کیا PTIوالوں نے بھی شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ دیا؟

عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مختلف اتحادی سیاسی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلے کے 174 ووٹوں کے ساتھ وزیراعظم بننے والے شہباز شریف نے باآسانی قومی اسمبلی سے 180 اراکین سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ تاہم ناقدین یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ شہباز شریف 11 اپریل 2022 کو 174 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، تاہم اب وزیراعظم پر 180 اراکین نے اعتماد کا اظہار کیسے کیا۔ اضافی 6 ووٹ کہاں سے آئے؟ کیا پی ٹی آئی منخرف اراکین نے شہباز شریف کو ووٹ دئیے ہیں؟ قومی اسمبلی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو ضمنی انتخابات میں این اے 237 کراچی سے کامیاب ہونے والے پیپلزپارٹی کے عبدالحکیم بلوچ، اور ملتان کے حلقے این اے 157 سے کامیاب ہونے والے یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی نے بھی ووٹ دیا، گزشتہ سال آزاد رکن اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہو سکے سکے تھے تاہم اب انہوں نے بھی وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلے کے بعد اتحادیوں نے پوری تعداد کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی جو اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے اعتماد کے ووٹ کی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ ایوان آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوان شہباز شریف پر بطور وزیراعظم مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ قومی اسمبلی کے وزیراعظم پر اعتماد کے بعد اسپیکر نے ارکان کا شمار کرنے کے لیے تمام ارکان کو اپنی نشستوں پر کھڑے ہونے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے متعدد اراکین کی نشستوں پر جا کر ان سے مصافحہ کیا۔قومی اسمبلی کے 3 ارکان نواب یوسف تالپور، آفتاب میرانی اور نجیب اویسی نے بیماری کے باعث ویل چیئر پر آ کر اجلاس میں شرکت کی۔ اسپیکر کی جانب سے اپنی نشستوں پر کھڑے ہونے کی ہدایت پر نواب یوسف تالپور نے ویل چیئر سے کھڑے ہونے کی کوشش کی جس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ بس ہاتھ اٹھا دیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے گنتی کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 180 ارکان نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کیا تاہم اگر مفتی عبد الشکور مرحوم زندہ ہوتے تو یہ تعداد 181 ہوتی۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے قائد حزب اختلاف راجا ریاض کی نشست پر جا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد زیادہ پر اعتماد طریقے سے نہ صرف سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ ماننے سے صاف انکار کیا بلکہ عمران خان اور اس کے سہولتکار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی ہدف تنقید بنایا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے عمل بارے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ فواد چوہدری نے اپنے اس دعوے کے حق میں کہا کہ شہباز شریف کو 180 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی جن میں سے 20 اراکین اسمبلی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ اس لیے ان کا ووٹ وزیر اعظم کے حق میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شہباز شریف کو 172 ارکان کی بجائے صرف 160 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ اس لیے یہ شہباز شریف اور پی ڈی ایم کی بہت بڑی شکست ہے۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں فواد چوہدری اور شیریں مزاری کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے پی ٹی آئی کے ووٹ کوئی اور پورے کرتا تھا اس لیے دونوں گنتی میں کمزور ہیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کو گنتی نہیں صرف چالاکی آتی ہے، حکمران جماعتوں کے ووٹوں کی تعداد 180 ہے، پی ٹی آئی کا کوئی ووٹ اس میں شامل نہیں ہے، اسپیکر اپنا ووٹ بھی ڈالتے تو وزیراعظم شہبازشریف کے ووٹ 181 ہوتے۔ان کا کہنا تھا اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے وہ فواد چوہدری اور شیریں مزاری کو نظر نہیں آئے، ووٹ چوروں کی گنتی ایسی ہی ہوتی ہے، آج آر ٹی ایس بیٹھا، نہ خفیہ رائے شماری ہوئی اور نہ خفیہ کیمرے پکڑے گئے، ووٹ چور ایوان سے باہر نکل کر اب درست گنتی گننے کے قابل بھی نہیں رہے، اللہ نے چاہا تو باقی عمر لوٹوں اور لوٹیوں کی گنتی گنتے ہی گزرے گی۔
وزیر اعظم کے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینا سپریم کورٹ کیلئے پیغام تھا اور وہ اپنا پیغام دینے میں مکمل کامیاب رہے۔
