بلاول کی تحت لاہور پر فتح کے امکانات روشن کیوں؟

قومی اسمبلی کے الیکشن میں عوامی توجہ کا مرکز بننے والے حلقوں میں دو جماعتوں کے سربراہوں کے ایک ہی شہر سے الیکشن لڑنے والے لاہور کے دو حلقے سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہیں۔ ان دونوں سر براہوں کی پوزیشن بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تاہم خفیہ رائے شماری کے نتیجے میں ان میں سے کسی کی بھی ممکنہ بار بہت بڑی شکست تصور کی جارہی ہے۔ جن میں سے میاں نواز شریف اس لئے سرفہرست ہیں کہ وہ لاہور سے تا حال کوئی الیکشن نہیں ہارے جبکہ بلاول بھٹو زرداری لاہور سے پہلے مرتبہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سر براہ میاں نواز شریف کا مقابلہ پی ٹی آئی لاہور کی سابق صدر و صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد سے، جبکہ بلاول بھٹوزرداری کا مقابلہ نون لیگ کے عطاء اللہ تارڑ اور پی ٹی آئی کے سابق رکن اسمبلی ملک ظہیر عباس کھوکھر سے ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی تیاریوں سے نظر آتا یے کہ وہ کبھی بھی یہ سیٹ اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دے گی۔ پ جارحانہ حکمت عملی سے پیپلز پارٹی نہ صرف قومی اسمبلی کی نشستیں اپنے نام کرے گی بلکہ صوبائی اسمبلی کے انتخابی معرکے میں بھی مخالفین کو شکست فاش دے گی۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے باعث لاہور کی قومی اسمبلی کی تمام موجودہ نشستوں کی انتخابی جغرافیہ اور آبادی کی تقسیم کے باعث ان امیدواروں کو زیادہ چیلنج کا سامنا ہے۔ جن کے علاقے دوسرے حلقوں میں منتقل ہو گئے ہیں یا نئے علاقے ان کے حلقے میں شامل ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ تگ و دو کرنا پڑ رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انتخابی سرگرمیاں سب سے زیادہ حلقہ این اے ایک سوستائیں میں دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں بلاول کی انتخابی مہم قومی سطح پر چلائی جارہی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے نوے کی دہائی کے بعد لاہور سے الیکشن لڑنا ترک کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی لاہور میں غیر فعال ہوتی گئی۔ لیکن اب موجودہ الیکشن میں انتخابی سرگرمیاں بلاول بھٹو نے دوبارہ بحال کی ہیں اور لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حلقہ این اے ایک سو ستائیس کچھ سال پہلے تک مجموعی طور پر عوامی ووٹرز پر مشتمل تھا لیکن اب اس میں عوامی ووٹرز کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے اور پوش ووٹرز بھی شامل ہیں۔ جہاں سے مسلم لیگ کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ پانچ لاکھ ستائیس ہزار چالیس ووٹوں کے اس حلقے میں نصف سے زائد ووٹ متوسط طبقے اور بیس فیصد پوش ووٹرز ہیں۔ یہاں پر نون لیگ کے عطاء اللہ تارڑ اور بلاول نئے امیدوار ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے ملک ظہیر عباس کھوکھر مقامی امیدوار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آباد کی جانے والی بستیاں گرین ٹاؤن اور ٹاؤن شپ بھی اسی حلقے کے اہم ترین علاقے ہیں۔ جہاں کی ستر فیصد سے زائد آبادی تیسری نسل کے ساتھ مقیم ہے۔ شریف خاندان کی اتفاق فاؤنڈریز بھی اسی علاقے میں تھی۔ جواب رہائشی اسکیم میں تبدیل ہو چکی اور بہت سے دیگر صنعتی یونٹ بھی اس حلقے کا حصہ ہیں۔ ان حلقوں میں ماضی کے اعداد وشمار کے مطابق نون لیگ کے مقابلے میں پی ٹی آئی امیدوار کو زیادہ ووٹ ملے تھے اور گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے گھروں پر پی ٹی آئی کے جھنڈے لہراتے دیکھے گئے تھے۔ لیکن دو سال قبل یہاں ضمنی الیکشن میں ان ووٹرز کی بڑی تعداد نے دوبارہ پیلز پارٹی کے جھنڈے لہرا دیئے تھے۔ جبکہ گزشتہ بلدیاتی الیکشن میں یہ واحد علاقہ تھا۔ جہاں سے پی پی کے کونسلر منتخب ہوئے تھے اور لاہور میں صرف اسی علاقے میں اس کا سیاسی وجود دکھائی دیتا تھا۔ مجموعی طور پر یہ حلقہ نون ن لیگ، پی پی اور پی ٹی آئی کے ووٹرز میں بہت معمولی مارجن کے ساتھ تقسیم ہو چکا ہے۔ حلقے میں بلاول کی انتخابی مہم چلانے کیلئے دوسرے صوبوں سے اور خاص طور پر سندھ سے رہنماؤں کی بڑی تعداد یہاں ووٹرز سے رجوع کر چکی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے عطاء اللہ تارڑ کا اپنی شخصیت سے زیادہ پارٹی قیادت کے اثر رسوخ پر انحصار ہے تاہم لگتا یہی ہے کہ نون لیگ کا یہاں سے کامیابی حاصل کرنا جوے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔
خیال رہے کہ لاہور میں، جو کبھی پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، اب صرف ایک نشست این اے 127 پر بلاول بھٹو کا دوسرے امیدواروں سے مقابلہ دکھائی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس حلقے میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ تشہیر کر رکھی ہے۔ غیر معمولی اخراجات کا اندازہ شاہراہوں پر بورڈز، بینرز اور پوسٹرز دیکھ کر ہی ہو جاتا ہے۔اس حلقے سے عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ فروری کے انتخابات میں وہ بلاول بھٹو زرداری کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ جس کے بعد بلاول بھٹو کی اس حلقے سے کامیابی کے امکانات روشن
دکھائی دیتے ہیں۔
