عمران خان توشہ خانہ کیس 2 میں بھی بری طرح پھنس گئے

توشہ خانہ کے پہلے کرپشن کیس میں لمبی قید کی سزا پانے کے بعد عمران خان توشہ خان کے دوسرے کیس میں بھی بری طرح پھنستے نظر آتے ہیں چونکہ دو تگڑے گواہوں نے انکے خلاف بیانات ریکارڈ کراتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ انہوں وزیر اعظم کو سعودی عرب سے بطور تحفہ ملنے والے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کی نہایت کم قیمت لگائی تا کہ وہ اسے چند لاکھ روپوں میں خرید سکیں۔ گواہوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا عمران خان کے کہنے پر کیا تھا۔
واضح رہے کہ بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو بطور وزیراعظم تحفہ میں دیا تھا۔ لیکن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائےپرائیویٹ اپریزر سے کم قیمت لگا کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ بلغاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی، جبکہ عمران نے پرائیویٹ اپریزر سے سیٹ کی قیمت 50 لاکھ روپے لگوائی تھی جس کے بعد انہوں نے صرف 20 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروا کے قومی خزانے کو ساڑھے چھ کروڑ روپے کا چونا لگایا، جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، کانوں کی بالیاں اور ایک انگوٹھی شامل تھی۔
توشہ خانہ ٹو کیس کے گواہان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر private appraiser صہیب عباسی شامل ہیں۔ صہیب عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شاہ نے ان ہر دباؤ ڈال کر بلغاری سیٹ کی 50 لاکھ روپے لگانے کو کہا تھا۔ ساتھ میں نے اس نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر بلغاری جیولری سیٹ کی اونی پونی قیمت نہ لگائی گئی تو اسے بطور اپریزر سرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ صہیب کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے پر اس کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا لہذا اس نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے کہنے کے مطابق سب کچھ کر دیا۔
پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی کا کہنا تھا کہ اس نے چیئرمین نیب کے سامنے معافی مانگتے ہوئے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور ریکارڈ پر دستخط بھی کئے جب کہ مجسٹریٹ کے سامنے بھی اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میں نے سرکاری دباؤ میں آ کر ڈر کے مارے عمران خان کو بطور تحفہ ملنے والے جیولری سیٹ کی قیمت نہایت کم لگائی۔ صہیب عباسی نے اپنے بیان میں بتایا کہ انعام اللّٰہ شاہ نے دباؤ ڈال کر بلغاری سیٹ کی 50 لاکھ روپے ویلیو لگانے کو کہا، ادھر عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے پی ٹی آئی اور سرکار، دونوں سے تنخواہیں وصول کیں، انلا کہنا تھا کہ میں 2019 سے 2021 تک ڈبل تنخواہ وصول کرتا رہا جب کہ میں پرائم منسٹر ہاؤس کے کنٹرولر کے طور پر بنی گالا ہاؤس میں تعینات تھا۔ اسکا کہنا تھا کہ اس نے عمران خان کے ایما پر اپریزر صہیب عباسی کو بلغاری جیولری سیٹ کی اونی پونی قیمت لگانے پر آمادہ کیا تھا۔
انعام نے صہیب کو دھمکی دی اگر اس نے جیولری سیٹ کی اصل ویلیو لگائی تو اس کی کمپنی کو سرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 12 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ کے دوسرے کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی تین رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
بعد ازاں نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کردیا تھا۔
قبل ازیں، عدالت نے توشہ خانہ 2 ریفرنس کا ریکارڈ سپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
13 جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا۔ نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت کروڑوں روپے کے 10 قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھنے اور بیچنے کے الزام پر بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کو رواں سال 31 جنوری کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،احتساب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی نے گرفتاری دے دی تھی۔
سابق خاتون اول کی گرفتاری کےبعد کمشنر اسلام آباد نے بنی گالا میں واقع سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا تھا جس کے بعد بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کردیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کردی تھی لیکن نیب نے توشہ خانہ کیس ٹو میں انہیں 13 جولائی 2024 کو دوبارہ گرفتار کرلیا تھا۔ رواں سال 3 فروری کو اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم 13 جولائی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے دوران عدت نکاح کے مقدمے میں سزا کو کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کردیا تھا۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی گزشتہ سال 5 اگست کو توشہ خانہ ون کیس میں گرفتاری کیے جانے کے بعد سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ عمران خان کے خلاف 16 مزید مقدمات درج ہیں جن میں انہوں نے ضمانت نہیں حاصل کیں، تھانہ کوہسار میں 4، تھانہ نون میں2 ،کورال میں ایک مقدمہ درج ہے، سابق وزیراعظم کے خلاف تھانہ گولڑہ ،کراچی کمپنی، آئی نائن، شہزاد ٹاون، سنگجانی اور تھانہ رمنا میں بھی ایک ایک مقدمہ درج ہے۔
