عمرانڈو صدر عارف علوی لنگڑی بطخ کیسے بنے؟

عمرانڈو صدر عارف علوی کے منصب صدارت کی آئینی میعاد آج اختتام پذیر ہوجائے گی تاہم صدر کے قریبی ذرائع کے مطابق دندان ساز صدر نے مدت ختم ہونے کے باوجود استعفی دے کر گھر جانے کی بجائے عہدے سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا ہے، یعنی صدر علوی نے عزت سے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق کشیدہ صورتحال میں اپنے لئے محفوظ راستے کی تلاش کی سرگردانی نے صدر علوی کو مضمحل کردیا،صدر عارف علوی کے منصب کی آئینی میعاد جمعہ کی نصف شب اختتام پذیر ہوجائے گی تاہم انہوں نے ایوان صدر میں اب (LAME DUCK) یعنی لنگڑی بطخ صدر کی طرح اس وقت تک قیام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک عام انتخابات کے بعد ان کے جانشین کاچنائو نہ ہوجائے۔ صدر علوی قصرصدارت کے مکین رہ کراپنی سیاسی جماعت کے مقاصدکو روایتی طور پر تحفظ فراہم کرنے میں کوشاں رہیں گے اس حوالے سے علوی نے اپنی مدر پارٹی یعنی تحریک انصاف کی دستیاب قیادت سے طویل مشورے مکمل کرلئے ہیں جس میں اس جماعت کے قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ صدر علوی نے ایوان صدر کے اپنے عملے کو اشارہ دیدیاتھا کہ وہ 9 ستمبر کو ہفتے کے روز ایوان صدر کی بیرونی راہداری میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کرینگے جو اس امر کی علامت اور اعلان ہوگا کہ وہ اب اس ایوان کے مکین نہیں رہے جس کے بعد تاحال خاموشی طاری ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ مہینوں کی کشیدہ صورتحال اور عارف علوی کے لئے اس میں اپنے لئے محفوظ راستے کی تلاش کی سرگردانی نے انہیں مضمحل کردیاہے ان کے وزن میں کمی واقع ہوگئی ہے وہ صحت کے مسائل سے دوچار ہو چکے ہیں جن میں اعصابی اضمحلال بھی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر علوی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئین کی دفعہ 44 کا سہارا لیکر بدستور ایوان صدر میں براجمان رہیں گے تو انہیں اس عرصے میں معروف جمہوری ترکیب کےمطابق لنگڑی بطخ صدر بن کر رہنا ہوگا کیونکہ ان کے لئے کسی سیاسی جماعت میں قبولیت موجود نہیں وہ جس جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں اس کی قیادت کو فتنہ پروری اور ملک دشمنی جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے اس کے قابل ذکررہنما جیل میں ہیں یا مفرور ہو کر زیر زمین چلے گئے ہیں ان کی بعض حرکتوں کے باعث انتظامیہ ان سےگریز کررہی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ پیش آمدہ ایام میں ا نکی خواہشات کااحترام حسب سابق ہو اور ان کے احکام مانے جائیں۔ چند سرکاری کاغذات پر دستخط ثبت کرنے کےسوا انہیں کوئی ذمہ داری ادا نہیں کرنا ہوگی۔

پاکستان میں متعین نئے سفیروں اورہائی کمشنروں سے اسناد سفارت وصول کرنا ان کی ذمہ داری رہ جائےگا اور یوں وہ ایوان صدر میں محصور ہو کر رہ جائیں گے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ عارف علوی نے مزیدایام کے لئے ایوان صدر میں قیام کا ارادہ کرلیا توانہیں تحریک انصاف کے رہنمائوں سے میل ملاپ کرنا بھی دشوار ہوجائے گا۔انتظامیہ ان سے ملاقات کے لئے آنے والوں کی سخت جانچ پڑتال کا نظام نافذکرسکتی ہے آئندہ وفاقی دارالحکومت سےبا ہر جانے کے لئے خصوصی طیارہ حاصل کرنا ان کے لئے آسان نہیں ہوگا وہ ایوان صدر میں قیام کو بڑھاتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں ملک کے وزیراعظم سے درخواست کرکے طیارہ حاصل کرنا پڑے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپنی منتخب حیثیت کی بجائے آئین کی ایک شق سے اپنے منصب میں چند روزہ توسیع کشید کرنا اس وقت باطل ہوجاتا ہے جب سیاسی عہدے پر متمکن شخص سیاسی قبولیت سے محروم ہوجائے۔ تاہم دوسری طرف عارف علوی آج اپنی میعاد پوری کرکے رخصت ہوجاتے ہیں توانہیں اس کے دوسرے روز ہی بعض انتہائی سنگین مقدمات کاسامنا ہوگا جن میں قومی اسمبلی کو خلاف آئین توڑ دینے کا مقدمہ بھی شامل ہے انہیں اب وہ عدالتی تحفظ بھی دستیاب نہیں ہوگا جس کے بل پر وہ ماضی قریب میں ’’دلیرانہ‘‘ کارروائیاں کر گزرتے تھے۔ ان کے افراد خانہ پر ایوان صدر کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے جس میں صدر

جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس،پرویزالٰہی کاجوڈیشل ریمانڈ منظور

علوی نے مجرمانہ تائید فراہم کی تھی۔

Back to top button