پرویز الٰہی نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کے مخالف کیوں؟

 سینئر صحافی سید محسن رضا نقوی کو چند ماہ قبل جب پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا تو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب، چوہدری پرویز الٰہی ، محسن نقوی کی تعیناتی کی مخالفت کرتے پائے گئے تھے ۔ حالانکہ محسن نقوی سے پرویز الہی کی عزیز داری بھی ہے ۔ \ پرویز الہی اب بھی محسن نقوی کے نجانے کیوں اتنے مخالف ہیں ، پچھلے دنوں موصوف نے اینٹی کرپشن پولیس کے حصار میں لاہور کی ایک کچہری میں پیشی کے دوران الزام عائد کرتے ہُوئے کہا تھا: ’’ اِس سارے فساد کی جڑ محسن نقوی ہے ۔ مجھ پر یہ ظلم محسن نقوی کرا رہا ہے ۔‘‘ایسا ہی بے بنیاد الزام عمران خان نے بھی لگایا تھا کہ میری حکومت نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے گرائی ۔‘‘ محسن نقوی مگر اِن تہمتوں کا جواب دینے کی بجائے عوامی خدمات میں مصروف ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اُن کے پاس وقت کم ہے اور پنجاب کے کروڑوں عوام کی اُن سے وابستہ اُمیدیں لا متناہی. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی تنویر قیصر شاہد نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ جب سے محسن رضا نقوی، جو پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ بنے ہیں وہ انتہائی تندہی ، کمٹمنٹ اور برق رفتاری سے ، اپنی حدود میں رہتے ہُوئے، پنجاب کے عوامی مسائل حل کرتے نظر آ رہے ہیں. ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی نسبت نگران وزیر اعلیٰ کا سیاسی کردار، اختیارات اور اتھارٹیز محدود ہوتی ہیں ۔اِس کے باوصف مگر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ جناب محسن نقوی پوری سنجیدگی ، شائستگی اور اخلاص کے ساتھ پنجاب کے عوام کی خدمت میں شب و روز جُٹے نظر آتے ہیں ۔ محسن نقوی اِس سے قبل دن رات الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی صحافت کرتے رہے ہیں ۔ وہ کبھی عملی و انتخابی سیاست کا حصہ بھی نہیں رہے ہیں ۔ اس کے باوجود مگر اُنہوں نے بطور نگران وزیر اعلیٰ ،پنجاب، حیران کن حد تک ایک کامیاب وزیر اعلیٰ کی طرح اپنے متعینہ فرائض ادا کیے ہیں. تنویر قیصر شاہد کہتے ہیں کہ محسن نقوی خوش بخت ہیں کہ اُنہیں نگران حکومت میں سینئر صحافی عامر میر کی صورت میں ایک دیانتدار ، کمٹڈ اور محنتی وزیر اطلاعات میسر ہے۔ عامر میر چونکہ خود بھی عامل صحافی ہیں ، پاکستان بھر کے کئی اہم اور موثر میڈیا پرسنز اور میڈیا اداروں سے براہِ راست واقفیت اور تعلقات رکھتے ہیں ، اس لیے اُن کے توسط اور محنت سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بھرپور کوریج مل رہی ہے ۔ پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات، عامر میر ، کے میڈیا میں تعلقات کار کا یہ شاخسانہ ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تمام سیاسی ، معاشی اور سماجی سرگرمیوں کی خبریں بروقت عوام تک پہنچ رہی ہیں۔ تنویر قیصر شاہد بتاتے ہیں کہ محسن نقوی نے20جون کو شاہدرہ (لاہور) کے ٹیچنگ اسپتال پر اچانک چھاپہ مار کر مہلک بد انتظامی پر متعلقہ ذمے داران کی جو گوشمالی کی ہے، اِس سے یقیناً کئی بے کس مریضوں کا بھلا ہوگا۔ پنجاب کے اسپتالوں کو عوام دوست بنانے کے لیے نگران وزیر اعلیٰ، محسن رضا نقوی، جو تگ و دَو کررہے ہیں ، یہ اقدامات خاص طور پر ستائش اور شاباش کے مستحق ہیں ۔ سرکاری اسپتالوں میں جب مریضوں کو محبت اور تعاون ملتا ہے تو دردوں کے مارے مریض جھولیاں پھیلا کر حکمرانوں اور ڈاکٹروں کو دعائیں دیتے ہیں ۔ اور اگر رویہ اِس کے برعکس ہو تو حکمرانوں اور ڈاکٹروں کو جھولیاں بھر بھر کر بددعائیں بھی ملتی ہیں۔ اِن دونوں رویوں کے پیشِ نظر محسن نقوی اچھی کارکردگی دکھانے والے اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور جو دُکھی عوام کی بروقت دستگیری سے دانستہ غفلت برت رہے ہیں، اُن کی گوشمالی بھی کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے پچھلے دنوں فیصل آباد کے مشہور سرکاری شفا خانہ ، الائیڈ اسپتال، کے ایم ایس ، ارشد چیمہ، کو فوری طور پر عہدے سے اُس وقت ہٹا دیا تھا جب محسن نقوی نے اسپتال کا اچانک دَورہ کیا تو کئی مریضوں نے اسپتال کی انتظامیہ ، ڈاکٹروں اور صفائی کے عملے بارے شکایات کے انبار لگا دیے تھے ۔ تنویر قیصر شاہد کا کہنا ہے کہ محسن نقوی پنجاب کے عوام کی بروقت اور بجا دستگیری کے لیے دن رات بھاگتے دکھائی دیتے ہیں پنجاب میں کینسر اور گردے کے سنگین مریضوں کو جو شاندار امداد مل رہی ہے، یہ اقدامات بے مثال کہے جا سکتے ہیں ۔ جون 2023 کے وسط میں جب نگران وزیر اعلیٰ نے مری اسپتال کا اچانک دَورہ کیا تو بھی اُنہوں نے خاص طور پر مری اسپتال میں گردوں کے مریضوں کے لیے نئی ڈائیلسز مشینوں کی تنصیب اور پرانی و خراب ڈائیلسز مشینوں کی فوری مرمت کے احکامات بھی جاری کیے۔ واضح رہے کہ مری کا یہ وہ بدقسمت اسپتال ہے جہاں سے پچھلے دنوں ، مبینہ طور پر، چند ڈائیلسز مشینیں چوری ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں بسیار کوشش سے یہ بازیاب کروا لی گئیں ۔ لیکن یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے اسپتال بھی چوروں کی دست برد سے محفوظ نہیں رہے۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے پچھلے چند ماہ کے دوران جو شاندارعوامی خدمات انجام دی ہیں،مجھے یقینِ واثق ہے کہ اِس پس منظر میں اگر وہ جنرل الیکشن میں حصہ لیں تو کسی بھی

اینٹی ہیومن اسمگلنگ اورٹریفکنگ ایکٹ 2018 میں ترمیم کا فیصلہ

سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر بآسانی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button