کیا واقعی صدر علوی بزدل، بھگوڑا اور رانگ نمبر ہے؟

تحریک انصاف سے بلا چھن جانے کھ بعد پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل تاریک ہوتا دیکھ کر عمرانڈو آپس میں لڑنے لگے۔ تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شیر افضل مروت نے عمرانڈو صدر عارف علوی کو بزدل اور بھگوڑا قرار دے دیا۔ جس پر صدر علوی نے اپنی خدمات کی طویل فہرست گنواتے ہوئے مستقبل قریب میں ناقدین کو منہ توڑ جواب دینے کا عندیہ دے دیا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے اپنے ایک بیان میں صدر مملکت عارف علوی کو بزدل اور بھگوڑا قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ عارف علوی کے بیٹے عواب علوی نے پی ٹی آئی ٹکٹ کے لیے اپلائی کیا جس پر میں نے شدید مخالفت کی تھی۔
اس بیان کے بعد سماجی رابطے کی سائٹ پر ایک طوفان آیا جس پر عواب علوی نے خاموشی توڑتے ہوئے پہلی بار صدر مملکت کی عمران خان کے ساتھ وابستگی پر کھل کر لکھا
پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر شیر افضل مروت کے صدر عارف علوی سے متعلق بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
خیال رہے کہ شیر افضل مروت ان دنوں کراچی میں ہیں۔ انہوں نے وہاں صحافی طارق متین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ’میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف سے عارف علوی کا پتّا صاف ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس وقت ہمارے ساتھ دھوکہ کیا جب وہ حج چلے گئے اور انہوں نے چیئرمین سینٹ اور پی ڈی ایم کو قانون سازی کا موقع دیا۔‘‘نواز شریف کی جو نااہلی ختم ہوئی ، وہ قانون اس وقت بنایا گیا جب عارف علوی حج پر گئے تھے اور چیئرمین سینیٹ نے ایک رُولنگ دے دی۔ پھر اس دوران کئی متنازع قوانین بنے۔‘شیر افضل مروت نے کہا کہ ’اگر عارف علوی کہتے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم پر انہوں نے دستخط نہیں کیے تو میرا سوال ہے کہ آپ نے عدم اتفاق کہاں کیا۔ عارف علوی صاحب رانگ نمبر نکلے ہیں۔‘‘میری عمران خان کے ساتھ عارف علوی کے معاملے پر دو تین بار بات ہوئی۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ عارف علوی نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔‘
دوسری جانب شیر افضل مروت کے اس بیان کے بعد صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے تو کوئی ردعمل نہیں آیا تاہم ان کے بیٹے اوّاب علوی نے ایکس پر ایک طویل بیان پوسٹ کیا ہے۔اوّاب علوی کا بیان پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے بھی شیئر کیا گیا ہے۔
اوّاب علوی کا کہنا ہے کہ ’میں صریح الفاظ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ علوی خاندان لاکھوں پاکستانیوں کی طرح پورے عزم کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر عارف علوی کے جن فیصلوں کی وجہ سے کنفیوژن اور غلط تشریحات ہو رہی ہیں۔ دراصل وہ اپنے عہدے کی حساسیت کے پیش نظر بہت سے معاملات پر خاموش رہے لیکن ان سب فیصلوں کے پس منظر میں بہت تفصیلات ہیں۔‘اواب علوی نے مزید کہا کہ ’ان میں سے بہت سے باتیں منظر عام پر نہیں لائی جا سکتیں، جلد جب عمران خان جیل سے باہر آئیں گے تو ڈاکٹر علوی ہی انہیں بنا سکیں گے کہ گزشتہ چند مہینوں میں کیا کیا معاملات ہوئے۔‘’اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ صدارت کے عہدے کو عمران خان کی امانت سمجھتے ہیں۔ میں پی ٹی آئی کے حامیوں سے کہتا کہ وہ عارف علوی پر بھروسہ رکھیں۔‘
اس بحث پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ایک صارف حیدر نے لکھا کہ ’عارف علوی نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ وہ انتخابی نشانوں کے معاملے پر ابھی تک خاموش ہیں۔ کوئی ٹویٹ نہیں؟ اس فراڈ الیکشن کو انہوں نے دنیا کے سامنے بے نقاب کیوں نہ کیا۔‘
ایک صارف عثمان اعوان نے لکھا ’پیٹھ میں چھرا گھونپنا اور پھر کہنا کہ ہم عمران خان کے ساتھ ہیں۔ یہی منافقت ہے۔‘
دوسری جانب کچھ صارفین اواب علوی کے موقف پر مثبت تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ایک صارف عدنان سردار نے لکھا ’عارف علوی کی مجبوریاں سمجھ سکتے ہیں۔ تفصیلی وضاحت کے لیے شکریہ۔‘۔
