مری کے باسی پیسوں کے لالچ میں اندھے ہو گئے

ملکہ کوہسار کہلانے والے مری شہر کے مقامی رہائشی پیسوں کے لالچ میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ وہ سیر کے لیے آنے والے سیاحوں سے پیسے جھاڑنے کی خاطر برف اکٹھی کر کے سڑکیں بند کر دیتے ہیں تاکہ جب سیاح راستہ کھولنے کے لیے مدد مانگیں تو ان سے ہزاروں روپے کمائے جا سکیں۔ مری کے مقامی لوگوں کے لالچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برفباری طوفان کے دوران مری کے باسیوں نے ایک انڈہ پانچ سو روپے، اور پانی کی بوتل ایک لیٹر کی بوتل ایک ہزار روپے میں فروخت کی، سوشل میڈیا پر بھی مری کے دکانداروں اور ہوٹل مالکان کے رویوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، مری والوں کے لالچ سے اُکتائے لوگ سیاحوں کو مری کی بجائے سوات، گلگت بلتستان اور کشمیر کا رخ کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔
سانحہ مری کے دو دن بعد جب سیاح واپس اپنے گھروں کو پہنچنے لگے تو ان میں سے بعض نے اپنی کہانیاں بیان کیں، کچھ سیاحوں نے مری میں واقع ان ہوٹلوں کے بِل اور تعارفی کارڈز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جنہوں نے شدید برفباری کے دوران اپنے کمروں اور کھانے پینے کی چیزوں کے نرخ کئی گنا بڑھا دیئے تھے۔
ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں ایک سیاح مری کے کچھ مقامی افراد کی جانب سے سڑک پر برف پھینکنے کے بعد سیاحوں کو گاڑیاں نکالنے میں بھاری پیسوں کے عوض مدد فراہم کرنے کے واقعات سے آگاہ کر رہا تھا۔
سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ جب سیاح برفباری میں پھنسے ہوئے تھے تب وہاں اُبلے ہوئے انڈے کا ریٹ بڑھا کر پانچ سو روپے کر دیا گیا تھا۔اس طرح کے واقعات سننے کے بعد سوشل میڈیا پر مری کا بائیکاٹ کرنے کے لیے ایک ٹرینڈ بھی چل رہا ہے جس کے تحت لوگ مری کے ہوٹل مالکان اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرتے رہے۔
کوک سٹوڈیو کا 14 واں سیزن ٹاپ ٹرینڈ کیوں بن گیا
سیاحوں کی جانب سے شکایات سامنے آنے کے بعد سب سے پہلے یہ خبر آئی کہ انتظامیہ نے وہ ہوٹل سیل کر دیا ہے جس کا بِل اور تعارفی کارڈ سیاح کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹ کیا گیا تھا، اسسٹنٹ کمشنر مری نے اوور چارجنگ کرنے والے مزید 15 ہوٹلوں کو سیل کر دیا ہے، سیل کیے گئے یہ ہوٹلز ابوظہبی روڈ، کلڈنہ روڑ، اپر جھیکا گلی روڈ اور بینک روڈ پر واقع ہیں۔
اس کے علاوہ اسی روز راولپنڈی پولیس نے مری سے ثاقب عباسی نامی ایک شخص کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا اور بتایا کہ یہ شخص جان بوجھ کر سڑک پر برف پھینکنے کے بعد پھسلنے والی گاڑیوں کو اپنی جیپ کی مدد سے نکالنے پر سیاحوں سے بھاری رقم بٹورتا تھا، اس کی جیپ بھی پولیس نے ضبط کر لی ہے۔
سیاحوں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے مری میں داخلے پر پابندی لگائی اور 17 جنوری تک مری میں سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔
