پرویز خٹک کووزارت اعلیٰ کے خواب کیوں آنے لگے؟

پاکستان تحریک انصاف کی ’’بلے‘‘ سے محرومی کے بعد پرویز خٹک کی وزیر اعلیٰ بننے کی امیدیں ایک بار پھر جاگ اٹھیں ہیں اور انھوں نے جاگتی آنکھوں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے تمام قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار، آزاد تصور ہوں گے اور ریٹرننگ افسران نے تمام پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد امیدواروں کے نشانات الاٹ کردیئے ہیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر پی ٹی آئی امیدوار اپنے ووٹرز کو متحرک رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا سے اچھی تعداد میں نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختون کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات تھے لیکن پی ٹی آئی کے کئی امیدوار جو آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنا چاہتے تھے، انہیں موقع ملا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عمران خان کا نمائندہ قرار دے سکیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کے بہت سے امیدواروں کو اپنے آزاد امیدواروں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ تمام امیدوار آزاد حیثیت سے مختلف نشانات پر حصہ لے رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے امیدوار کو الگ اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو علیحدہ علیحدہ نشانات الاٹ کرنے سے ووٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتخابی نشانات الگ الگ ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں پی ٹی آئی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا جہاں ان پڑھ خواتین کو ایک بھی قومی اسمبلی اور صوبائی امیدواروں کے مختلف نشانات کو شناخت کرکے ووٹ دینا مشکل ہوگا جس سے پی ٹی آئی کے ووٹ مسترد ہونے کا امکان ہے۔
کیونکہ قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار کو جو نشان الاٹ ہوا ہے وہی نشان قومی اسمبلی کے نیچے صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی مخالف امیدوار کو الاٹ ہوگیا ہے، لہٰذا عام ووٹرز اور خاص کر دیہی علاقوں کے ووٹرز کو مشکلات ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر اندر جیتنے کی صورت میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی، جس کی وجہ سے کئی امیدوار، وزارتوں اور مراعات کے لالچ میں منحرف ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہیں پارٹی کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں نااہل نہیں کیا جاسکے گا۔
تاہم ذرائع کے مطابق ایک بڑا گروپ جو حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں ہو، اپنا گروپ قائم کرسکتا ہے۔ اور وہ اپنے گروپ کے قیام سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے تمام کارکنوں کو متحرک کردیا ہے۔ کیونکہ عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے کے لئے پی ٹی آئی کے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو کامیاب کرانا ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جیتنے کی صورت میں سوائے جماعت اسلامی کے دیگر جماعتوں کو شمولیت پر پابندی لگانے پر غور شروع کردیا ہے۔ کیونکہ دیگر جماعتیں عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف مبینہ سازش میں ملے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کسی بھی امیدوار کی پی ٹی آئی کی قیادت کی اجازت کے بغیر کسی حلقے کے مخالف امیدوار کے ساتھ بات چیت اور صوبائی امیدوار کی جانب سے کسی قومی اسمبلی کے مخالف امیدوار کی حمایت اور رکن قومی اسمبلی کے امیدوار کی اپنی ووٹ کی خاطر صوبائی امیدوار کی مخالفت امیدوار کی مخالفت قبول نہیں کی جائے گی اور مستقبل میں ان کو پارٹی سے نکالا جائے گا۔ کیونکہ دیگر جماعتیں پی ٹی آئی کو اس مقام تک لانے والوں کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو سب سے نقصان مخصوص نشستوں سے محروم ہوجانا ہے۔ کیونکہ اگر پی ٹی آئی سے وابستہ امیدوار جیت بھی جائیں
تو انہیں مخصوص نشستوں سے محروم ہونا پڑے گا۔
