ہم 28مئی والے ہیں ،9مئی والے نہیں،سرخروہوکرجارہا ہوں

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا کہناہے کہ ہم 28مئی والے ہیں 9مئی والے نہیں۔اللہ کے فضل سے سرخرہو کر وطن واپس جارہاہوں۔
مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا وطن روانگی سے قبل دبئی ایئرپورٹ پر سینئر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھاکہ جب پاکستان چھوڑ رہا تھا تو خوشی نہیں تھی ۔4سال بعد آج پاکستان جا رہا ہوں ،خوشی محسوس کررہا ہوں۔بہت اچھا ہوتا 2017کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے۔آج 2017کے مقابلے میں ملک کے حالات بہتر نہیں ہیں۔پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے چل گیا ہے۔
نوازشریف کاکہنا تھا کہ لوگوں کے حالات بہت پریشان ہیں۔امید کی کرن ہے ،ہاتھ سے نہیں جانے دیا جائے۔ہم اس قابل ہیں کہ حالات کو ٹھیک کیا جا سکے۔یہ بات درست ہے حالات بگاڑے بھی ہم نے ہی ہیں اور ٹھیک بھی ہم کریں گے۔پاکستان آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ چکا تھا ۔پاکستان میں روٹی4روپے کی ملتی تھی۔غریب کا بچہ بھی سکول جاتا تھا۔پاکستان میں علاج کی سہولت اور دوائیاں مفت تھیں۔کیا آپ کو آج وہ پہلے والا پاکستان نظر آتاہے۔
سابق وزیراعظم کاکہنا تھاکہ افسوس کی بات ہے کہ نوبت یہاں تک کیوں آئی ۔ہمیں آج دنیا کی بلند ترین قوموں میں شامل ہونا چاہیے تھا۔
نوازشریف کا مزید کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن مجاز ادارہ ہے،انتخابات کی تاریخ کااعلان وہی کریگا۔میری ترجیح وہی ہے جو الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔حلقہ بندیوں کاکام ہوناہے مردم شماری ہو گئی ہے۔
قائد ن لیگ نوازشریف کاکہنا تھاکہ میں نےاورمیری بیٹی نے ڈیڑھ ،ڈیڑھ سو پیشیاں بھگتی ہیں۔ناصرف ہم نے ہماری اور پارٹی کے لوگوں نے بھی پیشیں بھگتیں۔میری بیٹی کو بھی کلین چٹ ملی ۔بیٹی کو کلین چٹ ملنا بھی تھی
جنرل عاصم کے معاملے میں ملوث ہو کر غلطی کی،مجھے ٹویٹر لے ڈوبا
کیونکہ وہ کسی عہدے پر نہیں تھی۔
