پاکستان کا افغانستان کیساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور

افغانستان سے آپریٹ کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگرد نیٹ ورک کی جانب سے پاکستانی فوجی جوانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے فیصلہ سازوں نے طے کر لیا ہے کہ اگر اب بھی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کیخلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی تو کابل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے جائیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے کر لیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کا دہشت گرد نیٹ ورک ختم کرنے کے لیے نہ صرف ڈرون حملے تیز کر دیے جائیں بلکہ پاک فضائیہ کو بھی سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کابل میں افغان سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا اور بتایا تھا کہ حملہ اور افغانستان سے آئے۔ اب پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان صادق خان کابل میں موجود افغان طالبان حکومت کے لیے اگلے چند روز۔میں ایک سخت پیغام لے کر کابل جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام اقدامات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کابل کو دی گئی وارننگ کے بعد ہو رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغان حکومت کو اب پاکستان اور تحریک طالبان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے کابل سے سفارتی تعلقات ہیں۔ لیکن اگر افغان طالبان حکومت تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو پٹہ ڈالنے سے انکاری رہی تو پاکستان بھی کابل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر سکتا ہے۔ دوسری جانب کابل انتظامیہ کا دعوی ہے کہ اس نے پاکستان کے ممکنہ دباؤ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنالی ہے کیونکہ وہ پی ٹی پی نیٹ ورک توڑنے کی آڑ مین افغان سرزمین پر فضائی حملے کر رہا ہے۔
اگر گزشتہ چند ماہ کے سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی محکمہ انسداد دہشت گردی کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے اگست 2025 تک صوبے میں دہشت گردی کے 766 واقعات ہو چکے ہیں۔ ان بڑھتے واقعات کو بالعموم افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے سے جوڑا جاتا ہے کیونکہ ٹی ٹی پی بلاخوف وخطر پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے
افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے، جب کہ کابل انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کے اپنے سیکورٹی معاملات کا نتیجہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے سابق آئی جی اختر علی شاہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں دہشت گردی پر کسی حد تک قابو پایا گیا، مگر امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کے بعد ٹی ٹی پی کے لیے راستے مزید کھل گئے۔ ان کے بقول افغانستان میں جیلوں کے دروازے کھل گئے ، بہت سے طالبان رہنما با ہر آ گئے جہاں انھیں موافق حالات بھی میسر آگئے۔ پناہ گا ہیں اور تنظیمی سٹرکچر پہلے سے موجود تھے جس کا انہیں فائدہ ہوا۔
گزشتہ ہفتے بنوں میں ایف سی لین پر دہشت گرد حملے کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بنوں کا دورہ کیا تھا، جہاں وزیر اعظم نے افغان طالبان کو وارننگ دی کہ وہ ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے معاملہ کا بینہ کے سامنے رکھا جائے گا اور بڑا فیصلہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے بڑے فیصلے سے پہلے کابل انتظامیہ کے حوالے سے جامع اور جارحانہ سفارتی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ حکمت عملی اسی طرح جارحانہ ہو سکتی ہے جیسی مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اختیار کی گئی تھی جب ہر جانب سے بھارت کیلئے سفارتی حمایت کے راستے بند کیے گئے تھے۔ اس حکمت عملی کے تحت افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے صادق خان نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے اور وہ چند دن پہلے ہی واپس لوٹے ہیں۔ صادق خان کا یہ دورہ غیر اعلانیہ تھا۔
دوسری جانب پاکستان نے دوست ممالک سے بھی رابطہ کیا ہے۔ بنوں حملے کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کو بیت اور ترکیہ نے مذمت کی ہے۔ عرب ممالک نے اس حملے کے حوالے سے ملتے جلتے بیانات جاری کیے جن میں کہا گیا کہ وہ دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں۔ قطر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ دہشت گردی کو مسترد کرتا ہے خواہ اس کے پیچھے وجوہات اور محرکات کچھ بھی ہوں۔“ ذرائع کا کہنا ہے کہ جارحانہ سفارتی حکمت عملی کے تحت ہی پاکستان نے اسلام آباد میں عبوری افغان سفیر سردار احمد شکیب کو دفتر خارجہ طلب کیا اور خبر دار کیا کہ کابل خود کو تحریک طالبان پاکستان سے دور کرے اور اپنی سرزمین سے اس دہشتگر دگروپ کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے، بصورت دیگر اسے مخاصمانہ سرگرمی سمجھا جائے گا اور اسلام اباد اور کابل کے سفارتی تعلقات کا کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اسی سلسلے میں صادق خان آئندہ ہفتے دورے پر کابل جا رہے ہیں جہاں وہ افغان وزیر خارجہ امیر منتقی سے ملاقات کریں گے اور انہیں اہم ترین پیغام پہنچائیں گے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ سرحد پار بڑھتے ہوئے حملے روکنے کے لیے افغان حکومت سرد مہری کا رویہ کیوں اپنائے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے خود طالبان حکومت کے اہم ذمہ داروں کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور کابل حکومت کے بعض ذمہ دار ٹی ٹی پی کو نکیل ڈالنے کے حق میں ہیں، تاہم انہیں فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
