قومی سلامتی اور دفاع کے نام پر پاکستان کا بیڑہ غرق

سینئر صحافی اور لکھاری امتیاز عالم  نے کہا ہے کہ نئی قومی سلامتی پالیسی میں کچھ بھی نیا نہیں سوائے اس انکشاف کے کہ ملکی معیشت قومی سلامتی کے بوجھ کی وجہ سے بیٹھ گئی ہے جسکی بحالی کے لیے آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لیکر اسکا بوجھ عوام پر ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہماری عسکری سلامتی کے تقاضے کر و فر سے برقرار ہیں، عوام بے شک مٹ جائیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانا کسی بھی حکومت کا اہم ترین فریضہ ہے لیکن کسی ملک کا محض فوجی اعتبار سے مستحکم ہونا اس مقصد کے حصول کے لیے ہرگز کافی نہیں۔

ایک ملک اپنی قومی سلامتی کا ہدف اسی صورت میں حاصل کر سکتا ہے جب اس کے باسی مطمئن زندگی بسر کر رہے ہوں، اور حق تلفی اور استحصال سے محفوظ ہوں، ریاست انکے تمام بنیادی انسانی حقوق کی ضامن اور محافظ ہو، عوام کو فوری اور ارزاں انصاف میسر ہو، اور دفاع کے ساتھ ملکی معیشت بھی مضبوط ہو۔ امتیاز کہتے ہیں کہ اب یہ دعوی کیا گیا ہے کہ قیام پاکستان کے 74 برس بعد پہلی قومی سلامتی تیار کرلی گئی ہے اور وہ بھی پارلیمنٹ سے بالا بالا۔ ایسے میں سوال کیا جا رہا یے کہ ’’پہلی‘‘ قومی سلامتی کی پالیسی میں ایسا نیا کیا ہے, جس پر کپتان حکومت کی جانب سے اتنی داد وصول کی جارہی ہے؟ انکا کہنا یے کہ معاشی سلامتی کے بنا کسی بھی ملک کی سلامتی یا دفاع ممکن نہیں کیونکہ سلامتی کے بوجھ تلے مفلوک الحال معیشت دم توڑ بیٹھی ہے۔

مطبوعہ قومی سلامتی کی دستاویز فقط ایک مجرد تجزیاتی فریم ورک فراہم کرتی ہے، گو کہ یہ روایتی سلامتی سے انسانی سلامتی کی جانب کایا پلٹ کی صفتی تھیوریٹیکل بنیاد کو مصلحتاً چھونے سے گریزاں ہے۔ آخر اس پیراڈائم شفٹ کے حقیقی معنی کیا ہوسکتے ہیں؟ سادہ اور صاف لفظوں میں: انسانی سلامتی، ریاستوں کی سلامتی کے برعکس، لوگوں اور انسانی برادریوں کی سلامتی اور ان کے بنیادی حقوق کا تقاضا کرتی ہے لیکن اسی صفتی تبدیلی کا اگر ذکر ہے تو سرسری اور وہ بھی ہماری قومی سلامتی پالیسی کے آخری باب میں۔

کیا جنرل فیض کے جانے سے عمران کی مشکلات بڑھ گئیں؟

امتیاز عالم بتاتے ہیں کہ قومی سلامتی پالیسی کے پانچ باب فقط روایتی سلامتی اور ایک خارجہ پالیسی سے متعلق ہیں اور ایک باب معاشی سلامتی پر ہے۔ اس پالیسی میں سارے کا سارا زور دفاع پر ہے جس کے لیے معیشت کی بحالی اور ترقی ضروری پیشگی شرط کے طور پر تسلیم کرلی گئی ہے۔

اگر دست نگر، قرضہ خور گماشتہ معیشت کا تضاد و تقاضا بنیادی ہے تو پھر سلامتی کی تمام جہتوں کو معاشی تقاضوں کے تابع کرنا ہوگا اور خطے میں نت نئے تصادموں اور پرانے جھگڑوں کو ہوا دینے کی بجائے امن، بقائے باہم، اختلافات کے پرامن حل، باہمی تجارت اور علاقائی معیشتوں کے پھیلائو کی راہ پہ چلنا ہوگا۔ جب جیو اکنامکس بنیادی چیز ٹھہرائی گئی ہے تو اسے جیو اسٹرٹیجک تقاضوں کے کھونٹوں سے نہیں باندھا جاسکتا۔

اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی سلامتی اور آزادی کے تحفظ سے کسی طور پر آنکھیں بند کرلی جائیں۔ پاکستان بھی تبھی برقرار ہے، جب اس کے عوام کی انسانی سلامتی و آزادی اور تانباک مستقبل محفوظ ہو۔

Back to top button