کیا آصفہ بھٹو بلاول کی خالی نشست پر الیکشن لڑنے والی ہیں؟

پاکستان میں الیکشن کی آمد پر اس وقت سیاسی گہما گہمی خوب عروج پر ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت تو بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں لیکن ان کی چھوٹی بہن آصفہ بھٹو بھی ان کے سائے میں وقتا فوقتا سیاسی سرگرمیاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں، ان کے سیاسی عزائم بھی اب واضح ہوتے جا رہے ہیں۔انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ آصفہ بھٹو انتہائی فوکسڈ شخصیت کی مالک ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ زندگی میں انہیں کیا کرنا ہے۔ ان سے بات کرتے ہوئے ایسا لگتا جیسے وہ ایک نوجوان لڑکی نہیں بلکہ منجھی ہوئی خاتون ہیں۔انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آصفہ بھٹو کی پارٹی کی جانب سے باضابطہ تربیت کی جا رہی ہے مگر آصفہ بھٹو کو سیاسی تربیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔آصفہ بھٹو نے برطانیہ میں واقع 1865 میں قائم ہونے والی آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی (سابق آکسفورڈ سکول آف آرٹ) سے سیاسیات اور سوشیالوجی میں بیچلرز ڈگری حاصل کی۔ آصفہ بھٹو زرداری نے جولائی 2016 میں یونیورسٹی کالج لندن سے گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈوپلپمنٹ میں ماسٹرز کیا۔نوّے کی دہائی میں جب پاکستان میں پولیو کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو پاکستان میں سب سے پہلے پولیو ویکسین پینے والی بچی آصفہ بھٹو تھیں۔2007 میں اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں پاکستان میں پولیو مہم کا ایمبیسڈر مقرر کیا گیا۔ آصفہ بھٹو نے پاکستان میں 70 فیصد پولیو ویکسینیشن کا کام اپنی نگرانی مکمل کروایا۔پاکستان میں 2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران آصفہ بھٹو نے اس قدرتی آفت کے متاثرین کی امداد میں بھرپور حصہ لیا۔دسمبر 2013 میں فلپائن میں شدید سمندری طوفان ’ٹائیفون ہیا‘’ جسے مقامی زبان میں ’یولینڈا‘ کا نام دیا گیا، کے دوران ہلاک یا گُم ہونے والوں کی تعداد سات ہزار سے زیادہ تھی۔سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے آصفہ بھٹو نے 13000 فٹ بلندی سے جمپ لگائی، جسے انہوں نے سوشل میڈیا پر ’جمپ فار ہیومنٹی‘ کا نام دیا۔امداد کے لیے آصفہ بھٹو نے ڈھائی ہزار امریکی ڈالرز کا ٹارگٹ رکھا تھا، جب کہ اکٹھی ہونے والی رقم 2516 امریکی ڈالر تھے۔آصفہ بھٹو زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ کئی سالوں سے اپنے بھائی بلاول بھٹو اور والد آصف علی زرداری کے ساتھ سیاسی جلسوں میں شرکت کر رہی ہیں۔آٹھ فروری کے انتخابات کے لیے اپنے بھائی کے لاہور کے حلقے سمیت سندھ میں پارٹی امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم کا آغاز کرکے وہ عملی سیاسی میں قدم رکھ چکی ہیں۔آصفہ بھٹو بلاول بھٹو کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 127 لاہور سمیت پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات لڑنے والے امیدواروں کی حق میں ریلیاں اور جلسے کر چکی ہیں۔اس کے علاوہ آصفہ نے سندھ میں مختلف شہروں میں انتخابی مہمات چلائیں، جن میں ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار کے علاوہ کراچی کے مواچھ گوٹھ، کیماڑی، حب ریور روڈ، چنیسر گوٹھ اور لیاری میں ریلیاں شامل ہیں۔ آصف علی زرداری ایک انٹرویو میں بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ آصفہ بھٹو کو ضمنی انتخابات میں انتخاب لڑنے کا موقع دیا جائے گا۔’انتخابات میں چند روز رہنے کے باوجود تاحال روایتی سیاسی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی مگر آصفہ بھٹو کی جانب سے انتخابی مہم چلانے کے بعد کم از کم سندھ میں تو کچھ سیاسی سرگرمی دیکھی جا سکتی ہے۔سینیئر سیاسی تجزیہ نگار اور کالم نگار سہیل سانگی کے مطابق: ’پیپلز پارٹی کی قیادت آصفہ بھٹو کو مریم نواز کی طرح سیاسی طور پر لانا چاہ رہی ہے۔ اس کے لیے ان عام انتخابات میں انہیں حصہ دلانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔’سیاست میں سب پتے ایک ساتھ نہیں کھیلے جاتے، کوئی کارڈ رکھا جاتا ہے کہ وقت آنے پر استعمال کیا جائے۔ آصفہ بھٹو کو انتخابات میں حصہ لینے کی بجائے سیاسی پختگی کے لیے سیاسی جلسے اور ریلیاں کروانا بہت ہے اور وقت آنے پر انہیں بھی

سیاسی جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی کتنے فیصد ہے؟

انتخابات میں حصہ لینے کا کہا جا سکتا ہے۔‘

Back to top button