پاکستان کو راستہ چاہئے

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مملکت خدادا دمیں ہے کوئی اللہ کا بندہ جو وطن عزیز کی مدد کو آئے! سیاسی بے تدبیری کی لگی آگ کو بجھانے کی تدبیر کرے۔ وطنِ عزیز آج اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی بحران سے نبرد آزما ہے۔ بھارتی سرپرستی میں پاکستان دشمن قوتیں کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بذریعہ ’’ داخلی انتشار اور سیاسی عدم استحکام‘‘ اپنے پراگندہ عزائم اور مذموم ایجنڈا کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ دہائیوں کے بحرانوں سے اَٹی مملکت کو نت نئی وارداتوں نے ہلکان کر رکھا ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری 25 کروڑ عوام کی جان، مال، عزت اور آبرو کا تحفظ کرنا ہے، ریاست اپنی ذمہ داری سے برّی الذمہ ہے۔ حیف ! عوام بے یار و مددگار، کوئی پُرسان حال موجود نہیں، ’’اپنی مدد آپ‘‘ کے اصول پر زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر کہ حکمران زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹے، دانستہ جھوٹا بیانیہ گھڑ کر قوم کو ’’سب اچھا‘‘ کا یقین دلا رہے ہیں ۔ حکمرانوں کے بے حس طرز عمل کی وجہ ہی کہ آج ریاست اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے ۔
سیاستدان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے ، آج حکومتی سیاستدان عوام النّاس سے کوسوں دور ہیں۔ آج اگر بانی تحریک انصاف کی مقبولیت کے ڈنکے چارسُو، کراچی تا گلگت بلتستان اور کشمیر میں بج رہے ہیں تو اسکی وجہ کرشماتی کمالات نہیں اور نہ ہی پونے چار سال کا ’’درخشاں‘‘ دورِ حکومت بلکہ اسکے برعکس عمران خان کرپشن، نااہلی، معاشی بحران، دفاعی پسپائی ، سفارتی ناکامیوں کے ریکارڈ قائم کرگئے۔ آخر مقبول رہنما کے پاس وہ کیسی گیدڑ سنگھی تھی کہ راتوں رات غیرمقبولیت، مقبولیت میں ایسی بدلی کہ وطنی سیاست کے بلاشرکت غیرے حقوق ملکیت اپنے نام منتقل کروا چکے ؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟
ریاستیں محض سرحدوں، عمارتوں، ہتھیاروں یا سرکاری دفاتر سے قائم نہیں رہتیں۔عوام کی اجتماعی آواز کو ریاستی نظم و نسق کی بنیاد بنانا لازم ہوتاہے ۔ جمہوریت تو نام ہی جمہور کی آواز کا ہے۔ ریاست کے تین بنیادی ستون : عوام ، قومی وسائل اور ریاستی قوت، جب تک تینوں ہم آہنگ نہ ہوں تو ریاست ریت کا گھروندا ثابت ہوتی ہے۔ اب جبکہ عوام کا اعتماد متزلزل ہے ، سیاست محاذ آرائی، قومی ادارے عوامی تائید سے محروم تو ریاست کا اندر سے کھوکھلا ہونا بنتا تھا۔ درجنوں دفعہ بتلایا ہے کہ وطن عزیز کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، سیاسی عدم استحکام ہے۔ دنیا کی کوئی معیشت ، کوئی خارجہ پالیسی اور ہر قسم کی قومی سلامتی اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اس کے پیچھے عوامی اعتماد و تائید نہ ہو ۔
آج اقتدار جس پارٹی کے پاس ہے وہ تکریم سے کوسوں دور ہے ۔ عوام النّاس کی نظروں میں جچ ہی نہیں رہی۔ عوام النّاس کسی اور کے رومانس میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔عوام کا مرجع آنکھ سے اوجھل مگر دلوں میں گھر کر چکا ہے ۔ جب کبھی کروڑوں لوگوں کے سیاسی حق ملکیت سے انکار کیا گیا ہو ، عوامی مینڈیٹ کے بجائے بند کمروں کے فیصلے حکومت یا نظام کا تعین کریں تو تیل کے سمندر اور سونے کی کانیں بھی مملکت کی افراتفری ختم نہیں کر پاتیں ۔ مملکت کو مفاہمت، برداشت اور قومی یکجہتی کی ضرورت تھی ، وطن عزیز نئے سے نئے سیاسی تنازعات کے گرداب میں پھنس چکا ہے ۔ حالیہ دنوں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تقریر نے ایک نئی بحث چھیڑ رکھی ہے ۔ قطعِ نظر اس سے کہ وہ تقریر ان کی اپنی تھی یا تحریر کردہ متن پڑھ کر سنایا ، تقریر میں نظام کے زمیں بوس ہونے کا مژدہ سنایا گیا ، اور نئے صوبوں کے شوشے چھوڑے گئے۔ موجود سیاسی بے یقینی کو کئی گنا یقینی بنا ڈالا ۔
16 دسمبر 1971ء کا سانحہ ہم پر بیت گیا ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ سیاسی بحران کا سیاسی حل نہ نکالنا، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا اور مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی تھی ۔ قومی وحدت کا کمزور پڑنا بنتا تھا ۔ علیحدگی پسند تحریکیں خلا میں پیدا نہیں ہوتیں ۔ انہیں زرخیز زمین سیاسی افراط وتفریط سے میسر آتی ہے ۔ اسکے برعکس ، جب عوام کو یقین ہو کہ انکا ووٹ بااختیار ہے، ان کی رائے قابلِ احترام ہے اور وہ حکومت میں برابر کے شراکت دار ہیں، تو بیرونی مداخلت اور علیحدگی پسند بیانیے کو سر چھپانےکی جگہ نہیں ملتی ۔
ریاست کا مضبوط دفاع عسکری قوت کیساتھ ساتھ عوام کا اعتماد بدرجہ اتم موجود ہونا ہے۔ مستحکم نظام نے سیاسی استحکام پروان چڑھانا ہے۔مستحکم نظام نے متفقہ آئین کی کوکھ سے جنم لینا ہے ۔ آئین کی بالادستی ، آزاد ، منصفانہ اور قابل فہم انتخابات کیمطابق اقتدار کی منتقلی عوام کے ووٹ کیمطابق ہو اور تاحد نگاہ ایسا نظام روبہ عمل ہو تو عوام کا ریاست پر غیرمتزلزل یقین کامل رہتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ اقتدار پر کس کا قبضہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کیسے بچانا ہے، مملکت کو آگے بڑھنے کا راستہ کیسے ملنا ہے۔ کاش تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر آئین اور عوام کے فیصلے کو بنیاد بنائیں اور مل جل کر مملکت کو بچائیں۔ شرح میں کیا شرم کہ عوام الناّس بانی PTI کے سحر میں مبتلا ہیں، ایک حدیث مبارکہ ، متفقہ علیہ، ذہن پر سوار ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو کہتا ہے کہ میں اس بندے سے محبت کرتا ہوں اور پورے آسمان اور زمین میں جیسے ہی اعلان ہوتا ہے ، تو زمین و آسمان کی مخلوق اس سے محبت کرنا شروع کر دیتی ہے ۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی سے ناراض ہوتا ہے تو حضرت جبرائیل کو بلاتا ہے کہ میں اس بندے سے ناراض ہوں توجبرائیل آسمان اور زمین کی ساری مخلوق میں اعلان کر دیتے ہیں تو آسمان و زمین کی مخلوق کی اس بندے سے نفرت بڑھ جاتی ہے ۔ ایسی احادیث مبارکہ ہماری رہنمائی کیلئے ہی تو ہیں ۔
ماننے میں کیا حرج ہے کہ عوام النّاس آج اپنی حکومت سےنالاں ہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حکومت عوام کو منانے کی سبیل کرے؟ اگر عوام حکومت سے ناراض توریاست کا بند گلی میں پھنسنا بنتا ہے۔ میں وہ پاکستانی جسکا مملکت پاکستان سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔ والد صاحب کی 60 سال پہلے نصیحت پر عمل پیراء اور آج بھی کاربند کہ ’’حکومت پاکستان سے مفادیا تعلق رکھو گے تو نہ یہ جہاں ہے، نہ اگلا جہاں‘‘، دونوں میں برباد رہو گے ، چنانچہ زندگی بھر حکومت کی نوکری کی نہ کاروبار نہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی ۔
عمران خان پر میرا غصہ ذاتی اور اسکی ذات سے نفرت مملکت سے محبت کے باعث ۔ پاکستان کے عشق کے سامنے میری ذات صفر بٹہ صفر ہے ۔ آج جب میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کا درخواستگار ہوں تو یہ کیسے ممکن کہ میں خود کسی کو معاف نہ کروں۔ پاکستان کی خاطر آج میں عمران خان سے اپنی رنجش ختم کرتا ہوں۔ میرے ہم وطنو ! خدارا ، پاکستان کی خاطر ، ہم سب پاکستان کی خاطر اپنی رنجشیں ختم کر دیں ۔مملکت کیلئے ہماری رنجشیں جان لیواء ثابت ہو رہی ہیں ۔ آج پاکستان کو آگے بڑھنے سے حکومت اور عمران خان کے باہمی ٹکر اؤنے روک رکھا ہے۔ خدا کے واسطہ پاکستان کو آگے بڑھنے کا راستہ دیں ۔ اے اہل اقتدار ! اے حزب اختلاف!
