پرویز الٰہی کیلئے وزارت اعلیٰ بچانا ممکن کیوں نہیں رہا؟

پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکاری چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلی ٰہر گزرتے دن کے ساتھ خاتمے کی جانب گامزن ہے کیونکہ اب یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ وہ اراکین اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ دوسری جانب وہ عمران خان کی جانب سے بھی سخت دباؤ میں ہیں  جو چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ جلدازجلد پنجاب اسمبلی توڑ دیں۔ یاد رہے کہ ہائی کورٹ نے 11 جنوری تک پرویز الٰہی کو بطور وزیراعلیٰ بحال کرتے ہوئے ان سے اسمبلی نہ توڑنے کی یقین دہانی لی تھی، اسی لیے اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لیے جانے کے باوجود پرویزالٰہی اسمبلی نہیں توڑ پائے۔

خیال رہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ رکھا ہے۔ 9 جنوری کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس تو شروع ہوا لیکن پرویزالٰہی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے انکاری ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ دو درجن سے زائد تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی انہیں اعتماد کا ووٹ دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ تاہم فیس سیونگ کے لیے چودھری پرویز الٰہی نے یہ موقف اپنا رکھا ہے کہ اعتماد کے ووٹ سے متعلق وہ گورنر کے خط کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اس لیے وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے بقول اُنہیں اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ایسا کرنے کا مطلب گورنر کا حکم تسلیم کرنا ہوگا۔

صوبے میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی 11 جنوری سے قبل پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں اور پھر لاہور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے لیے پیش ہوں۔ اِسی مقصد کے لیے 9 جنوری کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پارٹی کو 186 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور عمران خان کو بھی اس سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کی نشستوں کی تعداد 179ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی رکنِ اسمبلی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں یا اجلاس سے غیر حاضر ہو سکتے ہیں۔ مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید اور زہرا نقوی نے حال ہی میں پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ مومنہ وحید کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ پرویزالہٰی کواعتماد کا ووٹ نہیں دیں گی۔ اُن کے بقول، پرویز صرف گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں ترقیاتی کام کرا رہے ہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف کا پُرانا کارکن دلبرداشتہ ہے۔

سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ پنجاب کی صورتِ حال اسی طرح ذیادہ عرصہ نہیں چل پائے گی اور پرویز الٰہی کو ہر صورت اعتماد کا ووٹ لینا ہی ہوگا۔ دوسری جانب جب تک کیس عدالت میں زیرِماعت ہے یا وہ عدالتی حکم ختم نہیں ہو جاتا پرویز الٰہی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری نہیں بھی بھجوا سکتے۔ تاہم سچ یہ ہے کہ پرویز الٰہی خود بھی پنجاب اسمبلی نہیں توڑنا چاہتے اور اور عمران خان بھی یہ بات جانتے ہیں۔ پرویز الٰہی کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتیں ختم ہونے سے عمران کی سیاسی طاقت ختم ہو جائے گی جس کے بعد پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق)کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے اکثریتی اراکین اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حق میں نہیں۔ ایسے میں پرویز الٰہی کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہے کہ اگر عمران خان ان پر اسمبلی توڑنے کے لیے دباؤ بڑھائیں تو وہ انکا ساتھ چھوڑ کر پی ڈی ایم اتحاد کے ساتھ مل جائیں۔ لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے صاحبزادے مونس الٰہی ہیں جو مستقبل کی سیاست عمران خان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ عمران پر اعتماد نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی وہ اسمبلی توڑیں گے، خان صاحب بھی انہیں فارغ کر دیں گے۔ لیکن مونس الٰہی یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ مونس پچھلے دس روز سے ملک سے باہر ہیں اور انکی غیر موجودگی میں ان کے فرنٹ مین فاران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ وطن واپس آکر اپنے والد کو اعتماد کا ووٹ دلوا پائیں گے یا نہیں؟

پرویز الٰہی کیلئے وزارت اعلیٰ بچانا ممکن کیوں نہیں رہا؟

Back to top button