عمران اور انکی حکومت کے لیے بُرے دنوں کا منظر نامہ

قومی اسمبلی سے عوام دشمن اور آئی ایم ایف دوست منی بجٹ منظور کروانے کے بعد وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے جس کا نتیجہ انکے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ منی بجٹ کی منظوری کوئی ایسی کامیابی نہیں جس پر عمران خان اور کی حکومت خوشی منائے۔ ہندسوں میں برتری کے اس کھیل میں گو کہ حکومت کامیاب رہی لیکن اس کے نتیجے میں مہنگائی کا جو طوفان اٹھے گا اور حکومت کا گراف جس تیزی سے مذید نیچے آئے گا ایسے میں عمران خان کے لیے اپنی رہی سہی ساکھ برقرار رکھنا بھی دشوار ہو جائے گا۔
انکے مطابق جو صورتحال سامنے آ رہی ہے اس میں خیبر پختون خوا میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے راؤنڈ اور پنجاب میں ہونے جا لے بلدیاتی الیکشن میں حکمراں اتحاد کے لئے اپنے قدم جمائے رکھنا دشوار ہو جائے گا۔ منی بجٹ کا دفاع کرنے والوں کا خود اعتراف ہے کہ اس سے مہنگائی بڑھے گی اور عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا لیکن انہوں نے امداد کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کئے جانے کو بھی مجبوری قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیرمقبول لیکن درست فیصلہ ہے۔ بقول مظہر عباس، جس طریقے سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے ردعمل دیا ہے وہ وزیراعظم کے لئے چشم کشا ہے، دونوں کا تعلق خیبر پختون خوا سے اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی نے شکست کا مزا چکھ کیا یے۔ منی بجٹ ایسے وقت ترمیمی بلز کی شکل میں قومی اسمبلی سے منظور ہوا ہے جب خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ سر پر ہے، لہذا شنید یہی ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک انصاف کے لیے اپنے قدم جمائے رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک جنہیں خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی تنظیم نو کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان کے لئے خراب ہوتی صورت حال میں اس سے عہدہ برا ہونا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم سے منہ ماری کے علاوہ ان کی عمران خان کی موجودگی میں دو وفاقی وزراء شوکت ترین اور حماد اظہر سے سخت تکرار بھی ہوئی۔ خٹک نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں دو عام انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کرایا لیکن پھر بھی کپتان نے انہیں ہٹاکر محمود خان کو وزیراعلیٰ مقرر کر دیا تھا۔
پرویز خٹک کو سیاسی جوڑ توڑ اور سودے بازی کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف کو رام کرنے کی خاطر حکومت کی جانب سے کیے گئے حالیہ غیر مقبول فیصلوں کے بعد ان کا سارا جوڑ توڑ عوامی ردعمل کے باعث دھرے کا دھرا رہ جانے کا امکان یے۔
مظہر بتاتے ہیں کہ آئندہ مارچ میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے لیکن یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ منی بجٹ کے حق میں ووٹ دینے والی مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کو بھی آئندہ جنرل الیکشن میں مشکلات درپیش ہوں گی۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف خود اندر سے منقسم ہے، اسے بڑے تنظیمی مسائل کا سامنا ہے، اس کی صفوں میں دراڑیں نمودار ہو گئی ہیں اسی لئے عمران نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں شکست کے بعد عجلت میں پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کر دیا ہے۔ اب پارٹی کے نئے سیکرٹری جنرل اسد عمر ہیں، چار نئے چیف آرگنائزرز بھی مقرر کر دیئے گئے ہیں جو بلدیاتی اور عام انتخابات کے لئے صف بندی کریں گے۔ لیکن اس۔معاملے پر بھی پارٹی کے اندر اختلافات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔پرویز خٹک کو خیبر پختون خوا اور علی زیدی کو کراچی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا یے۔
رقم دوگنا کرنے کا لالچ کرپٹو کرنسی فراڈیوں کا اصل حربہ
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ان زمینی حقائق کے پیش نظر عمران خان کے لئے آگے کی راہیں کوئی آسان نہیں اور اپوزیشن ضمنی بجٹ پر اپنی شکست کے باوجود اسکے پاس ہونے کے بعد آنے والے عوامی ردعمل پر خوش ہو گی۔
لیکن ’’اگر مگر‘‘ کی کیفیت دونوں کیمپوں میں برقرار رہے خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مدد کے بغیر بھی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم پنجاب اور وفاقی حکومتوں کے خلاف تحریک اعتماد لا سکتا ہے۔دودری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اب بھی پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا مفاہمتی بیانیہ کنکشن ہے۔ پیپلزپارٹی نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے لئے 27 فروری اور پی ڈی ایم نے 23 مارچ کی تاریخ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اپوزیشن بحیثیت مجموعی لانگ مارچ کی جانب جاتی ہے یا دھرنے کو ترجیح دی جاتی ہے؟
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اگر آنے والے دنوں میں اپوزیشن عمران خان کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد لاتی ہے ہے اور کپتان اسے ناکام بنا دیتے ہیں تو پھر دیکھنا ہو گا کہ اپوزیشن کا آئندہ قدم کیا ہو گا؟ انکے مطابق کچھ اپوزیشن رہنمائوں کی رائے میں تحریک عدم اعتماد کے بجائے دھرنا یا احتجاجی مارچ زیادہ فائدہ مند ہو گا اور مہنگائی کے خلاف تحریک چلانا ہو گی۔
ایک اپوزیشن لیڈر کی رائے میں عمران کو آئینی مدت مکمل کرنے دینا اور نئے الیکشن میں اقتدار سے نکالنا زیادہ سودمند ہوگا لیکن اس کے لئے اپوزیشن کو لمبا انتظار کرنا ہو گا۔ دوسری جانب وزیراعظم کو بھی رواں سال کی آخری سہ ماہی میں کچھ اہم تبدیلیاں اور فیصلے کرنا ہوں گے، لیکن موجودہ حالات میں جس سیاسی و اقتصادی بے یقینی کا سامنا ہے وہ عمران خان کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔
