولی خان اس کے سربراہ تھے۔ بھٹو حکومت کے دوران مذکورہ جماعت کو سپریم کورٹ کے ہاتھوں ”غدار“ ٹھہراتے ہوئے ”کالعدم“ قرار دیا گیا تھا۔ اے این پی کی صورت مگر مذکورہ جماعت نے حیات نو کا بندوبست کر لیا۔ 1990ء سے 2013ء تک یہ جماعت وفاقی اور صوبائی حکومت کی اہم ترین شراکت دار رہی ہے۔
یہ کالم ختم ہوئے بارہ بجنے والے ہیں۔میں قلم روک کر ٹی وی کھولے بغیر اپنے گھر آئے اخبارات کا پلندہ ختم کرنے پر توجہ دوں گا اور دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ بھی ضروری ہے۔ جمعہ اور ہفتے کی صبح ویسے بھی مجھے کالم لکھنا نہیں ہوتا۔ ذاتی حیثیت میں لہٰذا ”موجاں ای موجاں“۔
