کراچی میں MQM کی سیاسی پوزیشن کیا ہے؟

کراچی کے شہری علاقوں کی مقبول ترین جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعت MQM اپنی منفرد شناخت رکھتی ہے، یہاں کی سیاست طاقت اور زور پر چلتی ہے۔ یہ شہر اپنے دامن میں کئی تلخ و شیریں یادیں سمیٹے ہوئے ہے، اس شہر میں ملک کی بیشتر چھوٹی بڑی جماعتیں اپنی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ایسے میں کئی دہائیوں سے سندھ کے شہری علاقوں کے ووٹوں سے کئی بار حکومت میں آنے والی ایک جماعت متحدہ قومی موومنٹ بھی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ ’سندھ میں 10 سال سے زائد حکمرانی کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے شہر میں اپنی جگہ بنانے کے لیے علاقوں کی تقسیم اور حلقہ بندیاں ایسے کی ہیں، جن سے اسے فائدہ پہنچے۔‘ایم کیو ایم پاکستان کے مضبوط ووٹ بینک والے علاقوں کو ایسا توڑا گیا ہے کہ نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے تقسیم ہونے کی وجہ سے شہر میں متحدہ قومی موومنٹ کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے، ایم کیو ایم میں پی ایس پی کے شامل ہونے کی وجہ سے بھی متحدہ کے اپنے کارکن اور کئی عہدیدار ناراض ہو کر پارٹی چھوڑ گئے ہیں، یہ کہنا کہ پورا کراچی کسی جماعت کا ہے یہ درست نہیں ہوگا، اب کراچی شہر میں ایم کیو ایم کے علاوہ کئی جماعتیں موجود ہیں جن کا اچھا ووٹ بینک شہر میں موجود ہے۔سینئر صحافی عبد الجبار ناصر کے مطابق موجودہ صورت حال کی بات کی جائے تو شہر کے چار اضلاع ایسے نظر آتے ہیں جہاں متحدہ قومی موومنٹ اچھی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ضلع جنوبی کے علاقے لیاری، کھارادر، میٹھا در، لی مارکیٹ اور اطراف کے علاقوں میں پیپلز پارٹی مضبوط نظر آتی ہے۔ اس علاقے سے کچھ دوری پر پان منڈی سے متحدہ قومی موومنٹ کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔کھاس منڈی، عثمان آباد، رنچھوڑ لائن، نانک واڑہ، برنس روڈ، صدر، ریلوے کالونی، پاکستان چوک اور گنا منڈی میں ایم کیو ایم اپنے مضبوط ووٹ بینک کے ساتھ موجود ہے۔ اسی طرح ضلع وسطی میں فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، نارتھ کراچی، بفرزون، لیاقت آباد، حسین آباد، عزیز آباد، سمیت دیگر علاقوں میں بھی ایم کیو ایم کی پوزیشن اچھی ہے۔ضلع شرقی کے علاقے گلشن اقبال، گلستان جوہر، گارڈن، گرومندر، جمشید روڈ، جہانگیر روڈ، مارٹن کوارٹر، بہادر آباد، پی آئی بی، چاندنی چوک، سکیم 33 سمیت دیگر علاقوں میں بھی ایم کیوایم اچھی نشستیں جیت سکتی ہے۔ ضلع غربی سے پاک کالونی، اورنگی ٹاؤن، قصبہ، علی گڑھ، گلشن بہار سمیت دیگر علاقوں میں بھی ایم کیو ایم کا مضبوط ووٹ بینک موجود ہے۔ضلع کیماڑی سے بلدیہ ٹاؤن اور مچھر کالونی سمیت دیگر علاقوں میں بھی ایم کیو ایم کے ووٹرز موجود ہیں۔ ضلع کورنگی میں ایم کیو ایم کا ایک مضبوط علاقہ ہے، کورنگی، شاہ فیصل، لانڈھی سمیت دیگر علاقوں میں ایم کیو ایم موجود ہے۔ ضلع ملیر کے بھی بیشتر علاقوں میں ایم کیو ایم کی پوزیشن بہتر ہے جن میں ملیر سعود آباد، ماڈل کالونی، کالا بورڈ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔سال 2018 سے 2023 تک نظر ڈالیں تو ایم کیو ایم پاکستان عمران خان اور پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت دونوں کا حصہ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق ایم کیو ایم کے پاس قومی اسمبلی کی سات اور صوبائی اسمبلی کی 21 نشستیں تھیں۔2018 سے 2023 تک نظر ڈالیں تو ایم کیو ایم پاکستان عمران خان اور پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت دونوں کا حصہ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق ایم کیو ایم کے پاس قومی اسمبلی کی

پاکستان میں پیروں، گدی نشینوں کی سیاست کا آغاز کب ہوا؟

سات اور صوبائی اسمبلی کی 21 نشستیں تھیں۔

Back to top button