پاکستان میں پیروں، گدی نشینوں کی سیاست کا آغاز کب ہوا؟

جھنگ کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 108 اور پی پی 125 سے الیکشن میں حصہ لینے والے فیصل صالح حیات کا تعلق ’’پیری گھرانے‘‘ سے ہے جوکہ ’’شاہ جیونہ‘‘ کے گدی نشین بھی ہیں نے ایک ماہ قبل ہی پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکی ہے جوکہ بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔یہ منظر صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ کا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی چند ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیش قیمت گاڑیوں کے قافلے میں اپنے حلقہ انتخاب میں ووٹرز تک پہنچنے والے مخدوم فیصل صالح حیات جیسے ہی اپنی گاڑی سے اُترتے ہیں تو ووٹرز کی بڑی تعداد آگے بڑھ کر اُن کو خوش آمدید کہتی ہے۔پاکستان میں جیسے جیسے عام انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی ہے ویسے ویسے مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے اپنی سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن کی تیاریوں سے متعلق اس نوعیت کے سینکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جا رہی ہیں۔تاہم فیصل صالح حیات نامی فیس بُک پیج (جس کے ایک لاکھ 22 ہزار فالوروز ہیں) پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں جو بات دوسرے امیدواروں کی جانب سے پوسٹ کرنے والی ویڈیوز سے مختلف ہے وہ یہ ہے کہ انھیں کارنر میٹنگ میں خوش آمدید کہنے والے اُن سے ملتے وقت تعظیم میں اپنی کمر کو تھوڑا خم دیتے ہیں، ایک ہاتھ ان کے ہاتھ میں (سلام کی غرض سے) دیتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے تعظیماً اُن کا گھٹنا چھوتے ہیں۔شاید اس تعظیم کی ایک وجہ یہ ہے کہ مخدوم فیصل صالح حیات ’شاہ جیونہ‘ کے گدی نشین بھی ہیں اور یہ معاملہ فیصل صالح حیات تک محدود نہیں بلکہ ووٹرز کی جانب سے اس نوعیت کا ’خوش آمدید‘ پاکستان کے ان تمام ’پیر گھرانوں‘ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو میسر آتا ہے جو آئندہ ماہ ہونے والے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔8 فروری 2024 کو ہونے والے الیکشن میں بھی بہت سے گدی نشین یا ان کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے مختلف قومی و صوبائی حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے امیدوار ہیں تاہم پاکستان کی بڑی گدیوں اور اور ان کے الیکشن 2024 میں اثرات کو جاننے سے قبل ہم ماضی میں چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ کتنا پرانا ہے۔عام لوگوں کی عقیدت کو اِن مزارات سے جڑے خاندانوں نے سیاسی طاقت کے حصول کے لیے بھی استعمال کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق مغل بادشاہت نے معروف مزارات سے منسلک خاندانوں کو مراعات سے نوازا اور جب برصغیر پر انگریزوں کی حکمرانی کا دور آیا تو ایسے خاندانوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔آئی اے ٹالبوٹ اپنے تحقیقی مقالے ’دی 1946 پنجاب الیکشن‘ میں لکھتے ہیں کہ پیروں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ دیہات میں ان کے متعدد پیروکاروں پر یہ بے پناہ روحانی اور دنیاوی غلبہ رکھتے تھے۔ درگاہ جلا ل پور شریف کی گدی سے وابستہ سید شمس حیدر بتاتے ہیں کہ ’یونینسٹ کو چونکہ اس پہلو کا ادراک تھا کہ درگاہوں کا دائرہ اثر وسیع ہے تو وہ ایک بڑی جماعت ہونے کی وجہ سے سیاسی حمایت کے لیے سجادہ نشینوں سے رابطہ کرتی تھی۔اور دیگر عوامل کے علاوہ سجادہ نشینوں کی اِس حمایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1937کے انتخابات میں دیہی مسلم نشستیں جن کی تعداد 75 تھی، اُس میں 73 نشستیں یونینسٹ پارٹی نے جیت لیں اور یہ سلسلہ یہاں رُکا نہیں۔اس ضمن میں پہلا فتویٰ حضرت شاہ نور جمال کی خانقاہ کے سجادہ نشین سید فضل شاہ کی جانب سے دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبد الغنی کی کتاب ’امیر حزب اللہ‘ کے مطابق 31 دسمبر 1945میں جلال پور شریف میں پنجاب کے ایک ہزار بااثر لوگ جمع ہوئے۔ ان میں 24 لوگ انتخابی حلقوں کے حامل تھے۔ سب نے اس پر اتفاق کیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں مسلم لیگ کے اُمیدوار کو کامیاب کروائیں گے۔آل انڈیا مسلم لیگ اور قبل ازیں یونینسٹ پارٹی نے جن پیروں اور درگاہوں کی حمایت حاصل کرکے سیاسی فضا کا دھارا بدلا تھا اُن پیر خاندانوں اور درگاہوں نے پاکستان کی انتخابی سیاست کو آگے چل کر بھی متاثر کیے رکھا۔ یونینسٹ اور بعدازاں آل انڈیا مسلم لیگ کے نزدیک جو اہمیت پیروں اور درگاہوں کی رہی ویسی ہی اہمیت ہر دَور کی بڑی سیاسی جماعتوں سمیت اسٹیبلشمنٹ کو بھی رہی تاہم رواں صدی میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض گدیوں کا ووٹ بینک کم ہوا، بعض کا تقسیم اور کچھ گدیوں کی سیاست مکمل طور پر
وقت کے ساتھ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
