پاکستانی سفیر کی بائیڈن سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

امریکی صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہائوس میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے ملاقات کی، جس کے دوران دو طرفہ تعلقات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیٹرول 55 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز

پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مسعود خان نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات و مبارکباد اور ایک سرکاری تصویر کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا جو نئے تعینات ہونے والے سفیروں کے لیے مروجہ روایت ہے۔
تقریب کے دوران امریکی صدر اور سفیر نے امریکا اور پاکستان کے مابین تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد تشکیل دینے پر مختصر بات چیت کی۔امریکی حکومت ایک روایت کی پیروی کرتی ہے جس کے تحت واشنگٹن میں نئے سفیروں کے تقرر کے بعد وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے جہاں نئے سفیر اپنے تقرر کی تصدیق کے لیے سربراہ مملکت کو اپنی اسناد پیش کرتے ہیں۔
مسعود خان کو 25 مارچ کو اس وقت واشنگٹن بھیجا گیا تھا جب پی ٹی آئی حکومت اقتدار میں تھی لیکن 11 اپریل کو سابق وزیراعظم عمران خان کی برطرفی کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اسلام آباد میں تبدیلی سے سفارتی تعیناتیوں پر بھی اثر پڑے گا۔
بعد ازاں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب سفیر منیر اکرم نے وضاحت کی تھی کہ موجودہ سفیر اس وقت تک غیر ملکی دارالحکومتوں میں ملک کی نمائندگی کرتے رہتے ہیں جب تک کہ نئی حکومت کی طرف سے خصوصی طور پر وطن واپس جانے کے لیے نہ کہا جائے، چنانچہ سفیر مسعود خان اور نہ ہی مندوب منیر اکرم سے ایسا کرنے کو کہا گیا۔

واشنگٹن پہنچنے پر مسعود خان کو امریکی محکمہ خارجہ کے چیف آف پروٹوکول کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا جس میں ان کی واشنگٹن میں پاکستان کے ‘ورکنگ ایمبیسیڈر’ کے طور پر تقرر کی توثیق کی گئی تھی۔

Back to top button