پنکی پیرنی نے عمران کو جہانگیر ترین سے دور کیسے کیا؟

 بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی ماضی میں عمران خان کی اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر ترین اور عمران خان کے مابین دوریاں پیدا کرنے کی بنیادی وجہ نکلیں۔استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے عمران خان کے ساتھ تعلقات کی خرابی اور بشریٰ بی بی سے ان کے تعلقات کے بارے میں ہوشرُبا انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے عمران خان سے تعلقات بشریٰ بی بی کی وجہ سے خراب ہوئے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے بتایا کہ مجھے خاور مانیکا کے چھوٹے بھائی رضا کا فون آیا۔ وہ کہنے لگا کہ میں نے ملنا ہے ، میں نے کہا آجاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نہیں ملنا پرائیویٹ میں ملنا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آجائیں۔ وہ ملنے آئے اورمجھ سے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جو میرے بھائی خاور مانیکا کے اہلیہ کے ساتھ ایسے حالات چل رہے ہیں اور وہ کافی شوقین سوچ رکھتی ہیں اور ان کے آپ کے لیڈر سے کچھ معاملات چل رہے ہیں۔ آپ کا لیڈر یہ سب کر رہا ہے۔

جہانگیر ترین نے بتایا کہ میں نے انہیں کہا کہ یہ میرا کام نہیں ہے۔ آپ غلط آدمی کے پاس آئے ہیں۔ آپ کو ایسی بات کرنے میں شرم آنی چاہیے۔ یہ ہمارا معاملہ نہیں ہے۔ آپ کا فیصلہ ہے جو کرنا ہے وہ کریں۔ جہانگیر ترین نے بتایا کہ خاور مانیکا کے بھائی کہنے لگے آپ اپنے لیڈرعمران خان کو بچا لیں۔ میں ساری رات سویا نہیں۔ میرے پاس دو راستے تھے کہ چپ رہتا اور سینے میں رکھتا یا پھر عمران خان کے ساتھ بات کرتا۔ لوگ اس قسم کی نجی بات پسند نہیں کرتے۔ پھرمیں نے سوچا کہ یہ میرا فرض ہے کہ میں عمران خان کو یہ بات بتاؤں ۔ میں نے عمران خان کو فون کیا اور ملنے کیلئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ آجائیں.

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے چھوٹے بھائی میرے پاس بشریٰ بی بی سے متعلق پیغام لے کر آئے جو میں نے سوچ سمجھ کر عمران خان کو بتایا۔ میں نے انہیں بولا کہ سیاسی وابستگی سے ہٹ کر آپ سے وفادار ہوں اور وہ لوگ آئے اور مجھے یہ سب بتایا تو میں چاہتا تھا کہ آپ کو سب بتاؤں۔ عمران خان نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا اور ان کے تاثرات اچھے نہیں تھے۔ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ فیکٹ ہے یا فکشن۔ وہ لوگ آئے مجھے بتایا، میں نے انہیں بتا دیا۔ میں تو کسی کو نہیں جانتا۔پھر عمران خان نے مجھے کہا کہ آپ نے ان سے ملاقات کیوں کی؟ میں نے کہا کہ میرے دروازے کھلے ہیں۔ وہ لوگ آئے تو میں نے سن لیا۔ میرا کام ہے آپ کو بتانا باقی آپ کی مرضی۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھے 10 منٹ میں یہ احساس ہو گیا کہ یہ کام مکمل ہو گیا ہے اور یہ ایک ‘ڈن ڈیل’ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے یہ توقع نہیں کی تھی وغیرہ وغیرہ۔ تو میں نے جواب دیا کہ مجھے انہوں نے بتایا تو میں نے آپ کو بتا دیا۔ اگر میں نہ بتاتا تو آپ کو کیسے پتا چلتا۔ دو سے تین ہفتے کہ بعد وہ انہیں گھر لے آئے۔ ولیمے کی تقریب کا انعقاد کیا۔ پارٹی کی پرانی لیڈرشپ تھی جس میں 2، 3 خواتین بھی شامل تھیں۔

 پھر اس کے بعد تقریب میں ہی بشریٰ بی بی نے مجھ سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ میرے بارے میں ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کو نہیں کرنی چاہیے تھی تو میں چپ رہا۔ کیا جواب دیتا۔جہانگیر ترین نے کہا کہ میں عمران خان کا دوست تھا اور میں نے دوستی کے تحت ہی سب کچھ ان کے سامنے رکھا تھا۔ اور اس کے بعد تعلقات میں دراڑ آگئی۔لیکن اس کے بعد عمران خان نے جو میرے بچوں کے ساتھ کیا میں اس کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں ایف آئی آرز دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ میں کبھی زندگی میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ عمران خان میرے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔ بہرحال یہ آخری حد تھی۔پھر انہوں نے مجھے فارغ کر دیا لیکن میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔

تاہم دوسری جانب عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان اور جہانگیر ترین کے مابین دوریوں کی بنیادی وجہ دونوں خاندانوں کی خواتین میں وہ اختلافات تھے جو کہ پنکی پیرنی بشری بی بی اور ان کی کرامات کے حوالے سے ترین خاندان کی خواتین کی جانب سے کی جانے والی مبینہ منفی گفتگو سے پیدا ہوئے.

خیال رہے کہ عمران اور ترین دونوں ہی خان پٹھان ہیں۔ جہانگیر ترین پٹھان اور عمران نیازی پٹھان۔ گو دونوں نسلی طور پر پٹھان ضرور ہیں مگر ان کے خاندان صدیوں سے پنجاب میں آباد ہیں، سو دونوں ہی پنجابی پٹھان ہیں۔ دونوں کے والد سرکاری ملازم تھے سو دونوں کے بچپن تقریباً ایک ہی طرح گزرے۔ ترین کے والد اللہ نواز ترین پولیس میں ملازم تھے اور عمران کے والد سرکاری محکمے میں سول انجینئر تھے۔ ترین اور عمران دونوں کا پہلا کیرئیر سیاست نہیں تھا، ترین بینکر اور عمران کرکٹر تھے۔ دونوں نے بعد میں سیاست کے کیرئیرکا انتخاب کیا۔ دونوں نے عملی زندگی کا آغاز مڈل کلاس شہری کی حیثیت سے کیا، پھر دونوں دولت کما کر اشرافیہ میں شامل ہوگئے۔

دونوں کے مشترکات کے بعد اب دونوں کے تضادات کی طرف چلتے ہیں۔ عمران خان نے کبھی بزنس نہیں کیا اور کرکٹ کے بعد شوکت خانم کے پلیٹ فارم سے فلاح انسانی کا فریضہ سنبھال لیا۔ یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ مادی دنیا کی بجائے روحانی دنیا سے جڑتے چلے گئے لیکن اس دوران انہوں نے کبھی بھی دولت کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

دوسری طرف جہانگیر خان ترین مادی دنیا میں ایک سے دوسری منزل فتح کرتے چلے گئے، ایک شوگر مل کے بعد دوسری اور صنعت کے بعد زراعت میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔ سیاست میں ترین اور عمران اکھٹے ہوئے تو یہ ایک خوفناک اور خطرناک ‘جوڑا‘ بن گیا۔ عمران اخلاقیات کا جھنڈا اٹھائے قیادت کرتے رہے اور ترین عملیت پسندی پر چلتے ہوئے انتخابی گھوڑوں پر ہاتھ ڈالتے چلے گئے۔ عمران سٹیج پر کھڑے ہو کر سیاسی لتے لیتے رہے اور ترین رات کے اندھیروں میں سیاسی مخالفین کو توڑتے رہے۔ عمران ن لیگ کے خلاف عدالتوں میں مقدمات کرتے اور ترین ان مقدمات کے لیے فائلوں کا پیٹ بھرتے۔ غرض یہ کہ اس خطرناک جوڑے نے اپنے سیاسی مخالفین کو تاراج کر دیا۔

سچ تو یہ یے کہ تحریک انصاف کی سیاسی، عدالتی اور قانونی فتح کا راستہ ان دونوں کی مشترکہ ٹیم سے ہی ممکن ہوا تھا۔  چند سال پہلے تک ان کی دوستی بہت گہری ہوتی تھی۔ اس قدر گہری کہ عمران خان اپنے نجی معاملات پر بھی ترین سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ ریحام خان نے اپنی کتاب اور انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ عمران مجھ سے طلاق لینے پر ترین سے مشورہ کر رہے تھے کہ میں نے اپنے کانوں سے سن لیا اور دروازہ کھول کر اندر چلی گئی اور انھیں بتا بھی دیا کہ میں آپ کی باتیں سن چکی ہوں۔ بعد ازاں ترین نے بھی اعتراف کیا کہ یہ بات سچ تھی۔

ایک زمانہ تھا جب کپتان کے نجی معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی حوالے سے بھی ترین کا پارٹی اور بنی گالہ پر مکمل ‘ہولڈ‘ تھا۔ تحریک انصاف میں کس نے اوپر جانا ہے اور کون فارغ ہو گا، اس کا دارومدار جہانگیر ترین کی حکمت عملی پر ہوتا تھا۔ الیکشن سے پہلے تک بنی گالہ عون چودھری، پنجاب علیم خان اور خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کے مکمل قبضے میں تھے اور تینوں جہانگیر ترین کی مُٹھی میں تھے مگر پھر سب کچھ بدلنا شروع ہو گیا۔ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے دوست اور ہوتے ہیں اور اپوزیشن کے دوست اور۔ بالکل ایسا ہی جہانگیر ترین کے ساتھ بھی ہوا۔

عدالت عظمیٰ نے انہیں سیاست سے نااہل اور عمران کو اہل قرار دیکر ایک عملیت پسندانہ سیاسی لین دین کا فیصلہ کیا جس پر تحریک انصاف سمیت کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکا اور یوں عمران خان کے نمبر 2 کا ڈھلوان کی طرف سفر شروع ہوا۔ اقتدار ملنے سے پہلےعمران کی بشریٰ مانیکا وٹو سے شادی ہو گئی اور اقتدار ملتے ہی عون چودھری کی بنی گالہ سے چھٹی ہو گئی۔ علیم خان اپنے چارٹر جہاز پر عمران اور ان کی بیگم کو عمرے کے لیے لے کر گئے مگر وہاں کچھ ایسا ہوا کہ علیم خان پن کی پیرنی کی نظروں سے گر گئے اور رفتہ رفتہ وہ بھی کپتان سے دور ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح پرویز خٹک دوبارہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نہ بن سکے، لیکن وفاقی وزیر بن گئے مگر اب بھی وہ کپتان کے ناپسندیدہ لوگوں میں شامل ہیں۔

اسی طرح اقتدار کے چند ہی ماہ میں جہانگیر ترین کا قریبی حلقہ اثر عمران سے دور ہوتا گیا یا دور کر دیا گیا۔ ترین اور عمران میں فاصلے بڑھنے لگے مگر جب بھی کوئی بڑا معاملہ ہوتا کسی پارٹی سے ڈائیلاگ یا اتحاد کی بات ہوتی تو جہانگیر ترین کو بلایا جاتا۔ مگر پھر وقفے بڑھتے چلے گئے۔ اس دوران عمران کی نئی کچن کابینہ بن گئی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ، فرسٹ لیڈی بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری اس کابینہ کے اہم ترین رکن بن گئے۔ یوں ترین کا رہتا سہتا اثرو رسوخ اور بھی کم ہو گیا۔

ویسے بھی عمران کے ایک بہت قریبی دوست نے کہا تھا کہ کپتان سے ذیادہ قربت اچھی اور نہ ہی زیادہ دوری اچھی۔ زیادہ قریب ہوئے تو وہ بور ہوجائے

پرویز خٹک کووزارت اعلیٰ کے خواب کیوں آنے لگے؟

گا اور زیادہ دور ہوئے تو وہ بھلا دے گا۔ یقیناً ترین اس راز کو نہ سمجھ سکے۔

Back to top button