پرائیویٹ وزٹ لیکن سرکاری جہاز، مریم نواز کا رگڑا نکل گیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک مرتبہ پھر اپنے سیاسی مخالفین کی سخت تنقید کی زد میں ہیں جس کی وجہ ان کا لندن کا ایک نجی دورہ بنا جسکے دوران انہوں نے اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی۔ مریم گزشتہ ہفتے لندن گئی تھیں، تاہم ان کے اس دورے کے لیے پنجاب حکومت کا سرکاری جیٹ استعمال کرنے پر تنقید کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کفایت شاری کے بھاشن دینے والی وزیر اعلی ایک پرائیویٹ تقریب میں شرکت کے لیے عوامی ٹیکسوں سے خریدے گئے جہاز پر بیرون ملک کیسے سفر کر سکتی ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ نے اس سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ لیکن اس سرکاری دعوے کی تصدیق نہیں ہو پائی۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مریم نواز نے جس گلف سٹریم طیارے پر سفر کیا وہ کئی ماہ سے شدید سیاسی اور عوامی تنقید کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس طیارے کی قیمت 38 سے 42 ملین ڈالرز یعنی 10 ارب روپے سے زیادہ ہے،
اس طیارے کی کہانی فروری 2026 میں تب سامنے آئی جب پنجاب حکومت کی جانب سے اس کے حصول کی اطلاعات منظرعام پر آئیں۔ اس طیارے کی ایوی ایشن رپورٹنگ کے مطابق یہ 2019 میں تیار کیا گیا اور دسمبر 2025 میں شمالی امریکا سے لاہور پہنچا۔ اس جہاز نے فروری 2026 میں پنجاب کے اندر پروازیں شروع کر دیں۔
اس کی خریداری پر پنجاب حکومت کو سب سے پہلے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک صوبائی حکومت کو اتنا مہنگا کاروباری جیٹ خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ وزیراعلی کے پھول میں پہلے ہی دو جہاز موجود تھے۔
ابتدا میں حکومت نے اس معاملے پر تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم شدید عوامی تنقید کے بعد وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی جانب سے یہ سرکاری وضاحت سامنے آئی کہ یہ طیارہ وزیراعلیٰ کے لیے محض VIP سفری سہولت نہیں بلکہ مجوزہ ایئر پنجاب کے منصوبے کا حصہ ہے۔ پنجاب حکومت کی سرکاری ویب سائٹ بھی ایئر پنجاب کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے شروع کیا گیا نیا علاقائی ایئرلائن منصوبہ قرار دیتی ہے۔
لیکن حکومت کے اس مؤقف پر ایوی ایشن ماہرین نے بھی سوالات اٹھائے کیونکہ یہ جہاز صرف 17 نشستوں والا ہے اور اسے کمرشل ایئرلائن کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، یہ بھی کہا گیا کہ معمول کی کمرشل پروازوں میں استعمال ہونے والے چھوٹے ATR طیاروں میں بھی نشستوں کی تعداد اس جہاز سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
بظاہر حکومت پنجاب نے عوامی تنقید سے بچنے کے لیے جھوٹا موقف اپنایا تھا، یعنی ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ بول دیا گیا۔ حکومتی وضاحت وقت کے ساتھ کسی حد تک تبدیل بھی ہوئی۔ ابتدا میں ایئر پنجاب کے مجوزہ پول کا حصہ قرار دیے جانے کے بعد جب اس منصوبے کی عملی پیش رفت اور روڈ میپ پر سوالات اٹھے تو پنجاب حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعلیٰ کے زیر استعمال سابق طیارہ پرانا ہو چکا تھا اور اسے ایک محفوظ نئے جیٹ سے تبدیل کرنے کی اشد ضرورت تھی۔ مختصر یہ کہ حکومت اس معاملے پر کبھی ایک موقف اپناتی تھی اور کبھی دوسرا۔
یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے حالیہ لندن کے سفر نے پرانے تنازع کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
اب ناقدین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر گلف سٹریم طیارہ بنیادی طور پر ایئر پنجاب کے لیے حاصل کیا گیا تھا تو وزیراعلیٰ کے ایک نجی خاندانی پروگرام کے لیے اسے بین الاقوامی سفر پر کیوں استعمال کیا گیا۔ اس سوال نے اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ ریاستی وسائل، سرکاری عہدے دار کے سفری تقاضوں اور ذاتی نوعیت کے دوروں کے درمیان حد کہاں قائم کی جانی چاہیے۔ اپوزیشن نے اس معاملے کو سرکاری وسائل کے غیرضروری استعمال سے جوڑتے ہوئے مریم نواز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی رہنماؤں نے اربوں روپے کے VIP طیارے کی خریداری کو معاشی مشکلات کے دور میں غیرضروری خرچہ قرار دیا تھا، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بھی پنجاب حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے تازہ ردعمل میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لندن سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ہیں، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ نجی دورے کا مالی بوجھ سرکاری خزانے پر ڈالا گیا۔ تو ہم انہوں نے اس خرچے کی تفصیل نہیں بتائی جس سے ان کا دعوی سچ ثابت ہو سکے۔ اس سے پہلے مارچ 2026 میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ سرکاری طیارے کے بارے میں جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہاں، ہم نے خریدا ہے جہاز، اگر کسی کو تکلیف ہے تو ہوتی رہے۔
